رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی وزیرِ خارجہ کا دورۂ ابو ظہبی: ہدف کیا ہے؟


فائل فوٹو

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے دو روزہ دورے پر ابوظہبی پہنچ گئے ہیں۔ جہاں ان کی یو اے ای کے نائب صدر اور وزیراعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم سے دبئی میں ملاقات ہوئی۔ جس میں دوطرفہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں قائدین نے دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے امور پر بات چیت کی اور دو طرفہ تجارت کے فروغ اور سرمایہ کاری بالخصوص پاکستان میں زراعت میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔

اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں جاری سرد مہری کے خاتمے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس دورے کے نتیجے میں پاکستان اپنے خلیجی اتحادی ممالک سے تعلقات میں پیدا شدہ سرد مہری کو دور کر سکے گا اور مالی مشکلات میں آسانی کے لیے یو اے ای کو تین ارب ڈالر کی ادائیگی کا سدباب بھی ممکن ہو سکے گا۔

دفتر خارجہ سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق وزیر خارجہ اپنے دورے کے دوران امارات کی قیادت سے ملاقاتوں میں دو طرفہ دلچسپی کے امور پر بات کریں گے۔ جن میں علاقائی اور عالمی امور بھی زیر غور آئیں گے۔

یو اے ای کی قیادت سے ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی دو طرفہ تعاون خاص طور پر تجارت، سرمایہ کاری اور امارات میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے حوالے سے بات کریں گے۔

دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق شاہ محمود قریشی متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں سے ملاقات کے علاوہ مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ سے بھی گفتگو کریں گے۔

وزیر خارجہ کا یہ دورہ دونوں ممالک کے مابین اعلیٰ سطحی روابط کے فروغ کا تسلسل ہے۔

حالیہ عرصے میں پاکستان کے خلیج کے اپنے دیرینہ اتحادی یو اے ای اور سعودی عرب سے تعلقات میں پہلے جیسی گرم جوشی نہیں پائی جاتی۔

حال ہی میں یو اے ای نے پاکستان کے شہریوں پر سیاحتی ویزہ اور ورک پرمٹ کے اجرا پر پابندی عائد کر دی تھی۔

خیال رہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی دوسری بڑی تعداد متحدہ عرب امارات میں مقیم ہے۔

دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق اعلیٰ سطح کے دورے نہ صرف ان تعلقات کا اہم حصہ ہیں بلکہ یہ دونوں ملکوں کی قیادت کو دوطرفہ تعاون اور دیگر اہم معاملات پر گفت و شنید کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

دورے سے خاموش ناراضگی دور ہوسکے گی

مشرق وسطیٰ کے امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار پروفیسر حسن عسکری کہتے ہیں کہ پاکستان اور امارت کے تعلقات میں خاموش ناراضگی پائی جاتی ہے۔ جس کا اظہار دونوں ملک عوامی سطح پر نہیں کرتے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ یو اے ای نے علاقائی معاملات میں سرگرم کردار ادا کرنا شروع کیا ہے۔ جس پر اسلام آباد کو تحفظات ہیں۔

حسن عسکری کہتے ہیں کہ وزیر خارجہ شاہ محمود کا دورہ بنیادی طور پر دو طرفہ معاملات اور علاقائی صورت حال کے امور پر ہے۔ جس میں دونوں ملک اپنے تحفظات اور شکایات کا تذکرہ بھی کریں گے۔

سابق سفارت کار علی سرور نقوی کہتے ہیں کہ یو اے ای کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ اور گہرے تعلقات ہیں۔ جن میں حالیہ عرصے میں کچھ تشنگی پیدا ہو گئی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ کے دورہ کے دوران اعلی سطح پر مذاکرات اور ملاقاتیں خاصی اہمیت رکھتی ہے جو کہ مسائل کے حل میں مددگار ہو سکتی ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال کوالالمپور میں ہونے والی سربراہی کانفرنس کو سعودی عرب نے او آئی سی کے متبادل اسلامی بلاک کے طور پر دیکھا تھا۔

سعودی عرب کے تحفظات کے باعث وزیر اعظم عمران خان نے اس کانفرنس میں شرکت نہیں کی تھی اور ترک صدر کے بقول پاکستان سے اس میں شرکت نہ کرنے کے لیے سعودی عرب کی جانب سے دباؤ ڈالا گیا تھا۔ تاہم سعودی عرب نے ترک صدر کے اس بیان کے تردید کی تھی۔

دوسری جانب پاکستان کو تنازع کشمیر پر دیرینہ عرب دوست ممالک کی جانب سے حمایت نہ ملنے پر مایوسی ہوئی۔

اس مایوسی کا اظہار وزیر خارجہ شاہ محمود نے اپنے ایک ٹی وی مذاکرے میں یوں کیا کہ “اگر ریاض نے کشمیر پر اسلامی ممالک کے اتحاد او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس نہ بلایا تو پاکستان سعودی عرب کے بغیر ہم خیال ممالک کا اجلاس بلائے گا”۔

علاوہ ازیں سعودی عرب کے بھارت کے ساتھ بڑھتے تعلقات کو بھی اسلام آباد میں ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستان کے حالیہ دنوں میں خلیج کے دیرینہ اتحادی یو اے ای اور سعودی عرب سے تعلقات میں پہلے جیسی گرم جوشی نہیں پائی جاتی۔ (فائل فوٹو)
پاکستان کے حالیہ دنوں میں خلیج کے دیرینہ اتحادی یو اے ای اور سعودی عرب سے تعلقات میں پہلے جیسی گرم جوشی نہیں پائی جاتی۔ (فائل فوٹو)

سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری کے باعث پاکستان کو سفارتی ہی نہیں، معاشی مشکلات کا بھی سامنا ہے۔

سعودی عرب کے مطالبے پر اسلام آباد اس سے ادھار حاصل کیے گئے دو ارب ڈالر واپس کر چکا ہے۔ مالی مشکلات کے شکار پاکستان نے یہ رقم چین سے قرض لے کر سعودی عرب کو ادا کی ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے 2018 کے آخر میں پاکستان کو 6 ارب 20 کروڑ ڈالرز کا مالی پیکیج دیا تھا۔ جس میں 3 ارب ڈالرز کی نقد امداد اور 3 ارب 20 کروڑ ڈالرز کی سالانہ تیل و گیس کی مؤخر ادائیگیاں شامل تھیں۔

یہ معاہدہ تین سال تک قابلِ توسیع تھا۔ تاہم اگست میں سعودی عرب نے فراہم کردہ تین ارب ڈالرز میں سے ایک ارب ڈالر کی واپسی کا تقاضا کر دیا تھا۔

یہی نہیں سعودی عرب نے ادھار تیل کے معاہدے کو بھی مؤخر کر رکھا ہے۔

حالات میں پیدا شدہ سرد مہری کے اس دور میں پاکستان کو آئندہ سال کے آغاز میں امارات کو تین ارب ڈالر کی ادائیگی کرنا ہے جو کہ یو اے ای نے 2019 میں مشکل مالی صورت حال سے نکلنے کے لیے قرض کے طور پر دیے تھے۔

یو اے ای نے جنوری 2019 میں پاکستان کے اسٹیٹ بینک کے اکاؤنٹ میں تین سالہ مدت کے لیے تین ارب ڈالر کی رقم ڈالی تھی۔ جسے اب وقت سے پہلے ادا کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

مالی مشکلات کے شکار پاکستان کے لیے قرض کی واپسی آسان عمل نہیں ہے۔

حالیہ مہینوں میں سعودی عرب کو دو ارب ڈالر کی ادائیگی کے نتیجے میں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 13.3 ارب ڈالر تک محدود ہو گئے ہیں۔

ریاض نے بقیہ ایک ارب ڈالر کی جنوری میں واپسی کا تقاضا کر رکھا ہے اور یو اے ای کو تین ارب ڈالر واپس کرنے کی صورت میں پاکستان کے لیے ادائیگیوں کے توازن کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔

'یو اے ای پاکستان ایک دوسرے کی ضرورت ہیں'

حسن عسکری کہتے ہیں کہ پاکستانی وزیر خارجہ اپنے دورے میں اماراتی قیادت کے ساتھ مالی مشکلات اور پاکستانیوں کے ویزہ اور روزگار کے مسائل کا حل چاہیں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان اور اس کے خلیجی اتحادی ممالک کے درمیان دونوں ملکوں میں تحفظات اور شکایات ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔

حسن عسکری کہتے ہیں کہ شکایات اور تحفظات کے باوجود کوئی ملک دوسرے سے تعلقات کو خراب کرنا نہیں چاہے گا۔

پاکستان کے وزیر خارجہ نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ کو بھی دورے کی دعوت دے رکھی ہے اور اعلٰی حکومتی ذرائع کے مطابق جنوری میں سعودی عرب کا اعلٰی حکومتی و عسکری وفد اسلام آباد آئے گا۔

سابق سفارت کار علی سرور کہتے ہیں کہ یو اے ای، خطے میں اپنے تعلقات کو نئی جہت دے رہا ہے۔ جس میں بھارت سے قریبی تعلقات استوار کرنا بھی شامل ہے۔ تاہم آج کی دنیا میں باہمی تعلقات ایک طرفہ جھکاؤ کے ساتھ نہیں ہوتے اور کثیر الجہتی سفارت کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے اپنے خلیجی اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری پہلی مرتبہ پیدا نہیں ہوئی اور ماضی میں بھی اس طرح کی صورت حال کو باہمی بات چیت سے حل کیا گیا ہے۔

علی سرور کہتے ہیں کہ سعودی عرب اور امارات نے پاکستان کو جو قرض فراہم کیا وہ مقررہ وقت کے لیے تھا اور کرونا وائرس کی صورت میں ممکن ہے ان کے اپنے اقتصادی مسائل پیدا ہوئے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ سعودی سفیر کی حالیہ دنوں میں آرمی چیف سے ملاقات اور وزیر خارجہ کی آئندہ ماہ اسلام آباد آمد سے توقع کی جا سکتی ہے کہ دونوں جانب پائے جانے والے خدشات اور تحفظات کو دور کر لیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG