رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان نے احسان اللہ احسان کے فرار کی تصدیق کر دی


تحریک طالبان پاکستان کا سابقہ ترجمان احسان اللہ احسان، فائل فوٹو

پاکستان کے وزیر داخلہ بریگیڈئیر (ر) اعجاز شاہ نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے فرار کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے متعلق ریاست باخبر ہے، اس پر بہت کا کام ہو رہا ہے۔

اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں کے ساتھ غیر رسمی گفت گو کرتے ہوئے ایک صحافی کے سوال پر بریگیڈئیر(ر) اعجاز شاہ نے اس خبر کی تصدیق کی۔ صحافی نے سوال کیا کہ احسان اللہ احسان کے فرار کی خبر سنی ہے کیا یہ خبر درست ہے؟ جس پر اعجاز شاہ نے کہا کہ ہاں یہ خبر میں نے بھی پڑھی اور یہ خبر درست ہے۔ اس پر ان سے سوال کیا گیا کہ کیا ریاست کو پتا ہے کہ وہ یہاں سے چلا گیا ہے؟ جس پر انہوں نے کہا کہ ریاست اس معاملہ سے باخبر ہے اور اس پر بہت کام ہو رہا ہے۔

برگیڈئیر (ر) اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ اس معاملہ پر آپ کو بہت جلد خوش خبری ملے گی۔

حکومت پاکستان کی طرف سے یہ پہلا موقع ہے کہ احسان اللہ احسان کے فرار کی کسی اہم حکومتی شخصیت کی طرف سے تصدیق کی گئی ہو۔ اس سے قبل تمام حکومتی شخصیات اس معاملے سے متعلق آگاہی سے انکار یا کچھ کہنے سے اجتناب کر رہی تھیں۔

احسان اللہ احسان فرار کب ہوا؟؟

کالعدم تحریک طالبان کے احسان اللہ احسان نے 5 فروری کو سوشل میڈیا پر ایک آڈیو پیغام میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ پاکستانی فوج کی حراست سے 11 جنوری کو فرار ہو گیا تھا۔ ایسا کیسے ممکن ہوا اس حوالے سے احسان اللہ احسان نے کچھ نہیں بتایا۔

دو منٹ اور دو سیکنڈ کی اس آڈیو کا آغاز تلاوت سے ہوتا ہے اور وہ اپنا نام بتا کر کہتا ہے کہ اس کا تعلق تحریک طالبان اور جماعت الاحرار سے تھا۔

اس نے کہا کہ "میں نے پانچ فروری 2017 کو ایک معاہدے کے تحت خود کو پاکستان کے خفیہ اداروں کے حوالے کیا تھا۔ لیکن، بقول اس کے، "پاکستان کے مکار خفیہ اداروں نے معاہدے سے رُوح گردانی کرتے ہوئے مجھے میرے بچوں سمیت قید کر دیا تھا۔ میں نے تین سال تک معاہدے کی پاسداری کی اور قید کی صعوبتیں برداشت کیں۔ 11 جنوری 2020 کو میں فوج کی حراست سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔"

اس نے کہا کہ "ہمارے ساتھ کیا معاہدہ ہوا تھا۔ کس کی اجازت سے ہوا۔ نکات کیا تھے۔ کس شخصیت نے ہمیں تحفظ کی ضمانت دی تھی۔ پاکستان میں کس حال میں رکھا گیا اور ہم سے کیا کہلوایا گیا۔ پاکستانی ادارے ہم سے مزید کیا کرانا چاہتے تھے۔ ان کے منصوبے کیا ہیں۔ اور پاکستانی فوج کے وہ منصوبے جن کا میں چشم دید گواہ ہوں، ان سے پردہ اٹھانا اب ضروری ہو گیا ہے۔"

اس نے کہا کہ "میں جلد ان تمام تفصیلات سے عوام کو آگاہ کروں گا۔ ساتھ ہی اپنے مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے بھی آگاہ کروں گا۔"

احسان اللہ احسان کے اس آڈیو پیغام کے بعد بعض افراد نے دعویٰ کیا کہ وہ فرار ہو کر اس وقت ترکی میں موجود ہے لیکن ابھی تک حکومت کی طرف سے اس بارے کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔

احسان اللہ احسان کے نام سے بنے ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ پر گذشتہ دنوں ایک معاہدہے کی کاپی بھی شئیر کی گئی تاہم اس کے بھی اصل ہونے کی اب تک تصدیق نہیں کی گئی۔

احسان اللہ احسان ہے کون؟؟

احسان اللہ احسان پاکستان کے خیبر پختونخوا کے علاقے مہمند ایجنسی کا رہنے والا ہے۔ اپریل 2017 میں پاکستانی فوج کے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اعلان کیا کہ احسان اللہ احسان نے خود کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کر دیا ہے۔ اس کا ایک ویڈیو بیان ٹی وی چینلز کو جاری کیا گیا تھا، جس کے مطابق، اس کا اصلی نام لیاقت علی ہے۔

اپنی ویڈیو میں اس نے بتایا کہ اس نے تحریک طالبان پاکستان میں 2008 میں شمولیت اختیار کی۔ احسان اللہ احسان نے اپنی اعترافی ویڈیو میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را تحریک طالبان پاکستان کو پاکستان میں دہشت گردی کرنے کے لیے فنڈ مہیا کرتی ہے۔

احسان اللہ احسان سال 2013 تک کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا ترجمان رہا تھا۔ احسان تحریک طالبان پاکستان کے بعض سابق کمانڈرز کے ساتھ اس گروپ سے الگ ہو نے کے بعد انہوں نے جماعت الاحرار کے نام سے اپنا نیا دھڑا بنا لیا تھا۔

احسان اللہ احسان کو اس نئے دھڑے کا ترجمان مقرر کیا گیا تھا۔ اس وقت اس کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان کے 70 سے 80 فی صد کمانڈر اور جنگجو جماعت الاحرار میں شامل ہو گئے ہیں۔ ان میں سب سے معروف عمر خالد خراسانی تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG