رسائی کے لنکس

logo-print

پاک افغان سرحد پر 'مزید 48 چیک پوسٹیں قائم'


فائل فوٹو

پاکستان کے وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاک افغان سرحد پر اسمگلنگ اور شدت پسند عناصر کی نقل و حرکت کو روکنے لیے مزید 48 سرحدی چوکیاں قائم کی گئی ہیں۔

وزیر داخلہ نے یہ بات جمعے کو پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں ایک سوال کے تحریری جواب میں کہی۔

پاکستان کے وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کو پکڑنے کے لیے انٹیلی جینس معلومات کی بنیاد پر سرچ آپریشن میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ پاک ایران بارڈرکی ساحلی پٹی پر اسلحہ اور منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو روکنے لیے 79 سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر سرحدی محافظوں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ احسن اقبال کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب افغانستان اور امریکہ کی طرف سے ان شدت پسندوں کے خلاف موثر کارووائی کے مطالبات کیے جارہے کہ جو سرحد پار عسکری کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

پاکستان کا موقف ہے کہ وہ ہر قسم کے دہشت گردوں کی خلاف موثر کاررائیاں جاری رکھے ہے اور وزیر داخلہ کے مطابق حالیہ اقدام کا مقصد سرحد کے آرپار ناپسندیدہ عناصر کی نقل و حرکت کو روکنا ہے۔

دفاعی امور کے تجزیہ اور پاکستانی فوج کے سابق بریگیڈئیر سعد محمد کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کو روکنے لیے یہ اقدام کسی حد تک موثر ہو سکتے ہیں۔

جمعے کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ اس کی وجہ بننے والے بنیادی عوامل کو دور کرنے سے ہی ممکن ہے۔

سعد محمد نے مزید کہا کہ کہ دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد اور کابل کے باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے اور ان کے بقول یہ اسی صورت ممکن ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد مکمل طور پر بحال ہو گا۔

دوسری طرف پاکستان کے سینیر پختون راہنما اور عوامی نیشنل پارٹی کے لیڈر اسفندر یار ولی نے چارسدہ میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا کہ دونوں ملکوں کا امن ایک دوسرے سے وابستہ ہے۔

حالیہ سالوں میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات تناؤ کا شکار رہے ہیں تاہم حالیہ مہینوں میں اسلام آباد اور کابل کے درمیان ہونے والےاعلیٰ سطحٰ کے رابطوں کے بارے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ باہمی تعلقات کو بہتر کرنے میں معاون ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG