رسائی کے لنکس

logo-print

دوہری شہریت کے وزیر اور مشیروں کا معاملہ ہے کیا؟


ٖفائل فوٹو

پاکستان کی سیاست میں دوہری شہریت کا معاملہ ایک مرتبہ پھر موضوع بحث بن گیا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے دوہری شہریت کے حامل وزیراعظم کے معاونین اور مشیران سے استعفی طلب کیے جانے مطالبہ کیا جارہا ہے تو دوسری طرف حکومت کی جانب سے وضاحتیں دی جاری ہیں۔

دوہری شہریت کا معاملہ کوئی نیا نہیں۔ کئی ارکان پارلیمان کو دوہری شہریت پر نااہلی کا سامنا کرنا پڑا۔ حال ہی میں کابینہ ڈویژن کی جانب سے نوٹیفکیشن سے معلوم ہوا ہے کہ 19 غیر منتخب کابینہ اراکین میں سے وزیراعظم کے 4 معاونین خصوصی دوہری شہریت کی حامل ہیں جس نے نئی بحث کی جنم دیا ہے۔

اس وقت جن معاونین خصوصی کی دوہری شہریت سامنے آئی ہے، ان میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر (امریکہ)، معاون خصوصی برائے بیرون ملک مقیم پاکستانی سید ذوالفقار عباس بخاری (برطانیہ)، معاون خصوصی برائے توانائی ڈویژن شہزاد قاسم (امریکہ) اور معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایس ایدروس (کینیڈا) کی شہریت کی حامل ہیں۔

اس کے علاوہ جو معاونین دیگر ممالک کی رہائش رکھتے ہیں، ان میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور شہباز گِل (امریکہ)، معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف (امریکہ)، معاون خصوصی برائے پارلیمانی کوآرڈینیشن ندیم افضل گوندل (کینیڈا) اور تانیہ ایدروس (سنگاپور) شامل ہیں۔

کون کب نااہل ہوا؟

سن 2012 میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے دوہری شہریت رکھنے والے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے گیارہ ارکان کو نااہل قرار دیتے ہوئے ان سے تمام مراعات اور تنخواہیں واپس لینے کا حکم دیا تھا۔

اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے قرار دیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 63 پی کے تحت ایسا شخص رکن اسمبلی بننے کا اہل نہیں جس کے پاس پاکستان کے علاوہ کسی دوسرے ملک کی شہریت بھی ہو۔

عدالتی فیصلے کے تحت جن ارکان کو نااہل قرار دیا گیا تھا ان میں فرح ناز اصفہانی، فرحت محمود خان، نادیہ گبول، زاہد اقبال، اشرف چوہان، وسیم قادر، احمد علی شاہ، ندیم خادم، جمیل ملک، محمد اخلاق اور آمنہ بٹر شامل تھے۔ جب کہ اس وقت کے وزیر داخلہ رحمان ملک کا نام بھی ان نااہل ہونے والوں کی فہرست میں سہرفہرست تھا۔

23 مارچ 2013 کو الیکشن کمیشن کی جانب سے دوہری شہریت پر نااہل قرار دئیے جانے والے سابق ارکان پارلیمان کی فہرست جاری کی گئی جس کے مطابق قومی اسمبلی سے تعلق رکھنے والے پانچ، سندھ اسمبلی سے تعلق رکھنے والے دو اور پنجاب اسمبلی کے پانچ ارکان کو نااہل قرار دیا گیا تھا۔

قومی اسمبلی کے نااہل ارکان کی فہرست میں چوہدری زاہد اقبال کا تعلق این اے 63 ساہیوال، جمیل ملک این اے 107 گجرات اور فرحت محمد خان کا تعلق این اے 245 کراچی سے تھا۔ جب کہ امریکہ میں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کی بیگم فرح ناز اصفہانی اور پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم کی شہناز شیخ خواتین کی مخصوص نشستوں پر قومی اسمبلی کی ممبرز تھیں۔

پنجاب اسمبلی کے جن پانچ ارکان کو دوہری شہریت رکھنے پر نااہل قرار دیا گیا تھا، ان میں محمد اخلاق کا تعلق پی پی 122 سیالکوٹ، ڈاکٹر محمد اشرف چوہان پی پی 92 گجرانوالہ سے، جب کہ چوہدری ندیم خادم کاتعلق پی پی 26 جہلم سے تھا۔

اس کے علاوہ خواتین کی مخصوص نشست پر پنجاب اسمبلی کی ممبر مس آمنہ بٹر اور اقلیتوں کی مخصوص نشست پر منتخب ہونے والے رانا آصف محمود کو دوہری شہریت پر نا اہل قرار دیا گیا تھا۔

سندھ اسمبلی کے نا اہل قرار پانے والوں میں ڈاکٹر احمد علی شاہ کا تعلق پی ایس 21 نو شہرو فیروز سے جب کہ نادیہ گبول خواتین کی مخصوص نشست پر سندھ اسمبلی کی ممبر بنی تھیں۔

دوہری شہریت پر سپریم کورٹ کا فیصلہ

2018 کے آوائل اور الیکشن سے قبل دوہری شہریت کا معاملہ دوبارہ موضوع بحث بنا تو اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے از خود نوٹس لیا اور 17 اکتوبر 2018 کو پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والی سینیٹر ہارون اختر اور سینیٹر سعدیہ عباسی کو نااہل قرار دے دیا تھا۔

اس وقت عدالتی احکامات پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ملک بھر میں دوہری شہریت اور غیرملکی شہریت کے حامل 1116 افسران کام کر رہے ہیں جب کہ ایک ہزار 2سو 49 افسران کی بیگمات دوہری شہریت اور غیرملکی شہریت کی بھی حامل ہیں۔

15 دسمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے فیصلے میں غیر ملکی شہریت رکھنے والے سرکاری ملازمین کو ریاست پاکستان کے مفاد کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے وفاقی و صوبائی حکومت کو دوہری شہریت سے متعلق قانون سازی کرنے کا حکم دیا تھا لیکن سیاسی مخالفت کے باعث یہ قانون سازی اج تک نہ ہو سکی۔

کس کس کے خلاف دوہری شہریت پر درخواستیں دائر ہوئیں؟

2018 میں ہی وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی زلفی بخاری کی تعیناتی کی چینلج کیا تھا لیکن عدالت نے ان کی تعیناتی کو وزیراعظم کا صوابدیدی اختیار قرار دیتے ہوئے ان کی اہلیت اور عہدے سے ہٹانے سے متعلق درخواست مسترد کر دی تھی۔

3 مارچ، 2020 کو اس طرح کے کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی تین خواتین، ملیکہ بخاری، کنول شوذب اور تاشفین صفدرکی نا اہلی کیلئے دائر کی گئی درخواستیں کو مسترد کر دیا تھا جب کہ موجودہ وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واڈا کی دوہری شہریت پر نااہلی کیلئے درخواست پر الیکشن کمشن میں سماعت جاری ہے۔ فیصل واوڈا نے عام انتخابات میں این اے 249 سے الیکشن میں کامیابی حاصل کی تھی۔ گزشتہ سال جنوری میں انکشاف کیا گیا تھا کہ فیصل واوڈا نے عام انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت دوہری شہریت کو چھپایا تھا۔

حکومت اور اپوزیشن کا مؤقف

اس معاملہ پر اپوزیشن نے سخت ردعمل دیا ہے اور حکومت کی طرف سے دوہری شہریت کے حامل افراد کو معاونین خصوصی بنانے پر تنقید کی جارہی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی شیری رحمان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چار معاون خصوصی کی دوہری شہریت ہے۔ میں نے منسٹر بننے سے پہلے برطانیہ کی ریزیڈنسی واپس کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اوورسیز پاکستان کے کردار کو سراہتے ہیں، لیکن یہاں مفادات کا تضاد سامنے نظر آ رہا ہے۔ عمران خان دوہری شہریت کی مخالفت کر چکے ہیں اور فیصلہ سازی میں صرف پاکستانی شہریت والوں کو ہونا چاہئے لیکن یہاں دوہری شہریت والے نجکاریاں کر رہے۔ آپ حساس وزارتوں میں دوہری شہریت والوں کو نہیں رکھ سکتے۔

شیری رحمان نے کہا کہ عمران خان کہتے تھے پاکستان کے لوگ ملک چلائیں گے لیکن اس پر بھی یو ٹرن لیا گیا ہے۔ مشیروں اور معاون خصوصی کی تعداد 19 ہے۔ 19 ارکان کی کارکردگی پر الگ بحث ہو سکتی ہے۔ یہ فصلی بٹیرے پیراشوٹ کی طرح آئے ہیں اور پیراشوٹ کی طرح جائیں گے۔

برطانوی شہریت کے حامل زوالفقار(زلفی) بخاری نے مسلم لیگ نواز کی جانب سے دوہری شہریت کے حوالے سے تنقید پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف سمیت کئی لیگی رہنما اقامہ ہولڈر ہیں۔ سیاسی دروغ گوہی کی بھی کوئی شرم، کوئی حیا ہوتی ہے۔ ہماری فکر چھوڑ کر پہلے اپنے اقاموں کا جواب دیں۔ ہمارا جینا مرنا پاکستان میں ہے۔

زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ دوہری شہریت کے حوالے سے وزیراعظم کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا گیا۔ شہباز گِل، معید یوسف، ندیم افضل کے پاس غیر ملکی پاسپورٹ نہیں۔ فرض کیجیے کوئی مشیر غیر ملکی رہائش رکھتا ہے تو بتایا جائے کہ قانون کہاں ٹوٹا؟؟ کابینہ اجلاس میں کسی کو بھی مدعو کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی دعوت پر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی کابینہ اجلاس میں مدعو کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیز کو ووٹ کا حق دینے کے لئے قانون سازی میں مزید ترمیم کر رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کے اگلے سیشن میں اس حوالے سے قانون سازی متوقع ہے۔

معاونین خصوصی کے معاملہ پر وفاقی وزیر فواد چوہدری کا ایک بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ایسے لوگ رکن اسمبلی نہیں بن سکتے، کابینہ میں جا کر کیسے بیٹھ گئے؟ انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق دوہری شہریت والا رکن اسمبلی نہیں بن سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت حکومت کا مشکل وقت، حکومت کی وجہ سے ہی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ(ن) کے مسلم لیگ کے رہنما خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غیر منتخب افراد کو نجکاری کمیٹی میں ڈال دیا گیا، جب کہ غیر منتخب دوہری شہریت والے کابینہ میں نہیں بیٹھ سکتے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ایوانوں میں دوہری شہریت والے غیرمنتخب افراد نہیں بیٹھ سکتے تو کابینہ میں کیسے بیٹھ سکتے ہیں؟ یہ کابینہ میں اس لیے بیٹھ سکتے ہیں کہ کوئی اے ٹی ایم ہے تو کوئی چہتا ہے۔ ہم اس کی مزاحمت کریں گے، اگر نجکاری شفاف نہ ہوئی تو عدالتوں میں چیلنج کریں گے۔

فیصل واوڈا کا کیس الیکشن کمیشن میں

دوہری شہریت چھپانے کے کیس میں تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی فیصل واوڈا کے خلاف الیکشن کمیشن میں کیس کی سماعت ہوئی لیکن وہ الیکشن کمیشن میں پیش نہ ہوئے۔ چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 5 رکنی الیکشن کمیشن نے وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا کے خلاف دوہری شہریت چھپانے کے الزام میں نااہلی کی درخواستوں پر سماعت کی، لیکن فیصل واوڈا کی جانب سے کوئی بھی الیکشن کمیشن میں پیش نہ ہوا۔

الیکشن کمیشن نے درخواست گزاروں سے درخواست قابل سماعت ہونے سے متعلق جواب طلب کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت پر آپ جواب جمع کرا کر دلائل دیں۔

الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر فیصل واوڈا کی جانب سے آئندہ سماعت پر کوئی پیش نہ ہوا تو یک طرفہ کارروائی کریں گے۔ الیکشن کمیشن نے درخواست گزاروں کو جواب جمع کرانے کے لیے 15 روز کی مہلت دے دی۔ گزشتہ سماعت پر فیصل واوڈا کے وکیل نے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض کیا تھا۔

فیصل واوڈا نے انتخابات میں این اے 249 سے کامیابی حاصل کی تھی۔ ان پر کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت امریکی شہریت کو چھپانے کا الزام ہے۔ ان پر الزام ہے کہ جس تاریخ کو فیصل واوڈا نے کاغذات نامزدگی اور کوئی اور شہریت نہ ہونے کا حلف نامہ دیا اس دن ان کے پاس امریکہ کی شہریت موجود تھی اور کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے چار دن بعد انہوں نے اپنی امریکی شہریت ختم کی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG