رسائی کے لنکس

logo-print

کرکٹ ورلڈ کپ: نیوزی لینڈ کے خلاف پاکستان کی بقا کی جنگ


جنوبی افریقہ کے خلاف میچ جیتنے کے بعد پاکستانی کھلاڑی شائقین کی جانب ہاتھ ہلا کر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔

کرکٹ ورلڈ کپ کے ابتدائی چھ میچوں میں پاکستان کی کاکردگی بالکل ویسی ہی رہی ہے جیسی 1992 کے ورلڈ کپ میں تھی۔

پاکستان نے چھ میچ کھیل کر اب تک صرف پانچ پوائنٹس حاصل کیے ہیں۔ پاکستان کو لیگ مرحلے کے باقی تین میچ نیوزی لینڈ، افغانستان اور بنگلہ دیش سے کھیلنے ہیں۔

1992 اور 2019 کے ورلڈ کپ میں پاکستان کی اب تک کی کارکردگی کا موازنہ
1992 اور 2019 کے ورلڈ کپ میں پاکستان کی اب تک کی کارکردگی کا موازنہ

نیوزی لینڈ کی ٹیم نے اب تک کھیلے گئے چھ میچوں میں سے پانچ جیتے ہیں جب کہ ایک میچ بغیر نتیجہ رہا اور یوں وہ 11 پوائنٹس کے ساتھ سر فہرست ہے۔

بنگلہ دیش کی ٹیم نے اپنے سات میچ مکمل کیے ہیں جن میں سے تین جیتے اور تین ہارے جب کہ ایک میچ بغیر نتیجے کے ختم ہوا۔ یوں اس کے 7پوائنٹس ہیں۔

افغانستان واحد ایسی ٹیم ہے جو کچھ میچوں میں اچھی کارکردگی دکھانے کے باوجود ایک بھی میچ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی اور یوں اس نے اب تک ایک بھی پوائنٹ حاصل نہیں کیا۔

پاکستان کے سابق کپتان وسیم اکرم نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ پاکستانی ٹیم ایک بار پھر باقی میچوں میں ویسی ہی کارکردگی دکھا سکے گی جیسی اس نے 1992 کے ورلڈ کپ میں دکھائی اور پھر ورلڈ کپ جیتا۔

ان کا کہنا ہے کہ 1992 کے ورلڈ کپ میں بھی پاکستان کے خلاف سے پہلے نیوزی لینڈ اپنے تمام میچ جیت چکا تھا اور پھر پاکستان ٹیم نے اسے شکست دے دی۔ چنانچہ اس بار بھی پاکستانی کھلاڑیوں کو اپھر ویسا ہی کرنا ہو گا۔

وسیم اکرم نے کپتان سرفراز احمد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جنوبی افریقہ کے خلاف میچ جیتنے والی ٹیم میں کوئی تبدیلیاں نہ کریں۔

پاکستان کا اگلا میچ بدھ کے روز نیوزی لینڈ سے ہو گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگرچہ پاکستانی ٹیم پر بھارت کے خلاف مایوس کن کارکردگی کی بنا پر شدید تنقید کی زد میں رہی تھی لیکن جنوبی افریقہ کے خلاف میچ جیتنے کے بعد پاکستانی ٹیم کے اعتماد میں یقینی طور پر اضافہ ہوا ہے۔ تاہم ورلڈ کا کا باقی سفر انتہائی کٹھن دکھائی دیتا ہے اور باقی تینوں میچوں میں پاکستان کو اپنے بقا کی جنگ لڑنا ہو گی۔

بالنگ کے شعبے میں محمد عامر کی کارکردگی انتہائی حوصلہ افزا رہی ہے اور وہ اب تک 15 وکٹیں حاصل کر کے سر فہرست ہیں۔

شاداب خان اور اور وہاب ریاض کو جنوبی افریقہ کے خلاف موقع دیا گیا اور ان دونوں نے تین تین وکٹیں حاصل کیں۔ تاہم باقی بالرز میں سے کوئی بھی متاثر کن کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

بیٹنگ میں اوپنرز امام الحق اور فخر زمان کے علاوہ بابر اعظم اور حارث سہیل کی کارکردگی اگرچہ حوصلہ افزا رہی ہے۔ تاہم ان میں سے کوئی بھی بڑی اننگ کھیلنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ جنوبی افریقہ کے خلاف حارث سہیل نے البتہ 59 گیندوں پر 89 رنز کی اننگ کھیل کر ثابت کر دیا کہ پہلے کھیلے گئے میچوں میں انہیں ڈراپ کرنا غلطی تھی۔

پاکستانی ٹیم کی سب سے بڑی کمزور ی خراب فیلڈنگ ہے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں بھی پاکستانی ٹیم نے چھ کیچ چھوڑے اور کپتان سرفراز احمد نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی ٹیم کو اس شعبے میں سخت محنت کرنا ہو گی۔ اس ٹورنامنٹ میں پاکستانی کھلاڑیوں نے اب تک 14 کیچ ڈراپ کیے ہیں جو ایک ریکارڈ ہے۔

دوسری جانب نیوزی لینڈ کی اب تک کی کاکردگی شاندار رہی ہے اور وہ پوائنٹس ٹیبل پر سب سے اوپر ہے۔ تاہم جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں نے اسے آسانی سے جیتنے نہیں دیا اور کپتان ولیمسن کی سنچریوں کی بدولت وہ یہ دونوں میچ جیتنے میں کامیاب ہوئی۔ یوں اس ٹورنامنٹ میں ولیمسن نیوزی لینڈ کی طرف سے سب سے نمایاں بیٹسمین رہے۔ ان کے علاوہ راس ٹیلر بھی فارم میں دکھائی دے رہے ہیں۔ تاہم اوپنر کولن منرو اور مارٹن گپٹل اب تک کوئی خاص کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں۔

نیوزی لینڈ کی بالنگ ٹرینٹ بولٹ اور فرگوسن پر انحصار کر رہی ہے۔ نیوزی لینڈ کے آل راؤنڈر جمی نیشم اور گرینڈہوم بھی اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ تاہم نیوزی لینڈ کی ٹیم متعدد میچوں میں مقررہ وقت کے دوران اپنے اوور ختم کرنے میں ناکام رہی ہے اور اگر پاکستان کے خلاف میچ میں ایسا ہوتا ہے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ کپتان ولیمسن کو ایک میچ کی پابندی کا سامنا کرنا پڑے۔

یوں کل کا میچ پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہو گا اور اگر اسے 1992 کی کارکردگی دوہرانی ہے تو کل کے میچ سمیت باقی تینوں میچ جیتنا ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG