رسائی کے لنکس

پاکستان سے توہین مذہب کا قانون منسوخ کرنے کا مطالبہ


جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے مختلف ممالک کے پرچم لہرا رہے ہیں( فائل فوٹو)

جنیوا میں پیر کو عالمی ادارے میں یونیورسل پریوڈک رویوی (یو آر پی) کے نام سے ایک پیش کی جانے والی ایک رپورٹ کے موقع پر وہاں امریکہ کی نمائندگی کرنے والے جیز بریسٹن اسٹریسٹ نے سفارش کی کہ پاکستانی حکومت توہین مذہب کے معاملے میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف تفتیش کرے۔

اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ توہین مذہب سے متعلق قانون اور اس تحت دی جانے والی سزائیں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں اور قانون کو جتنا جلدی ممکن ہو منسوخ کر کے نیا قانون نافذ کیا جائے۔

پاکستان میں بھی بعض حلقے بشمول انسانی حقوق کے کارکن یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ توہین مذہب سے متعلق قانون میں ترمیم کی جائے، تاکہ اس قانون کے ممکنہ غلط استعمال کو روکا جا سکے۔

تاہم یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور اس پر بات کرنے سے بھی گریز کیا جاتا ہے۔

حال ہی میں انتخابي حلف نامے میں ختم نبوت کی شق میں مبینہ تبدیلی پر ایک سخت گیر مذہبی و سیاسی جماعت تحریک لبیک یا رسول اللہ کا گذشتہ ایک ہفتے سے جاری ہے اور یہ تنظیم وفاقی وزیر قانون کے استعفٰی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

جنیوا میں منعقدہ اجلاس میں پاکستان میں اقلیتوں کو درپیش مشکلات خاص ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایسے اقدامات ضروری ہے کہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے بغیر کسی امتیازی سلوک کے انتخابي عمل میں حصہ لے سکیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG