رسائی کے لنکس

پاکستان میں پانچویں جوہری بجلی گھر کا افتتاح


پاکستان میں حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری جوہری بجلی گھروں کی تکمیل کے بعد 2030ء تک نیشنل گرڈ میں 8,800 میگاواٹ بجلی شامل ہوگی۔

پاکستان کے وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی نے جمعے کو میانوالی کے قریب چشمہ کے مقام پر 'چشمہ فور' نامی جوہری بجلی گھر کا افتتاح کردیا ہے۔

چین کے اشتراک سے قائم کیے گئے ’سی فور‘ جوہری بجلی گھر سے قومی گرڈ میں 340 میگاواٹ بجلی شامل ہو گی۔

اس علاقے میں چین کے تعاون سے تعمیر کیا جانے والا یہ چوتھا جوہری بجلی گھر ہے۔

اس سے قبل چشمہ ون 2000ء، چشمہ ٹو 2011ء اور چشمہ تھری نے 2016ء میں تکمیل کے بعد قومی گرڈ میں بجلی شامل کرنا شروع کی تھی۔

چشمہ ون، ٹو، تھری اور فور کے علاوہ کراچی میں قائم ’کینپ‘ نامی جوہری بجلی گھر سے مجموعی طور پر 1370 میگاواٹ بجلی حاصل ہو سکے گی۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے 1972ء میں کراچی میں 137 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والا پہلا سول نیوکلیئر پاور پلانٹ لگا کر ملک میں جوہری بجلی گھروں کے قیام کے پروگرام کا آغاز کیا تھا۔

جمعے کو چشمہ فور کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں چار دہائیوں سے سول جوہری پروگرام جاری ہے۔

اُنھوں نے چینی کمپنیوں کو اس شعبے میں مزید سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ چشمہ کے علاوہ مظفر گڑھ میں بھی جوہری بجلی گھروں کی تعمیر کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے

کراچی کے قریب ’کے ٹو‘ اور ’کے تھری‘ نامی دو بڑے جوہری بجلی گھر زیرِ تعمیر ہیں جن میں سے ایک کا افتتاح سن 2020ء جب کہ دوسرے کا 2021ء میں ہو گا اور ان دونوں جوہری بجلی گھروں سے 2200 میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل ہو سکے گی۔

پاکستان میں حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری جوہری بجلی گھروں کی تکمیل کے بعد 2030ء تک نیشنل گرڈ میں 8,800 میگاواٹ بجلی شامل ہوگی۔

حکومت کا موقف رہا ہے کہ ملک میں قائم تمام سول نیوکلیئر پاور پلانٹس جوہری توانائی کے عالمی نگران ادارے ’انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی‘ (آئی اے ای اے) کے وضع کردہ معیار کے مطابق ہیں۔

لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ دنیا میں جوہری بجلی گھروں میں ہونے والے حادثات کے بعد اس ذریعے سے بجلی کے حصول کے بارے میں خدشات بدستور برقرار رہیں گے۔

تجزیہ کار اور فزکس کے ماہر اے ایچ نیر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ جوہری بجلی گھروں میں ہونے والی کوئی بھی تیکنیکی خرابی اُن علاقوں کی آبادی کے لیے ایک آفت ثابت ہو سکتی ہے جہاں یہ بجلی گھر قائم کیے جاتے ہیں۔

جاپان میں 2011ء میں آنے والے زلزلے اور سونامی سے فوکو شیما کے جوہری بجلی گھر کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ نقصان کے باعث اس تنصیب سے تابکار فضلے کا فضا اور سمندر میں اخراج شروع ہو گیا تھا اور مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس صورت حال سے متاثر ہوئی۔

حالیہ تاریخ میں فوکو شیما کے جوہری حادثے کو بدترین قرار دیا جاتا ہے اور اس کے بعد دنیا بھر میں جوہری بجلی گھروں کے تحفظ سے متعلق خدشات کا اظہار کیا جانے لگا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG