رسائی کے لنکس

logo-print

فوج کا انتخابات سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں: ترجمان


سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین رحمان ملک کی صدارت میں ہو رہا ہے۔

انسدادِ دہشت گردی کے قومی ادارے 'نیشنل کاؤنٹر ٹیرر ازم اتھارٹی' (نیکٹا) کے سربراہ ڈاکٹر سلیمان نے اجلاس کو بتایا کہ ملک میں تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کو خطرہ ہے۔

پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر)کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ فوج کا انتخابات سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں اور وہ صرف انتخابی عمل کی سکیورٹی کے لیے الیکشن کمیشن سے مل کر کام کر رہی ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے یہ بات جمعرات کو پارلیمان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس کے دوران کہی۔

اجلاس میں کمیٹی کے ارکان کے علاوہ جی ایچ کیو (فوج کے صدر دفتر) کے نمائندے، انسدادِ دہشت گردی کے قومی ادارے (نیکٹا) کے کوآرڈینیٹر، چاروں صوبوں اور وفاقی دارالحکومت کے پولیس سربراہان، وفاقی و صوبائی سیکریٹریز برائے داخلہ اور سیکریٹری الیکشن کمیشن بھی شریک ہوئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اجلاس کو بتایا کہ انتخابات کے دوران پولنگ اسٹیشنز پر 3 لاکھ 71 ہزار جوان تعینات ہوں گے۔ کس علاقے میں کتنا خطرہ ہے اور وہاں کتنی نفری چاہیے، اس پر بھی فوج نے کام کیا ہے۔ بلوچستان میں چیلنجز زیادہ ہیں۔ وہاں جتنی فورس چاہیے تھی، لگائی گئی ہے۔

سینیٹر کلثوم پروین کے اس سوال پر کس جگہ پر کتنے جوان تعینات کیے جا رہے ہیں؟ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سکیورٹی سے متعلق فوج نے ہر جگہ کا تجزیہ کیا ہے۔ منصوبہ بندی کا معاملہ ان پر چھوڑ دیں۔ فوج کو پتہ ہے کہ کس جگہ کتنے بندے تعینات کرنے ہیں۔

ایک سوال کے جواب پر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ جب افغانستان میں انتخابات ہوئے تھے تو پاکستان نے سرحد کی اس طرف غیر معمولی اقدامات کیے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اس بار افغانستان کے صدر نے وزیرِ اعظم اور آرمی چیف کو فون کرکے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوج کسی سیاسی لیڈر کے ساتھ منسلک نہیں اور فوج کسی سیاست دان کی سکیورٹی کی براہِ راست ذمہ داری بھی نہیں لے رہی۔ سیاسی امیدواروں کی سکیورٹی حکومتِ پاکستان اور الیکشن کمشن کی ذمہ داری ہے۔

انسدادِ دہشت گردی کے قومی ادارے 'نیشنل کاؤنٹر ٹیرر ازم اتھارٹی' (نیکٹا) کے سربراہ ڈاکٹر سلیمان نے اجلاس کو بتایا کہ ملک میں تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کو خطرہ ہے۔

ڈاکٹر سلیمان نے بتایا کہ اب تک 65 تھریٹ الرٹ ملے ہیں جن میں سے کالعدم تحریکِ طالبان کی طرف سے سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ کالعدم جماعت الاحرار اور داعش سے بھی خطرات آئے ہیں جب کہ ان کے بقول ایم کیو ایم لندن کی طرف سے بھی ایک تھریٹ الرٹ ریکارڈ پر ہے۔

ڈاکٹر سلیمان نے مزید بتایا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں زیادہ خطرہ ہے۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو کومبنگ آپریشنز لانچ کرنے چاہئیں جب کہ اضلاع اور تھانوں کی سطح پر کو آرڈینیشن کمیٹیاں قائم کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ نیکٹا انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹس کو صوبوں سے شیئر کرتا ہے۔ جن سیاسی قائدین کی زندگیوں کو خطرہ ہے ان کی فہرست کمیٹی کودی جائے گی۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب نے کہا کہ الیکشن کے روز فوج پریزائیڈنگ افسر کے ماتحت کام کرے گی۔ یہ تاثر دیا گیا کہ فوج آزاد حیثیت میں کام کرے گی جو ان کے بقول درست نہیں۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات کے موقع پر دہشت گردی کا خطرہ ہوتا ہے۔ امیدواروں کا تحفظ، عملے اور پولنگ اسٹیشنز کا تحفظ ضروری ہے۔ اٹھارہ ہزار پولنگ اسٹیشنز پر کیمرے لگائے جائیں گے۔

سیکریٹری کا کہنا تھا کہ طے شدہ طریقہ کار پر چلا جائے گا، پھر کارروائی کی جائے گی۔ ضابطہ اخلاق تحریری طور پر رکھا گیا ہے۔ بعض سیاسی جماعتوں کے قابلِ اعتراض اشتہارات کا نوٹس لیا ہے۔

اجلاس کے دوران کمیٹی چیئرمین رحمان ملک نے کہا کہ پاکستان کی مدد کا افغانستان نے ہمیشہ دوستانہ جواب نہیں دیا۔ افغان انٹیلی جنس ایجنسی بھارت کی ایما پر پاکستان کے خلاف ہمیشہ متحرک رہی ہے۔ الیکشن کے دوران افغانستان، پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہوسکتا ہے۔

بلوچستان پولیس کے اعلٰی حکام نے اجلاس کو بتایا کہ مستونگ خود کش حملے میں ملوث شخص کی شناخت ہوچکی ہے۔

حکام کے مطابق حملے میں حافظ نواز نامی شخص ملوث تھا جس کا تعلق ایبٹ آباد سے تھا۔ بعد میں ملزم سندھ چلا گیا تھا جہاں اس نے داعش میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ خود کش حملہ آور کے دو سہولت کاروں کو پکڑنے کی کوشش جاری ہے۔

خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ نے کمیٹی کو بتایا کہ خود کش حملے میں ہلاک ہونے والے اے این پی کے رہنما ہارون بلور کو کوئی تھریٹ موصول نہیں ہوا تھا۔

انہیں نشانہ بنانے والے خود کش حملہ آور کا تعلق ہنگو سے تھا جس کے سہولت کاروں کا پتا لگا رہے ہیں۔

دورانِ اجلاس سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ کیا باقی ملکوں میں بھی فوج پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر تعینات کی جاتی ہے؟ کہیں ایف آئی اے تو کہیں نیب کارروائیاں کر رہے ہیں۔ نگران سیٹ اپ غیر جانب دار نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن قبل از انتخاب دھاندلی پر کیا کر رہا ہے؟

سینیٹر رانا مقبول نے کہا کہ سیاسی کارکنوں پردہشت گردی کے مقدمات اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے ریمارکس پر الیکشن کمیشن نے کیا کیا؟

اس پر سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ پریزائیڈنگ افسران کو فوجی افسران کے خط کا معاملہ فوج سے اٹھایا ہے۔ اسے غلطی بتاتے ہوئے معذرت کی گئی ہے۔ چیئرمین نیب نے بھی نیب حکام کی جانب سے آئندہ کسی کو ہراساں نہ کیے جانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریاں رک گئی ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ کمیٹی کی رکن شیریں رحمان کو دھمکیاں دینے والے سکیورٹی اہلکاروں کے نام وزارتِ دفاع کو بھجوا دیے گئے ہیں جہاں معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

قائمہ کمیٹی نے اپنے اجلاس میں الیکشن سے قبل گرفتار مسلم لیگ (ن) کے کارکنان کی رہائی جب کہ جلسوں میں گالم گلوچ کرنے والے سیاست دانوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی بھی ہدایت کی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG