رسائی کے لنکس

logo-print

آزادی مارچ میں طالبان کا پرچم کس نے لہرایا؟


آزادی مارچ کے شرکا نے اسلام آباد میں پڑاؤ ڈال رکھا ہے۔

اسلام آباد میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے آزادی مارچ میں افغان طالبان کا پرچم لہرانے کے الزام میں پولیس نے چند افراد کو حراست میں لیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ ان افراد کا تعلق جمعیت علماء اسلام یا اس کی ذیلی تنظیم انصارالاسلام سے نہیں ہے۔

جمعیت علماء اسلام (ف) نے آزادی مارچ میں افغان طالبان کا پرچم لہرانے کو دھرنے کے خلاف سازش قرار دیا ہے۔

حکام کے مطابق آزادی مارچ کے پنڈال میں دیگر سیاسی جماعتوں کے پرچموں کے علاوہ سفید پرچم بھی لہرایا جارہا تھا جس پر امارت اسلامی افغانستان کے ساتھ کلمہ درج تھا۔ اطلاع ملنے پر اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے آزادی مارچ کی انتظامیہ سے رابطہ کیا اور ان جھنڈوں کو قبضے میں لے کر نامعلوم افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ابتدائی طور پر جن افراد کو یہ پرچم لہراتا دیکھا گیا ان کی تعداد دو تھی، جن کی شناخت کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہیں ہو سکیں۔

بعدازاں انتظامیہ کی طرف سے اسٹیج سے اعلان کیا گیا کہ آٹھ پاکستانی سیاسی جماعتوں کے علاوہ کسی کا کوئی پرچم پنڈال میں نہ لہرایا جائے۔ جلسہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طالبان کے پرچم لہرانے میں جے یو آئی کا کوئی کردار نہیں اور نہ کوئی تعلق ہے۔

جمعیت علماء اسلام (ف) بلوچستان کے امیر عبد الواسع نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ہم ایسے پرچم کی بالکل اجازت نہیں دیتے یہ کسی تیسری قوت کا کام لگتا ہے۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا حکومت خود طالبان کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے تو ہمارے مارچ میں پرچم لہرانے سے کون سی غداری ہو گئی۔

آزادی مارچ کے شرکا نے جمعیت علماء اسلام سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے پرچم اٹھا رکھے ہیں۔
آزادی مارچ کے شرکا نے جمعیت علماء اسلام سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے پرچم اٹھا رکھے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے ان جھنڈوں کو قبضے میں لینے کی تصدیق کی ہے۔ ان کے بقول ان جھنڈوں کو لہرانے والے افراد کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ حمزہ شفقات سے گرفتار ہونے والے کی تعداد اور شناخت کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ گرفتار افراد میں سے کسی کا بھی تعلق جے یو آئی یا انصار الاسلام سے نہیں ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق اب تک 10افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

جے یو آئی کے مرکزی رہنما خواجہ مدثر نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے اس معاملہ کو آزادی مارچ کے خلاف سازش قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ان افراد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سوچی سمجھی سازش کے تحت ان افراد کو یہاں پلانٹ کیا گیا ہے تاکہ ہم پر الزامات عائد کیے جا سکیں۔

اسلام آباد انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ گرفتار ہونے والوں میں سے کسی کا تعلق انصارالاسلام یا جمعیت علماء اسلام(ف) سے نہیں ہے۔
اسلام آباد انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ گرفتار ہونے والوں میں سے کسی کا تعلق انصارالاسلام یا جمعیت علماء اسلام(ف) سے نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کے حوالے سے ہم سابقہ پالیسی پر مکمل طور پر کاربند ہیں۔ لگتا ہے ان افراد کو یہاں بھیج کر خصوصی طور پر تصاویر بنوائی گئیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہمارا دھرنا پاکستان کے عوام کے لیے ہے ان افراد سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔

خواجہ مدثر نے الزام لگایا کہ یہ اوچھے حکومتی ہتھکنڈے ہیں۔ حکومتی اہلکار ایسا کررہے ہیں اور عوام کے درمیان نفرت کے بیج بو رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG