رسائی کے لنکس

logo-print

حکومت سے مذاکرات کی پیش کش مسترد، پی ڈی ایم کا پہیہ جام اور لانگ مارچ کا اعلان


مولانا فضل الرحمن اسلام آباد میں پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعد فیصلوں کا اعلان کر رہے ہیں۔ 8 دسمبر 2020

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے وزیر اعظم عمران خان کی ڈائیلاگ کی پیش کش کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ حزب اختلاف کے اراکین اسمبلی 31 دسمبر تک اپنے استعفے پارٹی قیادت کو جمع کروائیں گے۔

پی ڈی ایم کے اسلام آباد میں منعقدہ سربراہی اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمن نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں سے اجتماعی طور پر مستعفی ہونے کا فیصلہ مناسب وقت پر کیا جائے گا۔

ذرائع ابلاغ میں حزب اختلاف جماعتوں کے درمیان استعفوں کے معاملے پر اختلافات کی اطلاعات کے تناظر میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ’اجلاس سے پہلے کی خبروں کی تردید ہو گئی ہے اور ہم عوام کو مایوس نہیں کریں گے۔‘

خیال رہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت مخالف تحریک چلائے ہوئے ہیں، جس کے حتمی مرحلے کے طور پر رہنماؤں نے پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے کے اعلانات کر رکھے ہیں۔

دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے عمل سے وہ خوف زدہ نہیں اور ان خالی نشستوں پر دوبارہ انتخاب کروائے جائیں گے۔

اس سوال پر کہ وزیر اعظم عمران خان کہ چکے ہیں کہ وہ خالی نشستوں پر دوبارہ انتخاب کروا دیں گے پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ان کی حکومت مخالف تحریک کے پہلے مرحلے سے ہی حکومت کی چولیں ہل چکی ہیں اور اب وہ آخری دھکا دینے جارہے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ حزب اختلاف اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے بعد اپنے استعفی واپس نہیں لے گی۔

پی ڈی ایم کے صدر نے وزیر اعظم عمران خان کے ڈائیلاگ کی پیش کش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ حزب اختلاف سے ڈائیلاگ نہیں این آر او چاہتی ہے جسے وہ دینے کو تیار نہیں ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے منگل کو کالم نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے حزب اختلاف کو بات چیت کی پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ وہ احتساب پر سمجھوتہ کئے بغیر اپوزیشن کو ڈائیلاگ کی دعوت دیتے ہیں۔

پی ڈی ایم کی ریلی
پی ڈی ایم کی ریلی

پی ڈی ایم کے صدر نے اعلان کیا ہے کہ 13 دسمبر کو لاہور میں جلسہ مینار پاکستان پر ہی ہو گا اور اگر حکومت نے کوئی رکاوٹ ڈالی تو ملتان سے زیادہ مشکل صورتحال پیدا کردیں گے۔

اکتوبر کے وسط میں گوجرانوالہ جلسے سے شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کا آخری جلسہ 13 دسمبر کو سیاسی سرگرمیوں کے مرکز لاہور میں مسلم لیگ (ن) کی میزبانی میں ہو گا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث وہ اپوزیشن کو لاہور میں جلسے کی اجازت نہیں دے سکتے البتہ اس میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی جبکہ حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ حکومت کرونا وائرس کو ان کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے بتایا کہ حزب اختلاف جماعتوں کے سربراہوں نے حکومت مخالف تحریک کے اگلے مرحلے میں پہیہ جام ہڑتال اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا فیصلہ کیا ہے، جس کی تاریخ کا تعین پی ڈی ایم کی اسٹیرنگ کمیٹی کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس بدھ کو اسلام آباد میں ہوگا اور تحریک کے اگلے مرحلے کا اعلان لاہور کے جلسہ عام میں کیا جائے گا۔

اس سے قبل مولانا فضل الرحمن کی زیر صدارت پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس سے مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف، سابق صدر آصف علی زرداری نے ویڈیو لنک کے زریعے اجلاس سے خطاب کیا ، جب کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور کرونا ٹیسٹ کی رپورٹ منفی آنے کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو بھی اس اجلاس میں شریک ہوئے۔

اس سے قبل آج اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے لیے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کی قیادت نے احتجاجی تحریک کے دوسرے مرحلے پر غور کیا۔

اکتوبر کے وسط میں گوجرانوالہ جلسے سے شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کا آخری جلسہ 13 دسمبر کو سیاسی سرگرمیوں کے مرکز لاہور میں مسلم لیگ (ن) کی میزبانی میں ہو گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حزبِ اختلاف اتحاد کے ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو اگلے مرحلے میں اسلام آباد کی جانب مارچ، احتجاجی دھرنا اور اسمبلیوں سے اجتماعی استعفوں کا فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ایک بیان میں کہا کہ اب تحریک فیصلہ کُن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اب آر یا پار ہو گا۔

انہوں نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اراکین سے کہا کہ اگر پی ڈی ایم استعفوں کا فیصلہ کرے تو تمام دباؤ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مستعفی ہو جائیں۔

تاہم تجزیہ کاروں کے بقول سندھ میں حکومتی جماعت اور مرکز میں اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت پیپلزپارٹی استعفوں کے معاملے پر ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو واضح کر چکے ہیں کہ اسمبلیوں سے استعفے 'ایٹم بم' کے مترادف ہیں جسے سوچ سمجھ کر استعمال کیا جائے گا۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حزبِ اختلاف مینار پاکستان پر 10 جلسے بھی کر لے تو حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

پارٹی ترجمانوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن تصادم چاہتی ہے مگر انہیں یہ موقع فراہم نہیں کریں گے اور لاہور کے جلسہ میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔

عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن عوام کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہی ہے اور ان کی حکومت کسی بھی دباؤ میں آئے بغیر احتساب کا عمل جاری رکھے گی۔

پی ڈی ایم کے سیکرٹری جنرل اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے نجی ٹی وی 'اے آر وائی نیوز' سے گفتگو میں کہا کہ حکومت کے خاتمے کے لیے تحریک کے دوسرے مرحلے میں احتجاج کو تیز کرنے، لانگ مارچ اور اسمبلیوں سے استعفے کی تجاویز زیرِ غور ہیں۔

تجزیہ کار افتخار احمد کہتے ہیں کہ حزبِ اختلاف کی احتجاجی تحریک سے تاحال حکومت کے جانے کی صورت تو دکھائی نہیں دیتی مگر ان کی پشت پر کھڑی اسٹیبلشمنٹ خاصی دباؤ میں ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ پر اس قدر دباؤ ماضی میں دیکھنے میں نہیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی تقاریر کے نتیجے میں فوج کے سب سے زیادہ حمایت رکھنے والے صوبے پنجاب میں بھی ان کی سیاست میں مداخلت پر بات ہو رہی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ فوج کی سیاست میں مداخلت کی کئی مواقع پر تردید کرتے رہے ہیں۔ تاہم اُن کا یہ مؤقف رہا ہے کہ وہ آئین کے تحت منتخب حکومت کے ساتھ تعاون کرتے رہیں گے۔

پیپلز پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ سابق وزیراعظم بے نظیربھٹو کی 27 دسمبر کو برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں جلسہ منعقد کرے گی جس میں پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG