رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی شہری کے اغوا میں ملوث مبینہ دہشت گردوں کو مارنے کا دعویٰ


امریکی شہری وارن وائن سٹائن (فائل)

پنجاب کے محکمہ انسداد دہشت گردی نے ایک پولیس مقابلے میں داعش سے وابستہ دو مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ یہ دونوں دہشت گرد امریکی شہری وارن وائن سٹائن اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کے اغوا میں ملوث تھے۔

سی ٹی ڈی پنجاب کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ فیصل آباد میں ایک مکان میں دہشت گردوں کے چھپنے کی اطلاعات موصول ہونے پر کارروائی کی گئی اور دہشت گرد مزید کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مبینہ دہشت گردوں نے پولیس پر فائرنگ کی جب کہ پولیس کی جوابی فائرنگ سے دونوں دہشت گرد مارے گئے۔

’مبینہ دہشت گرد اہم کارروائیوں میں ملوث تھے‘

سی ٹی ڈی پنجاب کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے دہشت گرد سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی، پاکستان فوج کے افسر جنرل طارق مجید گیلانی کے داماد عامر ملک، برگیڈئیر طاہر اور امریکی شہری وارن وائن اسٹائن کے اغوا اور ملتان میں حساس ادارے کے افسران کے قتل سمیت اہم کارروائیوں میں ملوث تھے۔

سی ٹی ڈی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ دہشت گردوں نے سکیورٹی اداروں پر حملے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ دہشت گردوں کے قبضے سے خودکش جیکٹس، اسلحہ، ہینڈ گرینیڈ اور دیگر سامان برآمد ہوا ہے۔

امریکی شہری وارن وائن سٹائن کون تھے؟

امریکی شہری وارن وائن اسٹائن لاہور میں ایک ترقیاتی کمپنی میں کنسلٹنٹ کی حیثیت سے خدمات فراہم کر رہے تھے۔ اگست 2011ء میں انھیں لاہور میں اُن کی رہائش گاہ سے اغوا کیا گیا تھا۔

جس کے بعد وہ افغانستان میں کئی عرصے تک طالبان کی قید میں رہے اور افغان طالبان نے اُن کے ویڈیو پیغام جاری کیے۔ القاعدہ کے اُس وقت کے رہنما ایمن الظواہری نے اپنے ویڈیو پیغام میں وارن وائن سٹائن کی رہائی کو افغانستان اور پاکستان میں فضائی حملے بند کرنے سے مشروط کیا تھا۔

سنہ 2015ء میں اُس وقت کے صدر براک اوباما نے اعلان کیا تھا کہ امریکی شہری وران وائن سٹائن افغانستان میں القاعدہ کے خلاف ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG