رسائی کے لنکس

logo-print

شبلی فراز یا عاصم سلیم باجوہ، وزارتِ اطلاعات چلائے گا کون؟


وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز، لیفٹننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ (فائل فوٹو)

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے اطلاعات و نشریات کی وزارت میں 18 ماہ کے دوران تیسری مرتبہ تبدیلی کی ہے۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کو ہٹا کر اُن کی جگہ پاکستانی فوج کے سابق ترجمان لیفٹننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کو اپنا معاون خصوصی برائے اطلاعات مقرر کیا ہے۔

وزیر اعظم نے سینیٹر شبلی فراز کو وزیرِ اطلاعات و نشریات مقرر کیا ہے۔ ایک سابق فوج افسر کے لیے سول حکومت کی ترجمانی کرنا کتنا مشکل ہو گا۔ وزارتِ اطلاعات اب چلائے گا کون؟ اس حوالے سے پاکستان کے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں تبصروں اور تجزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

جیو ٹی وی سے وابستہ اینکر پرسن حامد میر نے کے مطابق صرف حکومت نہیں بلکہ اپوزیشن جماعتوں نے بھی وزارتِ اطلاعات میں آنے والی تبدیلی کا خیر مقدم کیا ہے۔ شبلی فراز کو وزیر اطلاعات بنانے کا میڈیا میں بھی خیرمقدم کیا جا رہا ہے۔

سینئر صحافی اور اینکر پرسن صابر شاکر نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عاصم سلیم باجوہ کو لانے کا مقصد وزارتِ اطلاعات و نشریات کی مکمل تنظیم نو کرنا ہے۔

ان کے بقول یہ ادارہ اس وقت صرف حکومتی اشتہارات دینے اور مختلف میڈیا کمپین چلانے کا کام کر رہا ہے لیکن اس کے مقابلے میں آئی ایس پی آر بیانیہ بنانے اور اس کی تشہیر کا کام کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ میں وزارت اطلاعات میں نہ صرف مقامی میڈیا بلکہ بین الاقوامی میڈیا کے حوالے سے بھی حکمت عملی ترتیب پائے گی اس کے ساتھ سوشل میڈیا میں پاکستان کا موقف زیادہ موثر انداز میں سامنے آ سکے گا۔

صابر شاکر کے مطابق جنرل عاصم باجوہ براہ راست پریس کانفرنسز میں کم نظر آئیں گے اور وزارت اطلاعات میں ریفارمز کے حوالے سے کام کریں گے۔

'ایک فوجی افسر کو ہمیشہ سیاست سے دور رہنا چاہیے'

پاکستان کی فوج کے سابق افسر اور دفاعی تجزیہ کار لیفٹننٹ جنرل (ر) امجد شعیب کا کہنا ہے کہ ایک فوجی افسر کو ہمیشہ سیاست سے دور رہنا چاہیے۔ کسی سیاسی حکومت کا ترجمان بن کر دفاع کرنا ایک خاصا مشکل کام ہے۔

ان کے بقول حکومت کو چاہیے تھا کہ اس عہدہ پر کسی سیاست دان کو ہی تعینات کرتی۔ حکومت میں شمولیت کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ماضی میں لیفٹننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ کو نیشنل سیکیورٹی کا مشیر لگایا گیا وہ یہ کام بخوبی کرتے رہے لیکن کسی ترجمان کے طور پر کام کرنا مناسب نہیں لگتا۔

ان کی تعیناتی کی وجہ کے حوالے سے امجد شعیب نے کہا کہ عاصم سلیم باجوہ کی آئی ایس پی آر میں میڈیا ہینڈلنگ بہت اچھی تھی اور حکومت شاید ان کے اسی وقت کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔

اس سوال پر کہ یہ تاثر کیوں آ رہا ہے کہ 'راولپنڈی' معاملات کو اپنے ہاتھوں میں لے رہا ہے پر جنرل امجد شعیب کا کہنا تھا کہ راولپنڈی کے حوالے سے ایسی افواہیں سامنے آتی رہتی ہیں۔

امجد شعیب کے بقول "ہمارے ماحول میں یہ بات بہت عام ہے کہ معمولی سی بات ہو تو سب کی نظریں راولپنڈی کی طرف ہوتی ہیں۔ افواہیں شروع ہو جاتی ہیں۔ لہذا بہتر یہ تھا کہ ایسی افواہوں اور باتوں سے بچنے کے لیے عاصم سلیم باجوہ کو ایسے عہدے پر تعینات ہی نہ کیا جاتا۔"

لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کون ہیں؟

پاکستان کی فوج کے ذرائع ابلاغ سے رابطے میں رہنے والے شعبے آئی ایس پی آر کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا سہرا شاید لیفٹننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے سر ہی ہے۔ پاکستان کی فوج کی خبروں کے لیے ٹوئٹر اور فیس بک کا استعمال بھی سب سے پہلے انہوں نے ہی شروع کیا تھا۔

جنرل عاصم باجوہ پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے) کے 34ویں لانگ کورس میں شامل تھے اور 1984میں انہوں نے پاکستان فوج میں کمیشن حاصل کیا۔ وہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں ٹرپل ون بریگیڈ کے کمانڈر اور ان کے ڈپٹی ملٹری سیکریٹری بھی رہے۔ جون 2012 کو آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے میجر جنرل اطہر عباس کی جگہ عاصم سلیم باجوہ کو آئی ایس پی آر کا ڈی جی تعینات کیا۔

عاصم سلیم باجوہ کو اگرچہ جنرل کیانی آئی ایس پی آر میں لے کر آئے تھے لیکن انہیں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے بہت قریب سمجھا جاتا تھا۔ عاصم سلیم باجوہ کو ستمبر 2015 میں لیفٹننٹ جنرل کے رینک پر ترقی دی گئی تھی جب کہ وہ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کے عہدے پر ہی کام کرتے رہے۔

دسمبر 2016 میں راحیل شریف کی تبدیلی بعد انہیں کور کمانڈر سدرن کمانڈ تعینات کیا گیا۔ ستمبر 2019 میں ریٹائرمنٹ کے صرف دو ماہ بعد انہیں نومبر 2019 میں سی پیک اتھارٹی کا چئیرمین مقرر کیا گیا۔

عام طور پر فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد کسی بھی عوامی عہدہ پر تعیناتی کے لیے دو سال کی مدت درکار ہوتی ہے لیکن عاصم سلیم باجوہ کو رولز میں نرمی کرکے تعینات کیا گیا اور اب انہیں سی پیک اتھارٹی کے چئیرمین کے ساتھ معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات کا عہدہ بھی دے دیا گیا ہے۔

لیفٹننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ جب آئی ایس پی آر کے ڈی جی تھے تو اس دور میں بنائے جانے والے ترانے اور گانے آج بھی مشہور ہیں۔ 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پر حملے کے بعد 'بڑا دشمن بنا پھرتا ہے، جو بچوں سے لڑتا ہے' جیسا گانا تخلیق کیا گیا۔

مبصرین کے مطابق اس گانے سے آئی ایس پی آر نے عوام کی ہمدردیاں سمیٹیں اور فوج کا امیج بہتر بنانے کی کوشش کی گئی۔ ان کے دور میں کئی نئے ترانے، فلمیں اور ڈرامے بھی بنائے گئے۔ دوسری جانب آئی ایس پی آر کے ریلیز کیے جانے والے گانوں اور فلموں پر تنقید بھی کی جاتی رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق فوج کا ترجمان رہتے ہوئے سرکاری ادارے کا بیانیہ ذرائع ابلاغ پر چلانا آسان کام ہے لیکن ایک سیاسی حکومت کے ترجمان کے طور پر عاصم سلیم باجوہ کی کارکردگی کیا ہو گی۔ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

فردوس عاشق اعوان کا ردعمل

سابق معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے ایک ٹوئٹ ان خبروں کی تردید کی جس میں ان پر وزارت اطلاعات میں کرپشن کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ سیاسی کارکن کی حیثیت سے میرا نصب العین ملک کی ترقی اور عوام کی فلاح ہے۔

شبلی فراز وزارت اطلاعات کے نئے وزیر

شبلی فراز ایک دھیمے مزاج کے سیاست دان کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ جو حزب اختلاف پر تنقید کرتے ہوئے بھی شائستگی کا خیال رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کرنے والی بیشتر کمیٹیوں میں شامل کیا جاتا ہے۔

شبلی فراز پہلی بار 2015 میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوئے جب کہ 2018 میں انہیں سینیٹ میں قائد ایوان منتخب کیا گیا۔

شبلی فراز اکثر ٹی وی شوز میں اپنی جماعت کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں لیکن اپوزیشن کے بیشتر ارکان سے ان کے دوستانہ تعلقات ہیں۔

سینیٹر شبلی فراز پاکستان کے معروف شاعر احمد فراز مرحوم کے صاحبزادے ہیں۔

'عاصم باجوہ کی تعیناتی کو شبلی فراز کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے'

تجزیہ کار مظہر عباس کہتے ہیں کہ یہ بہت دلچسپ صورت حال ہے کہ ہماری کل سے اب تک کی کوریج دیکھی جائے تو سابق فوجی جنرل عاصم سلیم باجوہ کی تعیناتی کو شبلی فراز کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں جنرل ضیا الحق کے دور میں جنرل مجیب کے بطور سیکریٹری انفارمیشن کے بعد پہلی مرتبہ کسی اہم فوجی افسر کی تعیناتی انفارمیشن ڈپارٹمنٹ میں کی گئی ہے۔

مظہر عباس کے بقول اب دیکھنا ہوگا کہ یہ نئی ٹیم کیا کارکردگی دکھاتی ہے۔ آئی ایس پی آر کا کردار گزشتہ کچھ عرصہ میں بہت بڑھا ہے لیکن حکومت کے چینلنجز بہت مختلف ہیں۔ دیکھنا ہوگا کہ وہ کیا تبدیلی لے کر آتے ہیں۔

مظہر عباس کا کہنا تھا اگر وزیراعظم کی میڈیا کے بارے میں بری رائے برقرار رہتی ہے تو نئی ٹیم کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا جیسے فواد چوہدری رہے یا فردوس عاشق اعوان تھے ۔یہ دونوں وزیراعظم کو میڈیا کے حوالے سے رویہ تبدیل کرانے میں ناکام رہے۔ اب اگر یہ دو بھی وزیراعظم کی میڈیا سے متعلق سوچ بدلنے میں ناکام رہے تو مشکل ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ شبلی فراز ایک منتخب سیاست دان ہیں ان کے لیے بڑا چیلنج ہوگا کہ وہ ایک فوجی پس منظر رکھنے والے طاقتور معاون خصوصی کی موجودگی میں اپنی وزارت پر کنٹرول رکھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG