رسائی کے لنکس

logo-print

'مسلم لیگ ن کے نمائندوں نے رشوت کی پیشکش کی'


احتساب عدالت کے جج ارشد ملک (فائل فوٹو)

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو کو جعلی قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ نواز شریف کے خلاف مقدمات کی سماعت کے دوران انھیں متعدد بار مسلم لیگ ن کی جانب سے رشوت کی پیشکش کی گئی۔

اتوار کو جاری کیے گئے ایک بیان میں جج ارشد ملک نے کہا کہ رشوت کی پیشکش مسترد کرنے پر انھیں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

ارشد ملک کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف کیس کا فیصلہ 'میں نے خدا کو حاضر ناظر جان کر اور قانون و شواہد کی بنیاد پر دیا۔'

احتساب عدالت کے رجسٹرار نے جج ارشد ملک کا بیان ان کے اپنے دستخطوں سے جاری کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ مجھ پر بلواسطہ یا بلا واسطہ کوئی دباؤ نہیں تھا، اس کیس کے حوالے سے کوئی لالچ بھی پیش نظر نہیں تھا۔

ارشد ملک کا کہنا تھا کہ 'مجھ پر سنگین الزامات لگا کر میرے ادارے، میری ذات اور خاندان کی ساکھ کو متاثر کرنے کی سازش کی گئی۔'

انھوں نے کہا کہ مریم نواز کی پریس کانفرنس میں دکھائی جانے والی ویڈیوز حقائق کے برعکس ہیں اور ویڈیوز میں مختلف موقعوں اور موضوعات پر کی جانے والی گفتگو کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے ویڈیو میں موجود مسلم لیگ (ن) کے عہدیدار ناصر بٹ کے ساتھ ملاقاتوں کو تسلیم کیا اور کہا کہ میں راولپنڈی کا رہائشی ہوں جہاں میں جج بننے سے پہلے وکالت کرتا رہا ہوں اور ویڈیوز میں دکھائے گئے کردار ناصر بٹ کا تعلق بھی اسی شہر سے ہے۔

انھوں نے بتایا کہ میری ناصر بٹ سے پرانی شناسائی ہے۔ ناصر بٹ اور اس کا بھائی عبداللہ بٹ عرصہ دراز سے مختلف اوقات میں مجھ سے بے شمار مرتبہ مل چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ مریم نواز کی پریس کانفرنس کے بعد یہ ضروری ہے کہ سچ منظر عام پر لایا جائے۔

مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے اس معاملے پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ آڈیو ویڈیو ٹیپ بنانے اور چلانے والے دونوں کردار سند یافتہ جھوٹے ہیں، ایک قاتل اور غنڈہ گینگ کا سربراہ جبکہ دوسری کیلبری فونٹ کی معروف جعلساز ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ اگر جج ارشد ملک کو رشوت کی پیشکش اور دھمکیاں دی گئیں تو انھوں نے اس وقت سپر وائزری جج کو اس حوالے سے کیوں نہ آگاہ کیا۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے نواز شریف کے خلاف مقدمات کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کو سپروائزری جج مقرر کیا تھا۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اگر روزانہ دھمکیاں مل رہی تھیں تو نوازشریف ان کی عدالت میں پیش ہوتے تھے۔ ان سے اسی وقت بازپرس کیوں نہ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جج ارشد ملک متنازعہ بیانات دے رہے ہیں۔

سیکرٹری جنرل پاکستان پیپلز پارٹی سید نیر حسین بخاری نے ایک بیان میں کہا کہ عدلیہ کی ساکھ پر سوالات افسوسناک ہیں۔ سپریم کورٹ ویڈیو لیک کے بارے میں کھلی سماعت کرے اور آزاد عدلیہ کے تصور کو یقینی بنانے کے لئے سپریم کورٹ انصاف کے تقاضے پورے کرے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق جج ارشد ملک نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں وہ مبینہ ویڈیو کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کریں گے۔

مریم نواز نے ہفتے کے روز ایک پریس کانفرنس میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ایک مبینہ ویڈیو جاری کی تھی جس میں انھیں یہ اعتراف کرتے دکھایا گیا تھا کہ انھوں نے نواز شریف کے خلاف فیصلہ کسی کے دباؤ میں دیا تھا۔

نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس میں فیصلہ گزشتہ سال دسمبر میں سنایا گیا تھا۔ انھیں سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ نواز شریف یہ سزا لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں کاٹ رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG