رسائی کے لنکس

logo-print

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز پر حملوں کی نئی لہر


فائل فوٹو

گزشتہ اور رواں ماہ کے دوران جن اضلاع میں بدامنی کے واقعات پیش آئے ہیں ان سب کی سرحدیں افغانستان کے ساتھ لگتی ہیں ، ان میں قلعہ سیف اللہ ، پشین ، مستونگ اور دالبندین کے اضلاع شامل ہیں۔

بلوچستان کے شمالی اضلاع میں ایک بار پھر امن وامان کا مسئلہ پیدا ہو تا جا رہا ہے۔ منگل اور بدھ کی رات کو نا معلوم حملہ آوروں نے لیویز اہل کاروں پر فائرنگ کر کے دو کو ہلاک اور ایک کو زخمی کر دیا۔

دو روز پہلے بھی قلعہ سیف اللہ بازار میں لیویز کے ایک رسالدار کو فائرنگ سے ہلاک کردیا گیا تھا۔

لیو یز تحصیلدار زرین خان کاکڑ نے وائس اف امر یکہ کو بتایا کہ لیویز اہل کاران محمد اکرم اور محمد کبیر حمزہ زئی قلعہ سیف اللہ بازار میں جنکشن چوک پر لیویز کی چیک پوسٹ پر ڈیوٹی دے رہے تھے۔ اسی دوران چار مسلح نقاب پوش موٹر سائیکلوں پر وہاں پہنچے اور اہل کاروں پر اندھا دُھند گولیاں برسا دیں جس سے دونوں نوجوان موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ فائرنگ سے لیویز کا تیسرا اہل کار زخمی ہوا جسے مقامی اسپتال منتقل کردیا گیا۔

واقعہ کے بعد مقامی انتظامیہ اور لیویز افسران موقع پر پہنچے اور وہاں موجود عینی شاہدین سے واقعہ کے بار ے میں معلومات حاصل کیں اور شواہد جمع کئے۔

دو روز پہلے اتوار کی شام کو مو ٹر سوار نامعلوم حملہ آوروں قلعہ سیف اللہ بازار میں لیویز کے ایک عہدے دار کو فائرنگ سے ہلاک کرنے کے بعد موقع سے فرار ہو گئے تھے۔

کالعدم تحر یک طالبان پاکستان نے ان دونوں واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

گزشتہ جمعے کے روز بلوچستان کے شمالی ضلع پشین میں اسسٹنٹ کمشنر کی گاڑی پر بم حملے میں تین سیکورٹی اہل کار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے تھے۔

دوسری طرف پیر کی رات کو بلوچستان کے ضلع دالبندین کے ضلعی ہیڈ کوارٹر دالبندین بازار میں ایک بم دھماکے میں 8 افراد زخمی ہو گئے۔

کسی گروپ کی طرف سے ابھی تک اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے تشدد کے ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ سیکورٹی کے انتظامات مزید بہتر بنائیں اور ان واقعات میں ملوث عناصر کی گرفتاری کو یقینی بنائیں۔

گزشتہ ماہ کے دوران ضلع مستونگ کے علاقے شیخ واصل میں انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) فورس کی تین گاڑیوں پر مشتمل قافلہ پر بم حملے میں سیکورٹی اداروں کے تین جوان زخمی ہو گئے تھے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کے نوے فیصد علاقوں میں امن وامان برقرار رکھنے کے اختیارات لیویز کو تفويض کئے گئے ہیں جبکہ پولیس کے اختیارات صرف چند اضلاع کے ضلعی مراکز تک محدود ہیں۔

گزشتہ اور رواں ماہ کے دوران جن اضلاع میں بدامنی کے واقعات پیش آئے ہیں ان سب کی سرحدیں افغانستان کے ساتھ لگتی ہیں۔ ان میں قلعہ سیف اللہ، پشین، مستونگ اور دالبندین کے اضلاع شامل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG