رسائی کے لنکس

احمدیت سے مبینہ تعلق پر نوکری سے برخاست شخص کی عدالت سے اپیل


لاہور ہائی کورٹ (فائل فوٹو)
لاہور ہائی کورٹ (فائل فوٹو)

شوکت رؤف کا موقف ہے کہ ان کے خلاف شکایت پر کی جانے والی محکمانہ تحقیقات میں ان کا موقف نہیں سنا گیا جو کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کے ان کے بنیادی حق کی صریح خلاف ورزی تھی۔

پاکستان کی ایک عدالت نے ایک استاد کو مبینہ طور پر احمدی فرقے سے تعلق رکھنے کی بنیاد پر نوکری سے برخاست کیے جانے پر صوبائی محکمہ تعلیم سے جواب طلب کیا ہے۔

شوکت رؤف نامی شخص نے ملازمت سے برطرف کیے جانے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی تھی جس میں انھوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے ایک ساتھی استاد کی شکایت پر بغیر ان کا موقف جانے انہیں نوکری سے برخاست کیا گیا۔

ان کے بقول وہ مسلمان ہیں اور ختمِ نبوت پر ایمان رکھتے ہیں جب کہ انھوں نے اسلامیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے۔

شوکت رؤف کا موقف ہے کہ ان کے خلاف شکایت پر کی جانے والی محکمانہ تحقیقات میں ان کا موقف نہیں سنا گیا جو کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کے ان کے بنیادی حق کی صریح خلاف ورزی تھی۔

عدالت عالیہ کے جج جسٹس جواد حسن نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد صوبائی محکمۂ تعلیم کے سیکرٹری اسکولز سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت دو ہفتے تک ملتوی کر دی۔

پاکستان کے آئین کے مطابق احمدی غیر مسلم ہیں اور انھیں کھلے عام اپنے عقیدے کی پیروی اور خود کو مسلمان ظاہر کرنے کی ممانعت ہے۔

اسی بنا پر سخت گیر مذہبی موقف رکھنے والوں کی طرف سے اس فرقے کو ایذا رسانیوں کا سامنا رہا اور اس برادری کے لوگوں پر مہلک حملے بھی ہوتے رہے ہیں۔

ایسے واقعات بھی دیکھنے میں آ چکے ہیں کہ کسی پر توہین مذہب کا الزام عائد کرنے کے علاوہ احمدی فرقے سے تعلق جوڑ کر بھی کسی شخص کی جان کو خطرے میں ڈالا جاتا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG