رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کی بھارت کو زمینی راستے کی پیشکش کیا پالیسی میں تبدیلی؟


فائل

پاکستان نے بھارت کو وسطی ایشائی ریاستوں تک زمینی راستے سے رسائی دینے کی پیشکش کی ہے۔

بھارت کی دیرینہ خواہش ہے کہ وہ اپنی مصنوعات کی وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی کے لیے پاکستان کی راہداری استعمال کرے۔

پاک فوج کے ترجمان نے اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ خطے میں بھرپور معاشی سرگرمیوں کے لئے مشرق سے مغرب راہداری ضروری ہے تاکہ وسط ایشائی ریاستوں تک رسائی ہو سکے لیکن کیا یہ بات بھارت کو سمجھ آئے گی۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا تھا کہ جنوبی ایشائی ریاستوں کی وسط ایشائی خطے تک رسائی کے لئے ضروری ہے پہلے علاقائی تنازعات کا حل نکالا جائے، جب امن ہوگا تو ترقی بھی ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ " اب بھارت کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ 27 فروری دہرانا چاہتا ہے یا غربت و افلاس کے خلاف جنگ کرنا چاہتا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں دوسرے ممالک کے معاشی مفادات پیدا ہوں تاکہ دیر پا امن کی راہ ہموار ہوسکے۔

پاکستان کی جانب سے یہ پیشکش ایسے وقت میں کی گئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے اور بھارت میں انتخابات کا عمل جاری ہے

پاکستان کی پالیسی میں بڑی تبدیلی

پاکستان اور افغانستان کے راستے وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی، بھارت کی دیرینہ خواہش رہی ہے اور غیر رسمی رابطوں میں بھی یہ زیر بحث رہا ہے تاہم پاکستان کی جانب سے عوامی سطح پر اس کی پیشکش پہلی بار سامنے آئی ہے۔

اقتصادی ماہرین بھارت کو اقتصادی مقصد کے لیے راہداری کی پیشکش کو بڑی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

قائد اعظم یونیورسٹی کے عالمی امور کے پروفیسر ڈاکٹر طاہر جمیل کے مطابق پاکستان اپنی معیشت کو استحکام دینا چاہتا ہے اور اسے احساس ہے کہ خطے میں تجارت کے فروغ کے بغیر ایسا ممکن نہیں ہوسکتا۔

ان کے مطابق ایسے حلقوں کی جانب سے یہ پیش کش آنا جن کے بارے یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ پالیسی فیصلے کرتے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اس میں سنجیدہ ہے اور اب بھارت کو بھی سنجیدگی دکھانا ہوگی۔

داکٹر طاہر جمیل کے مطابق پاکستان تجارت اور معیشت کے حوالے سے صرف سی پیک اور چین پر انحصار نہین کرنا چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ خطے کے ممالک تجارت پر توجہ دے رہے ہیں لیکن کشمیر اور دیگر علاقائی تنازعات کے باعث ایسی کوششیں اکثر کامیاب نہیں ہو پاتیں۔

علاقائی تعاون کے منصوبے امن سے مشروط

وسط ایشیائی ملک ترکمانستان سے پاکستان اور بھارت کو گیس کی فراہمی کا منصوبہ ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور بھارت گیس پائپ لائن منصوبہ (ٹاپی) پر بھی رواں سال کام کا آغاز ہونے جارہا ہے۔ ساڑھے سات ارب ڈالر مالیت کے اس منصوبے کے تحت ایک ہزار آٹھ سو چودہ کلو میٹر لمبی پائپ لائن بچھائی جائے گی۔

اس وقت افغانستان میں استحکام کے لئے امن مذاکرات جاری ہیں اور ماہرین پاکستان کی جانب سے بھارت کو اس پیشکش کے وقت کو بہت اہمیت دے رہے ہیں۔

ماہر وسط ایشیائی امور ڈاکٹر آدم سعود کے مطابق افغانستان میں امن مذاکرات کے باعث صورتحال پاکستان کے حق میں ہورہی ہے اور چین، روس سمیت عالمی طاقتیں چاہتیں ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تصفیہ طلب مسائل حل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ چین بھی چاہتا ہے کہ افغانستان اور ایران کو ساتھ ملا کہ وسط ایشاء تک راہداری بنائی جا سکے۔

اس سے قبل پاکستان نے سکھ یاتریوں کے لئے ان کے مذہبی مقام کرتار پور تک بغیر ویزہ رسائی کی پیشکش بھی کی تھی۔ جس پر دونوں ملک کام کررہے ہیں اور نومبر میں یہ راہداری مکمل کر لی جائی گی۔

معشیت کی قیمت پر سیاست نہیں

ماہرین کے مطابق پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے لیے بڑی تجارتی منڈیاں ہو سکتے ہیں لیکن دونوں ملکوں کے کشیدہ تعلقات سے نقصان عوام کو اٹھانا پڑتا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک تاحال ایک دوسرے کی تجارتی منڈیوں سے مستفید نہیں ہو سکیے ہیں۔

عالمی بینک نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ اگر اسلام آباد اور دہلی باہمی تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو دوطرفہ تجارت کی سطح کو 37 ارب ڈالر تک بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان باہمی تجارت کا سالانہ حجم اس وقت لگ بھگ دو ارب ڈالر کے قریب ہے۔۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG