رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی فیصلے سے مشترکہ مقاصد پر اثر پڑے گا: پاکستان


پاکستان کے دفترِ خارجہ کا منظر (فائل فوٹو)

دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی فیصلے سے دونوں ممالک کے مشترکہ مقاصد پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

امریکہ کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی عسکری امداد روکنے کے اعلان کے بعد پاکستان نے اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ یک طرفہ ڈیڈلائنز اور اعلانات مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے لیے موافق نہیں اور پائیدار امن کے لیے باہمی عزت اور اعتماد ضروری ہے۔

اسلام آباد میں دفترِ خارجہ کی جانب سے جمعے کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے وسائل سے 120 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سکیورٹی تعاون کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہے اور اسے امداد معطل کیے جانے کے بارے میں امریکہ کے جواب کا انتظار ہے۔

دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی فیصلے سے دونوں ممالک کے مشترکہ مقاصد پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنے وسائل سے بڑھ کر لڑی ہے اور پاکستان مستقبل میں بھی خطے میں قیامِ امن اور لوگوں کو محفوط بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کے لیے پاک امریکہ تعاون کا فائدہ سب سے زیادہ امریکہ اور عالمی برادری کو ہوا ہے۔ پاکستان کے اقدامات سے القاعدہ سمیت دیگر دہشت گرد گروپوں کا خاتمہ ممکن ہوا جو بیان کے مطابق دونوں ملکوں کے لیے مشترکہ خطرہ ہیں۔

بیان میں ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر سرگرم ان دہشت گرد گروہوں سے عالمی امن کو خطرہ تھا۔ پاکستان نے تسلسل کے ساتھ آپریشنز کے ذریعے اپنے علاقے دہشت گردوں سے خالی کرائے اور اس سے عالمی برادری کو بھی فائدہ ہوا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو اپنے اقدامات کے بعد سرحد پار افغانستان سے بھی ایسے ہی اقدمات کا انتظار ہے۔ افغان سرزمین کے وسیع علاقے پر حکومتی عمل داری نہیں۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے گزشتہ روز پاکستان کو دی جانے والی سکیورٹی امداد روکنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف بلا امیتاز کارروائی نہ کرنے پر یہ امداد روکی گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG