رسائی کے لنکس

logo-print

کابل: سیکیورٹی خدشات کے باعث پاکستانی سفارت خانے کا ویزا سیکشن بند


Pakistan Embassy in Kabul

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں واقع پاکستان کے سفارت خانے نے ویزا سیکشن سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستانی سفارت خانے کے طرف سے جاری ہونے والے بیان میں مزید تفصیل بیان نہیں کی گئی ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق اسلام آباد میں افغانستان کے سفارت خانے کے ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کرکے انہیں پاکستانی سفارت خانے اور افغانستان میں دیگر پاکستانی قونصل خانوں کے سفارتی عملے کی سلامتی اور تحفظ سے متعلق خدشات سے آگاہ کیا گیا ہے۔

افغان دارالحکومت میں پاکستان کا سفارت خانہ — فائل فوٹو
افغان دارالحکومت میں پاکستان کا سفارت خانہ — فائل فوٹو

پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ کابل میں پاکستانی سفارت خانے میں تعینات سفارت کاروں اور عملے کو گزشتہ دو دن کے دوران مبینہ طور پر ہراساں کیا گیا ہے جبکہ ان کی نقل و حرکت میں بھی رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے۔

افغان ناظم الامور کو پاکستان نے آگاہ کیا ہے کہ ویانا کنونشن کے تحت کابل میں تعینات پاکستان کے تمام سفارتی عملے کو تحفظ و سلامتی اور ان کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقنی بنانا افغان حکومت کی ذمہ داری ہے۔

اس کے ساتھ افغان ناظم الامور سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغان حکام فوری طور پر مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کریں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں ۔

ویزا سیکشن بند ہونے سے پاکستان آنے کے خواہش مند افراد کو مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا — فائل فوٹو
ویزا سیکشن بند ہونے سے پاکستان آنے کے خواہش مند افراد کو مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا — فائل فوٹو

دوسری جانب افغانستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گران ھیواد نے کہا ہے کہ افغان حکام کابل میں تعینات پاکستانی سفارتی عملے کی سیکیورٹی سے متعلق مبینہ خدشات کی تحقیقات کی جائیں گی۔

خبر رساں ادارے’ اے پی‘ کے مطابق افغان وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے سفارتی عملے کو درپیش مبینہ سیکیورٹی خدشات سے افغانستان کے سیکیورٹی ادارے بھی آگاہ ہیں۔ کابل میں ویزا سیکشن بند کرنے کا معاملہ پاکستان کے سفارت خانے کے ساتھ بات چیت سے حل کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ کابل میں پاکستانی سفارت خانے میں ویزا سیکشن بند ہونے سے ان افغان شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا جو علاج ، تعلیم اور دیگر امور کے لیے پاکستان کا سفر کرتے ہیں۔

حال ہی میں افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ سے متصل سرحد پر پاکستان اور افغانستان کی سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کےتبادلہ ہوا تھا جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں تناو پیدا ہو گیا تھا۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر فائرنگ میں پہل کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ فائرنگ میں پہل افغان سیکیورٹی فورسز نے کی تھی جس میں پاکستان کے چھ سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 11 افراد زخمی ہوئے تھے۔

پاکستان اور افغانستان کے سفارتی تعلقات میں سرد مہری

گزشتہ ماہ 11 اکتوبر کو پشاور میں ایک تجارتی مارکیٹ کی ملکیت کے تنازع پر افغان حکومت نے پشاور کے قونصلیٹ جنرل کو بھی غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا تھا جو تاحال بند ہے۔

گزشتہ سال افغانستان کے سرحدی شہر جلال آباد میں بھی سیکورٹی کے مسئلے پر پاکستان نے اپنا سفارتی مشن لگ بھگ ایک ماہ کے لیے بند کر دیا تھا۔ تاہم اسے پاکستانی سفارتی عملے کو درپیش مسائل حل کرنے کی یقین دہانی پر دوبارہ کھول دیا گیا تھا۔

سرحدی تنازع کے علاؤہ پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے پر عسکریت پسندوں کی حمایت کے بھی الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

سینئر صحافی اور افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسف زئی نے وائس آف امریکہ کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔ ان کے بقول اس قسم کے واقعات یعنی سفارتی مشن کی بندش اور سرحد پر جھڑپیں دونوں ممالک کے تعلقات پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

رحیم اللہ یوسف زئی کہتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کو غلط فہمیاں دور کرنے کے لیے مذاکرات کرنے چاہئیں تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔

اٖفغان صحافی سمیع یوسف زئی نے بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کو دونوں ممالک کے مفادات کے منافی قرار دیا ہے۔ ان کے بقول دونوں ممالک اور عوام کی بہتری خوشگوار اور برادرانہ تعلقات ہی میں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG