رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کے پاکستانی اعلان کی پذیرائی


بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کے پاکستانی اعلان کی پذیرائی

بھارت کو تجارت کے لیے پسندیدہ ترین ملک یا ایم ایف این کا درجہ دینے کے پاکستانی اعلان کو دونوں ملکوں میں مبصرین اور کاروباری حلقے ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں جو اُن کے خیال میں آگے چل کر کشمیر سمیت دیگر تنازعات کے حل میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

پاکستان اور بھارت کی کاروباری شخصیات کی ایک تنظیم کے صدر امیر ہاشوانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو ایم ایف این کا درجہ دینے سے ناصرف دوطرفہ تجارت کو فروغ حاصل ہو گا بلکہ علاقائی مسائل کو حل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

’’غربت، تعلیم اور صحت جیسے مسائل کو کوئی بھی ملک اکیلا حل نہیں کر سکتا، یہ علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔‘‘ اُنھوں نے کہا کہ اگر پاکستان اور بھارت مشترکہ طور پر ان معاملات سے نمٹنے کی کوشش کریں تو ’’اس میں ہمارا اور اُن کا دونوں کا بھلا ہوگا‘‘۔

امیر ہاشوانی کا کہنا تھا کہ بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ دیگر مسائل پر پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔

نئی دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر سُوارن سنگھ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ بھارت کو ایم ایف این کا درجہ دینے کے اعلان کو بھارتی ذرائع ابلاغ، سرکاری عہدے دار اور دانشور حلقے بہت زیادہ سراہ رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اس فیصلے کے صرف اقتصادی شعبے میں مثبت نتائج مرتب نہیں ہوں گے بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان دیگر حل طلب اُمور پر پیش رفت کے امکانات بھی روشن ہوں گے۔ ’’اقتصادی تعلقات میں اس مثبت شروعات کا دونوں ملکوں کے مابین گھمبیر معاملات کو حل کرنے کی کوششوں پر بھی اچھا اثر پڑے گا۔‘‘

پاکستان میں بعض حلقوں نے بھارت کو ایم ایف این کا درجہ دینے سے متعلق اعلان پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اس سلسلے میں جماعت اسلامی کے رکن پروفیسر خورشید احمد نے جمعرات کو اسلام آباد میں سینیٹ کے اجلاس کے دوران ایک تحریک استحقاق جمع کراتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اس اہم فیصلے سے قبل ایوان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

لیکن وزارت خارجہ کی ترجمان تہمینہ جنجوعہ نے ہفتہ وار نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس تاثر کی ایک بار پھر نفی کی کہ بھارت کو ایم ایف این کا درجہ دینے سے کشمیر کے موقف پر کوئی سمجھوتا کیا گیا ہے۔ ’’پاکستان اور بھارت دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ ان کے درمیان دوستانہ تعلقات دونوں ملکوں اور خطے کی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ پاک بھارت جامع مذاکرات کا مقصد بھی علاقائی امن و استحکام ہی ہے۔

XS
SM
MD
LG