رسائی کے لنکس

منہاس ایئربیس پر حملہ کرنے والے دہشت گرد ہلاک

کامرہ سمیت ملک کی تمام حساس تنصیبات کی سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے
کامرہ سمیت ملک کی تمام حساس تنصیبات کی سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے

خود کار ہتھیاروں اور راکٹ بموں سے لیس خودکش بمباروں نے منہاس ائربیس پر طلوع آفتاب سے قبل اچانک دھاوا بول دیا جنہیں سکیورٹی فورسز نے ہلاک کردیا۔

پاکستانی حکام نے کہا ہےکہ کامرہ میں فضائیہ کی ’منہاس ائربیس‘‘ پر خودکار ہتھیاروں اور راکٹوں سے لیس آٹھ خودکش حملہ آوروں نے جمعرات کو طلوع آفتاب سے قبل اچانک دھاوا بول دیا جنہیں شدید لڑائی کے بعد سکیورٹی فورسز نے ہلاک کردیا۔

فضائیہ کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی ان جھڑپوں میں ایک فوجی ہلاک اور بیس پر موجود 30 سے زائد طیاروں میں سے صرف ایک کو معمولی نقصان پہنچا۔


صوبہٴ پنجاب کے اٹک ضلع میں واقع پاکستان فضائیہ کی اس تنصیب میں داخل ہونے کے بعد خودکش حملہ آور جب اُس مقام کی طرف بڑھنے لگے جہاں طیارے کھڑے تھے تو وہاں تعینات محافظوں نے اُن پر فائرنگ شروع کردی۔

منہاس ائر بیس پر حملہ

کامرہ میں فضائیہ کی منہاس ائر بیس کا داخلی راستہ
1/14 کامرہ میں فضائیہ کی منہاس ائر بیس کا داخلی راستہ
خود کار ہتھیاروں اور راکٹ بموں سے لیس خودکش بمباروں نے منہاس ائربیس پر طلوع آفتاب سے قبل اچانک دھاوا بول دیا جنہیں سکیورٹی فورسز نے ہلاک کردیا۔
مزید Show less
کامرہ میں فضائیہ کی منہاس ائر بیس پر فوجی اہلکار تعینات
2/14 کامرہ میں فضائیہ کی منہاس ائر بیس پر فوجی اہلکار تعینات
خود کار ہتھیاروں اور راکٹ بموں سے لیس خودکش بمباروں نے منہاس ائربیس پر طلوع آفتاب سے قبل اچانک دھاوا بول دیا جنہیں سکیورٹی فورسز نے ہلاک کردیا۔
مزید Show less
An Iranian mourner covers his head with mud during Ashura rituals, marking the death anniversary of Imam Hussein, the grandson of Islam's Prophet Muhammad, at the city of Bijar, west of the capital Tehran.
3/14 An Iranian mourner covers his head with mud during Ashura rituals, marking the death anniversary of Imam Hussein, the grandson of Islam's Prophet Muhammad, at the city of Bijar, west of the capital Tehran.
خود کار ہتھیاروں اور راکٹ بموں سے لیس خودکش بمباروں نے منہاس ائربیس پر طلوع آفتاب سے قبل اچانک دھاوا بول دیا جنہیں سکیورٹی فورسز نے ہلاک کردیا۔
مزید Show less
سکیورٹی اہلکار اپنی پوزیشن سنبھالے ہوئے
4/14 سکیورٹی اہلکار اپنی پوزیشن سنبھالے ہوئے
خود کار ہتھیاروں اور راکٹ بموں سے لیس خودکش بمباروں نے منہاس ائربیس پر طلوع آفتاب سے قبل اچانک دھاوا بول دیا جنہیں سکیورٹی فورسز نے ہلاک کردیا۔
مزید Show less
Shia Muslim boys flagellate themselves during a Muharram procession ahead of Ashura in Amroha, in the northern Indian state of Uttar Pradesh. Ashura, which falls on the 10th day of the Islamic month of Muharram, commemorates the death of Imam Hussein, grandson of Prophet Mohammad, who was killed in the 7th century battle of Kerbala.
5/14 Shia Muslim boys flagellate themselves during a Muharram procession ahead of Ashura in Amroha, in the northern Indian state of Uttar Pradesh. Ashura, which falls on the 10th day of the Islamic month of Muharram, commemorates the death of Imam Hussein, grandson of Prophet Mohammad, who was killed in the 7th century battle of Kerbala.
خود کار ہتھیاروں اور راکٹ بموں سے لیس خودکش بمباروں نے منہاس ائربیس پر طلوع آفتاب سے قبل اچانک دھاوا بول دیا جنہیں سکیورٹی فورسز نے ہلاک کردیا۔
مزید Show less
مہران بیس کراچی میں دھماکے کے بعد جہاز آگ کی لبیٹ میں
6/14 مہران بیس کراچی میں دھماکے کے بعد جہاز آگ کی لبیٹ میں
خود کار ہتھیاروں اور راکٹ بموں سے لیس خودکش بمباروں نے منہاس ائربیس پر طلوع آفتاب سے قبل اچانک دھاوا بول دیا جنہیں سکیورٹی فورسز نے ہلاک کردیا۔
مزید Show less
 تعینات مہران بیس پر سکیورٹی اہلکار
7/14 تعینات مہران بیس پر سکیورٹی اہلکار
خود کار ہتھیاروں اور راکٹ بموں سے لیس خودکش بمباروں نے منہاس ائربیس پر طلوع آفتاب سے قبل اچانک دھاوا بول دیا جنہیں سکیورٹی فورسز نے ہلاک کردیا۔
مزید Show less
مہران بیس پر حکام کا معائنہ
8/14 مہران بیس پر حکام کا معائنہ
خود کار ہتھیاروں اور راکٹ بموں سے لیس خودکش بمباروں نے منہاس ائربیس پر طلوع آفتاب سے قبل اچانک دھاوا بول دیا جنہیں سکیورٹی فورسز نے ہلاک کردیا۔
مزید Show less
ایک ہیلی کاپٹر مہران بیس کی فضائی نگرانی کرتے ہوئے
9/14 ایک ہیلی کاپٹر مہران بیس کی فضائی نگرانی کرتے ہوئے
خود کار ہتھیاروں اور راکٹ بموں سے لیس خودکش بمباروں نے منہاس ائربیس پر طلوع آفتاب سے قبل اچانک دھاوا بول دیا جنہیں سکیورٹی فورسز نے ہلاک کردیا۔
مزید Show less
ایک دہشت گرد جو مہران بیس پر حملے میں ہلاک ہوا
10/14 ایک دہشت گرد جو مہران بیس پر حملے میں ہلاک ہوا
خود کار ہتھیاروں اور راکٹ بموں سے لیس خودکش بمباروں نے منہاس ائربیس پر طلوع آفتاب سے قبل اچانک دھاوا بول دیا جنہیں سکیورٹی فورسز نے ہلاک کردیا۔
مزید Show less
جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی پر عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد سکیورٹی ہائی الرٹ
11/14 جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی پر عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد سکیورٹی ہائی الرٹ
خود کار ہتھیاروں اور راکٹ بموں سے لیس خودکش بمباروں نے منہاس ائربیس پر طلوع آفتاب سے قبل اچانک دھاوا بول دیا جنہیں سکیورٹی فورسز نے ہلاک کردیا۔
مزید Show less
جنرل ہیڈکوارٹرز کا داخلی راستہ
12/14 جنرل ہیڈکوارٹرز کا داخلی راستہ
خود کار ہتھیاروں اور راکٹ بموں سے لیس خودکش بمباروں نے منہاس ائربیس پر طلوع آفتاب سے قبل اچانک دھاوا بول دیا جنہیں سکیورٹی فورسز نے ہلاک کردیا۔
مزید Show less
جنرل ہیڈکوارٹرز کا ایک منظر 
13/14 جنرل ہیڈکوارٹرز کا ایک منظر 
خود کار ہتھیاروں اور راکٹ بموں سے لیس خودکش بمباروں نے منہاس ائربیس پر طلوع آفتاب سے قبل اچانک دھاوا بول دیا جنہیں سکیورٹی فورسز نے ہلاک کردیا۔
مزید Show less
جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی کے داخلی راستے پر سکیورٹی اہلکار تعینات
14/14 جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی کے داخلی راستے پر سکیورٹی اہلکار تعینات
خود کار ہتھیاروں اور راکٹ بموں سے لیس خودکش بمباروں نے منہاس ائربیس پر طلوع آفتاب سے قبل اچانک دھاوا بول دیا جنہیں سکیورٹی فورسز نے ہلاک کردیا۔
مزید Show less
Previous slide
Next slide

مشتبہ عسکریت پسندوں نے راکٹ بموں سے جوابی کارروائی کی جس کے بعد کم از کم چار گھنٹوں تک وہاں پر شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا۔


فضائیہ کے ترجمان نے بتایا کہ کمانڈوز کی مدد سے حملہ آوروں کے خلاف آپریشن کی قیادت کرنے والے بیس کمانڈر ائرکموڈور محمد اعظم لڑائی میں زخمی ہو گئے مگر اُن کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ ’’ایک خودکش بمبار کی بارود میں لپٹی لاش لڑائی والے علاقے سے ملی ہی۔‘‘

خودکش بمباروں کی عمریں 19 اور 33 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں جن میں سے بعض نے فوجی وردیاں پہن رکھیں تھیں۔

وفاقی وزیر دفاع نوید قمر نے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ حملہ آور تنصیب پر تباہی پھیلا کر پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو کمزور کرنا چاہتے تھے۔ ’’مگر ہم نے کم از کم نقصان کے ساتھ اُن کا خاتمہ کیا۔‘‘

دہشت گردی کی ممکنہ کارروائی کے بارے میں پیشگی اطلاع دینے میں خفیہ اداروں کی ناکامی سے متعلق سوال پر اُنھوں نے کہا کہ کسی بھی صورت حال میں ایک حد تک دفاع ممکن ہوتا ہے۔

’’یہ تنصیب شہری آبادی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، یہ ایک مسئلہ ہے ... (جس کی وجہ سے) ہر وقت وہاں سے دراندازی کا خطرہ رہتا ہے۔‘‘

تاہم سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے اُن کے اس موقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدت پسندوں کی کارروائی بہرہال خفیہ اداروں کی ناکامی ہے۔

اُنھوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فوجی تنصیبات پر حملوں میں ربط نظر آ رہا ہے۔
سینیٹر مشاہد حسین
سینیٹر مشاہد حسین

’’ایسا لگتا ہے کہ یہ انتہائی منظم اور پُرجوش دہشت گرد تنظیمیں بلا خوف و خطر اپنی مرضی کے اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہو رہی ہیں، جن میں انتہائی حساس فوجی تنصیبات بھی شامل ہیں۔‘‘

مشاہد حسین نے کہا کہ اگرچہ پاکستانی فوج کی دہشت گردی کے خلاف کوششیں خاصی حد تک کامیاب رہی ہیں، مگر حکومت اور مذہبی رہنماؤں کے درمیان اس سلسلے میں عدم تعاون کے باعث ایک موثر قومی حکمت عملی کا فقدان ہے۔

پاکستان فضائیہ کے ترجمان نے کامرہ میں ائربیس پر جوہری ہتھیاروں کی موجودگی کی اطلاعات کی تردید کی ہے۔ ’’پاکستان کی کوئی ائربیس بھی جوہری ہتھیاروں سے مسلح نہیں۔‘‘

فضائیہ کے سربراہ ائر مارشل طاہر رفیق بٹ نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم جاری کرتے ہوئے صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے اسلام آباد ائرہیڈکوارٹر میں جمعرات کو ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔

منہاس ائربیس دارالحکومت اسلام آباد سے 75 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے جو فضائیہ کے ایک بڑے تحقیقاتی و ترقیاتی مرکز ’پاکستان ائروناٹیکل کمپلیکس‘ سے متصل ہے۔

اس بیس پر موجود لڑاکا طیاروں میں چین کے اشتراک سے تیار کیے گئے ’جے ایف سترہ تھنڈر‘ بھی شامل ہیں جبکہ بڑی تعداد میں چینی ماہرین بھی ان کی دیکھ بھال کے لیے یہاں تعینات ہیں۔
اطلاعات کے مطابق تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے منہاس ائربیس پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ’’ہمیں اس آپریشن پر فخر ہے۔ ہماری قیادت نے خاصا عرصے پہلے کامرہ بیس پر حملے کا فیصلہ کیا تھا۔‘‘

یہ امر قابل ذکر ہے کہ صوبائی حکام نے خفیہ معلومات کی روشنی میں گزشتہ ہفتے مرتب کی گئی اپنی رپورٹ میں پاکستان فضائیہ کی تنصیبات پر ممکنہ حملوں کے خدشے کا اظہار بھی کیا تھا۔

گزشتہ سال کراچی میں پاکستان بحریہ کی ایک اہم تنصیب مہران بیس پر بھی مشتبہ عسکریت پسندوں نے حملہ کیا تھا۔


مہران بیس پر حملے میں تباہ ہونے والا طیارہ
مہران بیس پر حملے میں تباہ ہونے والا طیارہ
سولہ گھنٹوں تک جاری رہنے والی دہشت گردی کی اس کارروائی میں دس فوجی اہلکار ہلاک جبکہ سمندری حدود کی نگرانی کرنے والےنیوی کے دو قیمتی جہاز تباہ اور ایک کو جزوی نقصان پہنچا تھا۔

اس سے قبل راولپنڈی میں فوج کا جنرل ہیڈکوارٹرز بھی مشتبہ طالبان شدت پسندوں کےحملے کا نشانہ بن چکا ہے۔

پاکستانی فوج اور فضائیہ ملک کے شمال مغربی پہاڑی علاقوں میں مشتبہ طالبان جنگجوؤں کے خلاف مشترکہ آپریشنز کرتے آئے ہیں۔

اس سلسلے کی تازہ کارروائیاں گزشتہ ہفتے اورکزئی ایجنسی نامی قبائلی علاقے میں کی گئیں جن میں حکام نے لڑاکا طیاروں کی بمباری میں دو درجن سے زائد مشتبہ طالبان جنگجوؤں کو ہلاک اور ان کے متعدد ٹھکانے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

​
XS
SM
MD
LG