رسائی کے لنکس

logo-print

چیئرمین نیب کی تقرری کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت


سینئرجج تصدق حسین جیلانی کا کہنا تھا کہ آئین میں دیے گئے طریقہ کار کے مطابق وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف سے مشاورت کے بعد ہی نیب کے سربراہ کی تقرری ممکن ہے

سپریم کورٹ نے موجودہ قومی احتساب بیورو کے سربراہ کی تقرری کے خلاف دائر درخواست کی پیر کو سماعت ہوئی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اس اہم عہدے پر تقرری کے طریقہ کار میں چند بنیادی مشکلات ہیں، جس وجہ سے حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان اس معاملے پر اختلافات کو دور کرنا بظاہر نا ممکن ہے۔

عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس تصدق حسین جیلانی کا کہنا تھا کہ آئین میں دیے گئے طریقہ کار کے مطابق وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف سے مشاورت کے بعد ہی نیب کے سربراہ کی تقرری ممکن ہے مگر ان میں اختلاف کی صورت میں کوئی حل تجویز نہیں کیا گیا۔

’’یہ معاملہ دو افراد کے درمیان ہے... صدر اور قائد حزب اختلاف ... مگر یہ کیسے حل ہو گا اگر ان میں (کسی نام پر) اتفاق نا ہو؟ ایسی صورت حال کے حل کا کوئی طریقہ کار نہیں۔‘‘

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما چوہدری نثار علی خان نے نیب کے چیرمین فصیح بخاری کی تقرری کے خلاف درخواست میں الزام لگایا ہے کہ آئین میں درج طریقہ کار کو بلائے طاق رکھتے ہوئے ان سے اس بارے میں کوئی مشاورت نہیں کی۔ اس لیے فصیح بخاری کی 2011 میں ہونے والی تقرری کو کالعدم قرار دیا جائے۔

چوہدری نثار کے وکیل اکرم شیخ کا عدالت میں کہنا تھا کہ صدر اور قائد حزب اختلاف میں اختلاف کی صورت میں سپریم کورٹ کے ماضی کے ایک فیصلے میں پیش کردہ تجویز کے مطابق چیف جسٹس کے پاس اس سے متعلق فیصلہ کرنے کا حق ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر اور قائد حزب اختلاف کے درمیان مشاورتی عمل ’’نتیجہ خیز اور اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے ہونا چاہئے‘‘ اور ان کے موکل کی تجویز کو اہمیت نا دی گئی کہ حکومت کی جانب سے ایک کی بجائے تین افراد کے نام نیب چیئرمین کے عہدے کے لیے پیش کیے جانے چاہیئے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا اس پر کہنا تھا کہ اگر اس وقت کے قائد حزب اختلاف کو بخاری صاحب کی تقرری پر تحفظات تھے تو صدر کی جانب سے خط کے جواب میں ان کا اظہار کیوں نہیں کیا گیا؟

’’ہمارے یہاں روایت ہے کہ خاموشی کا مطلب ہاں سمجھا جا تا ہے۔ اگر آپ اسے اب سیٹ کریں گے تو بہت کچھ اب سیٹ ہو جائے گا۔‘‘

دفاع کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے درخواست گزار کے موقف کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ آئین میں درج طریقہ کار میں قائد حزب اختلاف کو تجویز دینے یا اس پر عمل در آمد کرنے کی کوئی شک موجود نہیں۔ ساعت کے بعد وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے اسے ’’غیر قانونی‘‘ قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ تقرری کے معاملے میں عدالت کی مداخلت اسے متنازع بنا سکتی ہے۔

’’پارلیمان کا کام ہے قانون سازی کرنا اس لئے جو کچھ قانون میں درج ہے یہ انہی پر چھوڑیے۔ اگر تجویز کرنا ہے تو پھر امریکہ کی طرح سینٹ کی ایک کمیٹی بن سکتی ہے جو کہ ایسی صورتحال کو نمٹ سکے۔ عدالت کو اس سے باہر رہنا چاہیے تاکہ ان کے ایوان عدل پر کوئی ابہام پیدا نا ہو۔‘‘

سینئر قانون دان اور سابق جسٹس طارق محمود کا بھی کہنا تھا کہ نیب چیرمین کی تقرری میں عدالت یا چیف جسٹس کی مداخلت موضوع نا ہوگی۔

’’بنیادی طور پر یہ ایگزیکٹو پوسٹ ہے۔ بہت سارے نیب کے احکامات آخر کار سپریم کورٹ میں آتے ہیں تو اگر چیرمین ہی ان کی کہنے پر لگا ہو تو ان کیسیز کی کیا پوزیشن ہوگی۔ دنیا بھر میں سوابدی اختیار ہوتے ہیں جنھیں مشکل صورتحال یا مقدموں میں استعمال کیا جاتا ہے تو ان میں کوئی مضائکہ نہیں اگر دیانتداری سے استعمال کیے جائیں۔‘‘

چوہدری نثار نے درخواست دو سال قبل سپریم کورٹ میں دائر کی تھی تاہم دفاع کی جانب سے وکلاء کی تبدیلی اور دیگر وجوہات ہر اس کی سماعت نا ہو سکی۔

چوہدری نثارعلی خان کی جماعت مسلم لیگ ن 11 مئی کے انتخابات میں کامیابی کے بعد عنقریب وفاق میں حکومت بنانے جا رہی ہے۔
XS
SM
MD
LG