رسائی کے لنکس

logo-print

تیل پیدا کرنے والے ملکوں میں مقیم پاکستانی اور زرِ مبادلہ


ریاض۔

دنیا بھر، خاص طور سے تیل پیدا کرنے والے ملکوں میں مقیم پاکستانی جو غیر ملکی زر مبادلہ پاکستان بھیجتے تھے اس میں موجودہ صورت حال کے سبب خاصی کمی ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا سبب وہ لاک ڈاؤن ہے جو کرونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا میں جاری ہے۔ اور اس سے پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر کے حوالے سے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

تاہم، بعض ماہرین معاشیات کا یہ بھی کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی سے پاکستان کو بھاری رقوم کی بچت بھی ہو سکتی ہے۔

اقتصادی امور کے ممتاز ماہر ڈاکٹر اشفاق حسن نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے لئے زیادہ تر غیر ملکی زر مبادلہ ان پاکستانیوں کی جانب سے آتا ہے جو تیل پیدا کرنے والے ملکوں میں کام کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان ملکوں اور پاکستان میں لاک ڈاؤن اور مالیاتی چینلز بند ہونے کے سبب وہ سرکاری طور پر تو پاکستان رقم نہیں بھجوا سکتے۔ لیکن، اپنے گھر والوں کو تو انہیں بہرحال پیسے بھیجنے ہیں۔ اسلئے وہ سرکاری چینلز کے بجائے ہنڈی حوالے کا ذریعہ اختیار کریں گے اور نقصان حکومت کا ہو گا۔

تاہم، ڈاکٹر اشفاق حسن کا کہنا تھا کہ نہ صرف تیل کی قیمت میں کمی سے پاکستان جیسے ترقی پذیر ملکوں کو فائدہ ہو گا، بلکہ پاکستان میں اگر لاک ڈاؤن کے سبب درآمدات میں کمی ہوتی ہے اور درآمدات اور برآمدات میں فرق کم ہوتا ہے تب بھی پاکستان کو فائدہ پہنچے گا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں موجودہ صورت حال میں تیل کی طلب میں خاصی کمی ہوئی ہے۔ اور تیل پیدا کرنے والے ملکوں کے درمیان کوئی سمجھوتہ نہ ہونے کی وجہ سے تیل کی پیداوار میں کوئی کمی بھی نہیں ہوئی؛ اور لگتا ہے کہ یہ ہی صورت حال سال کے اختتام تک کم و بیش اسی طرح رہیگی اور پاکستان کو تیل کی برآمد کی مد میں فائدہ حاصل ہوتا رہے گا۔

ڈاکٹر اشفاق حسن نے مزید کہا کہ پاکستان کو بین الاقوامی اداروں سے لئے ہوئے قرضوں کی واپسی کی قسط کی ادائیگی کا مسئلہ بھی درپیش ہے اور ان حالات میں پاکستان ہی نہیں کسی بھی ترقی پذیر ملک کے لئے اس قسط کی ادائیگی مشکل ہوگی۔

اسلئے، ان ملکوں کو عالمی اداروں سے کہنا چاہئے کہ قرضوں کی اقساط کی ادائیگی دنیا کےحالات معمول پر آنے تک کے لئے موخر کر دی جائے۔ اور انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس بارے میں حکومت پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں بات کو آگے بڑھائے اور بین الاقوامی اداروں کو اپنی مجبوریوں کے بارے میں بتا کر، جنہیں وہ خود بھی سمجھتے ہیں، ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کرے۔

پاکستان اکسچینج ایسوسی ایشن کے سربراہ ملک بوستان نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی زر مبادلہ کی آمد میں کمی کی سب سے بڑی وجہ لاک ڈاؤن ہے، جہاں سے یہ بھیجا جاتا ہے وہاں بھی اور پاکستان میں بھی جہاں یہ آتا ہے۔

کیونکہ سرکاری چینلز کے ذریعے جو رقوم آتی ہیں انہیں وصول کرنے والے کو ایک منی ٹرانسفر نمبر لیکر بنک جانا ہوتا ہے جو رقم بھیجنے والا پیسے بنک کے حوالے کرکے اس سے لیتا ہے اور وصول کرنے والا بنک کو وہ نمبر دیکر اپنی رقم وصول کرتا ہے اور موجودہ صورت حال میں یہ عمل ممکن نہیں ہے۔ اس لئے پیسے کی آمد رکی ہوئی ہے اور انہوں نے کہا کہ اس سے پاکستان کے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر پر اثر پڑ سکتا ہے۔

تاہم، اس بات کے بھی خطرات ہیں کہ مشرق وسطٰی کے تیل پیدا کرنے والے ملکوں میں کام کرنے والے پاکستانیوں میں سے کچھ کو فارغ کر کے پاکستان واپس بھیج دیا جائے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، مشرق وسطٰی کے ایک چھوٹے تیل پیدا کرنے والے ملک سے کئی ہزار پاکستانیوں کو واپس بھیجا جا رہا ہے۔ اگر ایسا ہوا اور یہ سلسلہ جاری رہا تو یہ پاکستانی معیشت پر ایک اضافی بوجھ ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG