رسائی کے لنکس

logo-print

تیل پیدا کرنے والے ملکوں کا پیر کا اجلاس منسوخ


خلیج میکسیکو میں نصب خام تیل نکالنے والے پلیٹ فارم۔ فائل فوٹو

تیل پیدا کرنے والے اوپیک کے رکن اور غیر رکن ممالک کے درمیان پیداوار کم کر کے قیمتوں کو مستحکم کرنے کے معاملے پر پیر کے روز جو اجلاس ہونے والا تھا، وہ اب نہیں ہو سکے گا۔ چنانچہ تیل کی عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ اور عدم استحکام کا سلسہ جاری رہنے کا امکان ہے۔

اس صنعت کے ایک تجزیہ کار مسعود ابدالی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کے تیل کے وزیر کہہ چکے ہیں کہ ان کا ملک اسی وقت پیداوار میں کسی کٹوتی پر تیار ہو گا، جب روس سمیت دنیا کے دوسرے تمام تیل پیدا کرنے والے ملک، جن میں اوپیک کے ممالک اور امریکہ سمیت اوپیک سے باہر کے ممالک بھی شامل ہیں، تیل کی پیداوار میں کمی اور قیمتوں کو مستحکم بنانے کے کسی فارمولے پر متفق ہو جائیں گے۔

اطلاعات کے مطابق امریکی تیل کمپنیاں کسی قانونی پیچیدگی کے سبب اس میٹنگ میں شریک ہونے سے قاصر تھیں، اس لئے اب پیر کے روز کی طے شدہ میٹنگ نہیں ہو سکے گی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس نوعیت کی کوئی اور میٹنگ رواں ہفتے کے آخر تک شاید ہو سکے۔

خیال رہے کہ ایک جانب تو روس اب بڑے پیمانے پر اپنا تیل منڈی میں فروخت کر رہا ہے اور دوسری جانب امریکہ بھی بھاری مقدار میں اپنی سرزمین سے تیل نکال رہا ہے، جو اندرون ملک استعمال ہوتا ہے۔

مسود ابدالی کا کہنا ہے کہ امریکہ میں تیل نکالنے کی لاگت کوئی 38 ڈالر فی بیرل آتی ہے جب کہ سعودی عرب اپنا خام تیل اس سے کہیں کم قیمت پر منڈی میں فروخت کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں سعودی عرب کی جانب سے پیداوار میں اضافے کے بعد یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس سے امریکہ میں تیل کی صنعت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس لئے امریکہ چاہتا ہے کہ سعودی عرب وغیرہ اپنی تیل کی پیداوار میں کمی کریں۔ جب کہ سعودیوں کا موقف ہے کہ روس سمیت دوسرے تمام تیل پیدا کرنے والے ملک بھی اپنی اپنی پیداوار کم کریں۔

مسعود ابدالی نے مزید کہا کہ اب چونکہ وہ ممالک بھی، جو اوپیک کے رکن نہیں ہیں۔ بھاری مقدار میں تیل پیدا کر رہے ہیں، اس لئے اوپیک اب کسی حد تک غیر مؤثر ہو کر رہ گیا ہے۔ اور اس کا پیداوار اور قیمتوں پر وہ کنٹرول نہیں رہا جو کبھی ہوا کرتا تھا۔

چونکہ اس صورت حال سے امریکہ کی تیل کی صنعت کو نقصان پہنچ رہا ہے اسی لئے صدر ٹرمپ نے کرونا وائرس کے بارے میں اپنی روزانہ بریفنگ کے دوران ہفتے کے روز کہا کہ ہم اپنی تیل کی صنعت کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے اور تیل کی امریکی صنعت کے تحفظ اور انرجی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے تیل کی درآمدات پر ڈیوٹی عائد کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔

مسعود ابدالی کا کہنا تھا بنیادی طور پر روس اور سعودی عرب دونوں ہی تیل کی پیداوار میں کمی کے لئے تیار ہیں، لیکن وہ چاہتے ہیں کہ تیل پیدا کرنے والے تمام ممالک ایک پیج پر ہوں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG