رسائی کے لنکس

logo-print

فوج کی جسٹس شوکت صدیقی کے خلاف کارروائی کی 'درخواست'


پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور (فائل فوٹو)

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جسٹس ثاقب نثار نے بھی جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی تقریر کا نوٹس لیتے ہوئے ان کے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

پاکستان کی فوج نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی طرف سے فوج کی خفیہ ایجنسی 'آئی ایس آئی' پر لگائے جانے والے الزامات پر سپریم کورٹ آف پاکستان سے متعلقہ جج کے خلاف ایکشن لینے کی درخواست کردی ہے۔

پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے اتوار کو ٹوئٹر پر جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج نے ریاستی اداروں بشمول معزز عدلیہ اور ملک کے سب سے بڑے انٹیلی جنس ادارے پر سنگین الزامات عائد کیے۔

بیان کے مطابق ریاستی اداروں کا احترام اور وقار یقینی بنانے کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان سے درخواست کی گئی ہے کہ اس ضمن میں ان الزامات کی جانچ پڑتال کی جائے اور اس کے مطابق ضابطے کی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جسٹس ثاقب نثار نے بھی جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی تقریر کا نوٹس لیتے ہوئے ان کے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

اتوار کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے جسٹس صدیقی کی تقریر پر ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کے ایک جج کا بیان پڑھا جس پر بہت افسوس ہوا۔

انہوں نے کہا کہ وہ عدلیہ کے سربراہ کے طور پر یقین دلاتے ہیں کہ عدالتوں پر کسی کا کوئی دباؤ نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم پوری طرح آزاد اور خود مختار کام کر رہے ہیں۔ ہمارے ججوں پر کہیں کوئی دباؤ نہیں۔ اس طرح کے بیانات ناقابلِِ فہم اور ناقابلِِ قبول ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ جائزہ لیں گے کہ بیان دینے والے جج کے خلاف کیا قانونی کارروائی ہوسکتی ہے۔ ان کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے اور حقائق قوم کے سامنے لائیں گے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ہفتے کو راولپنڈی بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے فوج کی خفیہ ایجنسی 'آئی ایس آئی' پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔

جسٹس صدیقی نے کہا تھا کہ 'آئی ایس آئی' عدالتوں میں اپنی مرضی کے بینچ بنوا رہی ہے اور خفیہ ادارے کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کو انتخابات سے پہلے جیل سے باہر نہ آنے دیا جائے۔

جسٹس شوکت عزیز نے ملک میں خوف اور جبر کی فضا کا ذمہ دار عدلیہ کو قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ میڈیا والے بھی گھٹنے ٹیک چکے ہیں اور سچ نہیں بتا سکتے۔ میڈیا کی آزادی بھی بندوق کی نوک پر سلب ہو چکی ہے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے فوج اور 'آئی ایس آئی' سے متعلق بیان کو پاکستانی کے مقامی ذرائع ابلاغ نے نشر نہیں کیا تھا لیکن سوشل میڈیا پر اس بیان کے بعد سے فوج کے سیاست میں مبینہ کردار پر پہلے سے جاری بحث مزید شدید ہوگئی ہے۔

پاکستان میں حالیہ دنوں میں خفیہ ادارے 'آئی ایس آئی' کی عدلیہ میں مداخلت کے بارے میں مختلف الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔

سابق وزیرِ اعظم نوازشریف نے بھی حساس اداروں کی جانب سے سیاسی عمل میں مداخلت پر انہیں خلائی مخلوق کہہ کر مخاطب کیا تھا جبکہ انہوں نے ملتان میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار پر مبینہ طور پر اس کی وفاداری تبدیل کرانے کے لیے کیے جانے والے تشدد کا الزام بھی 'آئی ایس آئی' کے افسران پر عائد کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG