رسائی کے لنکس

logo-print

وزیرِ اعظم کے 6 معاونین دہری شہریت کے حامل، اثاثہ جات کی تفصیل جاری


زلفی بخاری

پاکستان میں وزیرِ اعظم عمران خان کے 15 معاونین خصوصی اور 6 مشیروں کے اثاثوں اور شہریت کی تفصیلات جاری کر دی گئی ہیں جس کے مطابق، وزیرِ اعظم کے معاونین خصوصی میں سے چھ دہری شہریت کے حامل ہیں اور کوئی بھی مشیر غیر ملکی شہریت کا حامل نہیں ہے۔

پاکستان کے قانون کے مطابق، کوئی بھی رکن اسمبلی اور وفاقی وزیر دہری شہریت کا حامل نہیں ہو سکتا۔ لیکن، کسی معاون خصوصی اور مشیر کے لیے ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔

وزیرِ اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر کابینہ ڈویژن کا لنک شیئر کیا اور کہا کہ وزیرِ اعظم کی ہدایت پر تمام معاونین خصوصی کے اثاثہ جات اور شہریت کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جا رہی ہیں۔

دہری شہریت

کابینہ ڈویژن کی جاری کردہ تفصیلات اور کابینہ ڈویژن کی ویب سائیٹ پر موجود تفصیلات کے مطابق، وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل امریکی گرین کارڈ ہولڈر ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے اپنی شہریت ظاہر نہیں کی تھی۔

پٹرولیم کے معاون خصوصی ندیم بابر سال 1999 سے امریکی شہریت رکھتے ہیں،
معاون خصوصی اوورسیز پاکستانیز زلفی بخاری مستقل برطانوی شہریت رکھتے ہیں۔

ندیم افضل چن کینیڈا کی شہریت رکھتے ہیں، جبکہ معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایدروس بھی کینیڈا کی شہری ہیں۔ تانیہ ایدروس سنگاپور کی مستقل رہائشی ہیں۔

معاون خصوصی برائے پاور ڈویژن شہزاد سید قاسم بھی امریکی شہریت کے حامل ہیں۔

معاونین خصوصی اور مشیران کے اثاثہ جات

کابینہ ڈویژن نے وزیر اعظم کے معاونین خصوصی اور مشیروں کے اثاثوں کی تفصیلات بھی جاری کردی ہیں۔

ندیم بابر

کابینہ ڈویژن کے مطابق، معاون خصوصی پٹرولیم ندیم بابر کے اثاثوں کی مالیت 2 ارب 75 کروڑ 28 لاکھ روپے ہے۔ ان کے دیے گئے ریکارڈ کے مطابق، ان کی پاکستان اور امریکہ میں جائیداد موجود ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر جو جائیداد کی قیمت انہوں نے لکھی ہے، اگر اس قیمت پر ہو تو کوئی بھی سرمایہ رکھنے والا شخص اسے فوری طور پر خریدنا چاہے گا۔ ندیم بابر کے مطابق، لاہور ماڈال ٹاؤن میں چار کنال کا گھر ایک کروڑ 75 لاکھ روپے؛ مری میں دو کنال کا گھر دس لاکھ روپے؛ رائیونڈ روڈ لاہور پر 24 کنال زمین ایک کروڑ روپے؛ رائیونڈ روڈ پر ہی آٹھ کنال زمین 35 لاکھ؛ ماڈل ٹاؤن میں تین کنال کا گھر تین کروڑ میں؛ بیٹے اور بیٹی کے نام 50,50 لاکھ کے ڈی ایچ میں پلاٹس اور امریکہ میں 3 کروڑ 11 لاکھ روپے کا ایک گھر بھی ہے۔ ندیم بابر کے تیس کے قریب کمپنیوں میں مختلف مالیت کی حصہ داریاں بھی ہیں۔

شہزاد اکبر

معاون خصوصی برائے احتساب اور وزیر مملکت داخلہ شہزاد اکبر کے اثاثوں کی مالیت 7 کروڑ 23 لاکھ سے زائد ہے۔ ان کے پاس گوجر خان میں وراثتی گھر اور زمینوں میں حصہ ہے اور اسلام آباد میں ایک پلاٹ ہے جبکہ گاڑی اور دیگر رقوم بھی شامل ہیں۔

تانیہ ایدروس

معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایدروس امریکا، برطانیہ، سنگاپور میں 45 کروڑ 26 لاکھ روپے مالیت کے مکانات کی مالک ہیں، جبکہ انہوں نے بیرونِ ملک میں ایک کروڑ 25 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی۔

تانیہ ایدروس نے 95 ہزار 789 ڈالر پاکستان منتقل کیے اور گاڑی خریدنے سمیت دیگر اخراجات کے لیے رقم بھی منگوائی۔

انہوں نے 82 لاکھ روپے مالیت کی گاڑی خریدی، جبکہ اُن کے پاس 50 تولہ سونے موجود ہے۔ تانیہ ایدروس پاکستان میں کسی بھی غیر منقولہ جائیداد کی مالک نہیں ہیں۔

لیفٹننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ

معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات عاصم سلیم باجوہ کے اثاثوں کی مالیت 16 کروڑ 10 لاکھ سے زائد ہے۔ ان کے پاس اسلام آباد، لاہور میں مختلف مالیت کے پلاٹس اور گھروں کے علاوہ رحیم یار خان اور بہاولپور میں زرعی اراضی بھی ہے۔

عبدالحفیظ شیخ

مشیر خزانہ عبد الحفیظ نے 13 کروڑ 50 لاکھ کا بنک بیلنس ظاہر کیا ہے۔ ان کے پاس 50 لاکھ مالیت کی گاڑی اور 20 لاکھ کے زیورات ہیں۔ حفیظ شیخ کے مطابق دبئی میں اہلیہ کے نام پر 13 کروڑ کا گھر ہے۔ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کے پاس 2 کروڑ کی زرعی اراضی بھی ہے۔

عبد الرزاق داؤد

مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد ایک ارب 35 کروڑ سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں۔ ان کے پاس ساڑھے 3 کروڑ کی زرعی اراضی ہے جب کہ انہوں نے شئیرز کی مد میں 52 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ عبدالرزاق داؤد نے 27 کروڑ جبکہ انکی اہلیہ نے 13 کروڑ کی سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے۔ انہوں نے 2 کروڑ 93 لاکھ کے سیونگ سرٹیفکیٹ خرید رکھے ہیں اور شئیرز کی مد میں 5 کروڑ کی سرمایہ کاری بھی ظاہر کی ہے۔ عبدالرزاق داؤد کے 4 کروڑ 15 لاکھ روپے جبکہ اہلیہ کے نام پر ساڑھے 7 کروڑ روپے کی جائیداد ظاہر کی ہے۔ ان کی اہلیہ 40 کروڑ روپے سے زائد اثاثوں اور 52 لاکھ مالیت کے 100 تولے سونے کی بھی مالک ہیں۔

شہباز گل

امریکی گرین کارڈ ہولڈ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل 11 کروڑ 85 لاکھ سےزائد اثاثوں کے مالک ہیں۔ شہباز گل کے پاس اسلام آباد گلبرگ گرین میں فارم ہاؤس اور رہائشی پلاٹ ہے، جبکہ امریکہ میں مارگیج پر ایک گھر بھی ہے۔ اہلیہ کے زیوارت اور گاڑی کے بھی مالک ہیں، شہباز گِل کے ذمے 2 کروڑ 42 لاکھ کے واجبات بھی ہیں۔

ملک امین اسلم

مشیر موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے اہلیہ کے نام 50 لاکھ کی سرمایہ کاری شیئرز کی مد میں کر رکھی ہے۔ انہوں نے ایک کروڑ 47 لاکھ روپے کا بینک بیلنس بھی اثاثہ جات میں ظاہر کیا ہے۔ ان کی اہلیہ کے نام پر 10 لاکھ 75 ہزار روپے کی جائیداد بھی ظاہر کی گئی ہے، جبکہ وہ وراثتی طور پر حاصل کی گئی 15 جائیدادوں کے بھی مالک ہیں۔

ملک امین اسلم کی اہلیہ کے نام پر 92 لاکھ روپے کی 3 گاڑیاں ہیں۔ ملک امین اسلم ایک لاکھ کے زرعی آلات، ڈیڑھ لاکھ کے فرنیچر کے بھی مالک ہیں۔

ندیم افضل چن

کینیڈین اور پاکستانی شہری ندیم افضل چن کے اثاثوں کی مالیت 3 کروڑ 80 لاکھ سے زائد ہے۔ ندیم افضل کے پاس سرگودھا میں وراثتی زرعی زمین ہے جبکہ لاہور، اسلام اباد اور ملکوال میں پلاٹس بھی موجود ہیں۔

ذوالفقار (زلفی) بخاری

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی زلفی بخاری ایک امیر شخصیت ہیں اور ان کے بیرون ملک اکاونٹس میں 17 لاکھ پاونڈ سے زائد کی رقم موجود ہے۔ وہ برطانیہ میں پونے چھ لاکھ پاونڈ کی چار گاڑیوں کے مالک ہیں۔
زلفی بخاری اور انکی اہلیہ کے پاس ساڑھے چھ لاکھ پاونڈ کے زیورات ہیں۔ 15لاکھ پاونڈ کی ایک اور سرمایہ کاری بھی زلفی بخاری کے اثاثوں میں شامل ہے۔

انہوں نے بیرون ملک دس لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ زلفی بخاری کے لندن فلیٹ کی مالیت 48 لاکھ 50ہزار پاونڈ ہے جب کہ کے پاکستانی اکاونٹ میں 23 لاکھ 50 ہزار روپے موجود ہیں۔ زلفی بخاری کی کوئی جائیداد پاکستان میں نہیں۔

بابر اعوان

مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان وراثتی طور پر حاصل کی گئی ساڑھے 16 کروڑ روپے کی جائیداد کے مالک ہیں۔ بابر اعوان نے سپین میں ایک کروڑ روپے کی جائیداد بھی ظاہر کی ہے۔

پارلیمانی امور کے مشیر 20 لاکھ روپے کے زیورات اور لاکھ روپے کے فرنیچر کے بھی مالک ہیں اور ان کے پاس ایک کروڑ 68 لاکھ روپے مالیت کی 6 گاڑیاں ہیں۔ مشیر پارلیمانی امور نے کاروبار میں 47 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ بابر اعوان نے 5 کروڑ سے زائد نقد رقم جبکہ 2 کروڑ سے زائد رقم بنک اکاونٹس میں ظاہر کی ہے۔ ان کے پاس 18 لاکھ روپے کے زرعی آلات ہیں جبکہ تین لاکھ روپے کی کلب ممبر شپ بھی حاصل کر رکھی ہے۔

شہزاد سید قاسم

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے توانائی کے شہزاد سید قاسم کے امریکہ میں بینک اکاونٹس میں 21 لاکھ ڈالر کی اور دبئی کے بینک اکاونٹس میں 18 لاکھ درہم کی رقم موجود ہے۔

شہزاد سید قاسم کے پاکستانی بینک اکاونٹس میں چار کروڑ 63 لاکھ روپے رکھے ہوئے ہیں، جب کہ ان کے پاس 97 لاکھ روپے مالیت کے چار پلاٹ ہیں اور دبئی میں ان کے تین گھروں کی مالیت دو کروڑ درہم سے زائد ہے۔

پاکستان میں انہوں نے 12 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ ان کی امریکا میں پراپرٹی کی قیمت 8 لاکھ 65 ہزار ڈالر ہے۔ دبئی میں ان کے پاس موجود دو گاڑیوں کی مالیت 3 لاکھ 55 ہزار درہم ہے جب کہ وہ 45 ہزار ڈالر کی بھی ایک گاڑی کے مالک ہیں۔

ڈاکٹر ظفر مرزا

معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کے اثاثوں کی مالیت 6 کروڑ 3 لاکھ روپے ہے معاون خصوصی کے پاس 2 کروڑ روپے مالیت کا گھر اور 3 کروڑ کے پلاٹس بھی ہیں، اہلیہ کے پاس 20 لاکھ روپے مالیت کے زیورات بھی ہیں۔

عثمان ڈار

مشیر برائےامور نوجواناں عثمان ڈار 6 کروڑ 18 لاکھ سے زائد مالیت کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ عثمان ڈار نے سیالکوٹ میں زرعی اراضی اور کارروبار کی مالیت ظاہر نہیں کی۔

ثانیہ نشتر

معاون خصوصی اور احساس پروگرام کی چئیرپرسن ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے اکاؤنٹس میں ایک کروڑ 48 لاکھ روپے ہیں جب کہ وہ پانچ لاکھ کے زیورات کی بھی مالک ہیں۔ ان پاس موجود ہنڈا سوک کار شوہر کے نام پر ہے۔

شہزاد ارباب

معاون خصوصی اسٹیبشلمنٹ شہزاد ارباب جن کا عہدہ وفاقی کے وزیر برابر ہے، ان کے اثاثوں کی مالیت 12 کروڑ 73 لاکھ روپے سے زائد ہے۔ شہزاد ارباب دس کروڑ سے زائد مالیت کے پلاٹس اور گھروں کے مالک ہیں۔

یار محمد رند

معاون خصوصی برائے پانی وی بجلی، پیٹرولیم و قدرتی ذرائع برائے بلوچستان یار محمد رند کے اثاثوں کی مالیت 81 کروڑ 24 لاکھ روپے ہے۔

یار محمد رند 640 تولہ سونے کے علاوہ سندھ، بلوچستان اور دیگر مقامات پر زرعی اراضی کے مالک ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے پاس وراثتی پلاٹس، مکانات اور دیگر جائیدادیں بھی موجود ہیں۔ یار محمد رند دبئی میں اپارٹمنٹ کے بھی مالک ہیں۔

علی نواز اعوان

معاون خصوصی برائے سی ڈی اے امور، علی نواز اعوان 13 کروڑ 48 لاکھ روپے مالیت کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ ان کی اہلیہ کے پاس 75 تولے سونا موجود ہیں۔ ان کے پاس اسلام آباد میں فلیٹ، رہائشی پلاٹ اور زرعی زمین بھی موجود ہے۔

عشرت حسین

وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر عشرت حسین مجموعی طور پر 29 کروڑ 42 لاکھ 22 ہزار کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ وہ امریکا میں تین جائیدادوں کے مالک ہیں۔

پاکستان میں قانون کے مطابق، تمام ارکان قومی اسمبلی و سینیٹ کو اپنے اثاثے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں ظاہر کرنا ضروری ہیں اور اگر کوئی رکن ایسا کرنے میں ناکام رہے تو اس کی رکنیت معطل کر دی جاتی ہے۔ لیکن، پاکستان میں پہلی بار معاونین خصوصی اور مشیران کے اثاثوں اور شہریت کی تفصیل بھی جاری کی گئی ہے۔

معاونین خصوصی کی دہری شہریت کے معاملہ پر سوشل میڈیا پر بحث و مباحثے کا سلسلہ بھی جاری ہے جس میں ایک طرف حکومتی اقدام کی تعریف کی جا رہی ہے، وہیں زلفی بخاری اور شہباز گل کی غیر ملکی شہریت کو لیکر ماضی میں اقامہ کا قصہ بھی چھیڑا جا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG