رسائی کے لنکس

سرل المائڈا کا نام ’ای سی ایل‘ سے نکال دیا گیا


فائل فوٹو
فائل فوٹو

پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار کے حکم پر انگریزی اخبار ’ڈان‘ کے صحافی سرل المائڈا کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکال دیا گیا۔

صحافی سرل کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ وزیر داخلہ چوہدری نثار نے جمعہ کو اسلام آباد میں آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی ’اے پی این ایس‘ اور کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز ’سی پی این ای‘ کے وفود سے ملاقات میں کیا۔

اُدھر پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی زیر صدارت جمعہ کو ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنس کے بعد جاری بیان میں ایک ’’جھوٹی اور من گھڑت‘‘ خبر فیڈ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

بیان کے مطابق وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے ایک اہم اجلاس کے بارے میں ایسی خبر فراہم کرنا قومی سلامتی کی قانون شکنی ہے۔

گزشتہ ہفتے وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بارے میں صحافی سرل المائڈا نے اپنی خبر میں کہا تھا کہ بند کمرے کے اس اجلاس میں سیاسی قیادت نے فوج پر زور دیا کہ ملک میں موجود کالعدم تنظیموں اور غیر ریاستی عناصر کے خلاف کارروائی ضروری ہے بصورت دیگر پاکستان کو عالمی سطح پر سفارتی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار نے جمعرات کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ انگریزی روزنامہ ڈان کے صحافی سرل المائڈا کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ یعنی ’ای سی ایل‘ میں اس لیے شامل کیا گیا، تاکہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے متعلق چھپنے والی خبر کی انکوائری مکمل کی جا سکے۔

تاہم جمعہ کو اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے بعد چوہدری نثار نے کہا کہ صحافی سرل المائڈا کا نام ’ای سی ایل‘ سے نکلنے سے تحقیقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور انکوائری جاری رہے گی۔

حکومت کی طرف سے روزنامہ ’ڈان‘ کی خبر کو ’’من گھڑت اور حقائق کے منافی‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کی تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا۔

جب کہ چوہدری نثار نے جمعرات کو کہا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے متعلق’ڈان‘ اخبار میں چھپنے والی خبر سے اُن کے بقول پاکستان مخالف بیانیے کو ترویج ملی۔

اخبار ڈان کا اصرار ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے متعلق اُس کی خبر درست ہے اور معلومات کی تصدیق اور حقائق کی جانچ کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ صحافی سرل کا ’ایگزٹ کنٹرول لسٹ‘ شامل کرنے کے حکومتی فیصلے کے بعد مختلف حلقوں، انسانی حقوق کی مقامی و بین الاقوامی تنظیموں کے علاوہ صحافیوں کی نمائندوں تنظمیوں کی طرف سے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، سرل کے بیرون ملک سفر پر عائد پابندیاں فوری طور پر ختم کرنے کے مطالبات سامنے آئے تھے۔

XS
SM
MD
LG