رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کا ’ابابیل‘ میزائل کا تجربہ


پاکستانی فوج کے مطابق اس تجربے کا مقصد میزائل نظام کے ڈیزائن اور تکنیکی پہلوؤں کی جانچ تھا اور یہ ملکی دفاعی صلاحیت میں اضافے کا سبب بنے گا۔

پاکستان نے زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل ابابیل کا ’’کامیاب‘‘ تجربہ کیا ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ سے منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق یہ میزائل 2200 کلومیٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ جوہری ہتھیاروں کو اپنے ہدف لے جانے کی صلاحیت رکھنے والا یہ میزائل دشمن کے دفاعی ریڈار نظام سے بچتے ہوئے ایک سے زائد اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

پاکستانی فوج کے مطابق اس تجربے کا مقصد میزائل نظام کے ڈیزائن اور تکنیکی پہلوؤں کی جانچ تھا اور یہ ملکی دفاعی صلاحیت میں اضافے کا سبب بنے گا۔

واضح رہے کہ حال ہی میں بھارت نے زمین سے زمین تک مار کرنے والے اگنی فور بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا۔

بھارت کی طرف سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کے تجربے پر پاکستان نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

پاکستان میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کو اسلحے کی دوڑ میں شامل ہونے سے گریز کرنا چاہیئے۔

فزکس کے ماہر اور تجزیہ کار اے ایچ نئیر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کو میزائلوں کی تیاری کی بجائے اپنی مہارت ’’خلائی‘‘ امور سے متعلق تحقیق پر صرف کرنی چاہیئے۔

’’پاکستان اس ٹیکنالوجی کے ارتقا کو نیا رخ دے سکتا ہے۔۔۔۔ ہتھیاروں کی دوڑ کی بجائے اگر پاکستان اس کو خلائی تحقیق کی طرف لے جائے تو بہتر مقام تک پہنچ سکتا ہے۔‘‘

رواں ماہ کے اوائل ہی میں پاکستان نے آبدوز کے ذریعے فائر کیے گئے کروز میزائل بابر تھری کا بھی ’’کامیاب‘‘ تجربہ کیا تھا۔

فوج کے مطابق بابر تھری میزائل 450 کلومیٹر تک اپنے ہدف کو کامیابی سے مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

XS
SM
MD
LG