رسائی کے لنکس

افغانستان میں دہشت گردی سے ’پاکستان کا کوئی تعلق نہیں‘


ترجمان میجر جنرل آصف غفور

فوج کے ترجمان نے پڑوسی ملک بھارت کے ساتھ تعلقات کے بارے میں کہا کہ پاکستان کسی سے جنگ نہیں چاہتا۔

پاکستانی فوج کے ترجمان نے منگل کو ایک نیوز بریفنگ میں جہاں اندرون ملک دہشت گردوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں اور اس جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا ذکر کیا وہیں اُنھوں نے پڑوسی ممالک بالخصوص بھارت اور افغانستان کے بارے میں بھی بات کی۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان کو افغانستان میں سلامتی کی صورت حال پر تشویش ہے۔

’’دہشت گردی کی اس جنگ میں ہم اپنے افغان بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔۔۔۔ افغانستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں پاکستان کسی طور بھی ملوث نہیں ہے۔‘‘

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد افغان قیادت سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے نا صرف جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا بلکہ سرحد کی نگرانی کے طریقہ کار اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے سے متعلق تجاویز بھی دیں۔

’’ہمیں اُمید ہے کہ اس سلسلے میں مثبت جواب دیا جائے گا، ہم نے بار ہا اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ہم اپنے ملک کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔‘‘

افغانستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے ایک بیان میں کہا کہ تھا کہ حملوں میں ملوث عناصر مبینہ طور پر پاکستان میں "رہتے، لوگوں کو بھرتی کرتے اور آزادانہ طور پر سرگرم ہیں اور پاکستان نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔"

تاہم پاکستانی عہدیداروں کی طرف سے ان الزامات کی تردید کی جاتی رہی ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ افغانستان کے دورے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

’’آرمی چیف نے افغانستان بالکل جانا ہے، یہ پلاننگ کا حصہ ہے، جیسے ہی اس بارے میں دونوں ملکوں کی کوآرڈینیشن ہو گی تو آرمی چیف افغانستان جائیں۔‘‘

اُنھوں نے پڑوسی ملک بھارت کے ساتھ تعلقات کے بارے میں کہا کہ پاکستان کسی سے جنگ نہیں چاہتا۔

’’بھارت ہمارا ہمسایہ ملک ہے، ہم کسی سے جنگ نہیں چاہتے کیوں کہ جنگ مسائل کا حل نہیں ہے۔۔۔۔ ہم کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کا حل اقوام متحدہ کی قرار داد کے مطابق اور بات چیت سے چاہتے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے اوڑی میں بھارتی فوج کے ایک ہیڈ کوارٹر پر مشتبہ عسکریت پسندوں کے حملے میں 18 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں بہت اضافہ ہو گیا تھا اور کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر فائرنگ و گولہ باری کے تبادلے کے واقعات معمول بن گئے تھے۔

لیکن حالیہ ہفتوں میں ایسے واقعات میں کمی آئی ہے۔

دہشت گردوں کے خلاف اندورن ملک جاری کارروائیوں کے بارے میں فوج کے ترجمان نے کہا کہ یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔

XS
SM
MD
LG