رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان نے فوج کو چھوٹے سائز کے جوہری میزائلوں سے لیس کر دیا


’ںصر‘ بیلسٹک میزائل سے بیک وقت کئی اہداف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں فوج کو چھوٹے فاصلے تک مار کرنے والے ایسے بیلسٹک میزائلوں سے مسلح کر دیا گیا ہے جو بیک وقت کئی ٹھکانوں کو چھوٹے جوہری ہتھیاروں کے ذریعے نشانہ بنا سکتے ہیں۔

سرکاری اہل کاروں کا کہنا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے حامل یہ متحرک راکٹ میزائل بھارت کی طرف سے روایتی ہتھیاروں سے کسی ممکنہ اچانک حملے کو حقیقی طور پر ناکام بنا سکیں گے۔

پاکستانی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’نصر‘ سے موسوم یہ میزائل انتہائی درستگی سے ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور اس میں یہ صلاحیت بھی موجود ہے کہ داغے جانے کے بعد فضا میں بھی اس کا رخ ضرورت کے مطابق بار بار تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں کے اس نظام کے ذریعے پاکستانی فوج کو یہ صلاحیت حاصل ہو گئی ہے کہ وہ ان میزائلوں سے بیک وقت کئی مختلف اہداف کو نشانہ بنا سکے۔

پاکستان نے حال ہی میں اس بیلسٹک میزائل کو داغے جانے کے بعد فضا میں کنٹرول کرنے کی صلاحیت بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ اس کی رینج 60 کلومیٹر سے بڑھا کر 70 کلومیٹر کر دی ہے۔

پاکستان کی طرف سے محاذ جنگ میں استعمال کئے جانے والے ان ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے امریکہ میں خاصی تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ چھوٹے سائز اور کم وقت میں اُنہیں محاذ جنگ میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کی صلاحیت کے باعث ہمسایہ ملک بھارت کے ساتھ جوہری جنگ کے خطرے میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

پاکستانی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ہتھیار کسی بھی ممکنہ حملے کے خطرے اور دشمن کے بیلسٹک اور روایتی دفاعی نظام کے ذریعے حملے کو روکنے کے لئے انتہائی مؤثر ہوں گے۔

بھارت کی طرف سے حالیہ عرصے میں روسی ساختہ S-400 ٹرائمف ایئر ڈیفنس سسٹم خریدنے کے فیصلے سے پاکستان میں خاصی تشویش پائی جاتی تھی اور پاکستانی اہل کاروں نے خبردار کیا تھا کہ اس نظام کی خرید کے سمجھوتے سے جنوبی ایشیا میں موجود جوہری استحکام خطرے میں پڑ سکتا ہے اور خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

1947 میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے پاکستان اور بھارت تین جنگیں لڑ چکے ہیں اور اُن کے نتیجے میں دونوں ملکوں نے اپنی فوج کو جوہری ہتھیاروں سے لیس کر دیا ہے۔

دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے اس بات کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ آئندہ لڑی جانے والی جنگ، روایتی ہتھیاروں کی بجائے جوہری ہتھیاروں کی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان اب تک ہونے والی تین جنگوں میں سے دو کشمیر کے تنازعے پر لڑی گئی تھیں۔ اس تنازعے کے نتیجے میں دو طرفہ تعلقات میں تلخیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ کشمیر میں کنٹرول لائن پر جھڑپیں معمول کا حصہ بن چکی ہیں جن میں سرحد کے دونوں جانب فوجیوں اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کی خبریں آتی رہتی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG