رسائی کے لنکس

logo-print

میثاقِ جمہوریت کے بعد اپوزیشن کے 'میثاقِ پاکستان' کا مستقبل کیا ہو گا؟


فائل فوٹو

پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے 'میثاقِ پاکستان' کے نام سے ایک ایسے معاہدے کے مسودے پر اتفاق کیا ہے جس کا مقصد ملک میں فوج اور خفیہ اداروں کے سیاست میں کردار کو ختم کر کے حقیقی پارلیمانی جمہوریت کا نفاذ کرنا ہے۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 'میثاق پاکستان' پر سیاسی جماعتوں کی قیادت رواں ماہ لاہور میں دستخط کرے گی۔

حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے 'میثاق پاکستان' کے مسودے پر عمل درآمد کے حوالے سے سفارشات کی تیاری کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔

'میثاقِ پاکستان' کو 'میثاقِ جمہوریت' کا تسلسل بھی قرار دیا جا رہا ہے جو کہ سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے دور میں پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان طے پایا تھا۔

سن 2006 میں اس وقت کے دو جلا وطن سابق وزرائے اعظم بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کو ملک میں گزشتہ تین ادوار سے جمہوریت کے جاری تسلسل کی بنیاد قرار دیا گیا تھا۔

لیکن اس بار یہ میثاق کرنے والی جماعتوں کی تعداد 11 ہے، جن کے قائدین نے 17 نومبر کو ہونے والے ایک اجلاس میں 12 نکاتی 'میثاق پاکستان' کے مسودے کی منظوری دی۔

پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں سینئر رہنماؤں پر مشتمل قائم کردہ کمیٹی میثاقِ پاکستان پر عمل درآمد کے لیے سفارشات تیار کرے گی۔ کمیٹی میں رضا ربانی، احسن اقبال، کامران مرتضیٰ، شیری رحمان اور خرم دستگیر شامل ہیں۔

'میثاق پاکستان' کمیٹی کے رکن کامران مرتضیٰ کہتے ہیں کہ 'میثاق پاکستان' کے پیچھے ایک سوچ اور نظریہ ہے کہ سیاست میں مقتدر قوتوں کی مداخلت ختم ہونی چاہیے۔ ان کے بقول پاکستان کی سیاست اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں ہائی جیک ہوتی رہی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کو سیاست سے دور رکھنے کی سوچ حالیہ سالوں میں پروان چڑھی ہے جس کے مطابق ملک کے فیصلے عوام کی اجتماعی دانش کے مطابق ہونے چاہئیں جس کی بنیاد آزادانہ انتخابات ہیں۔

'سیاسی اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہے'
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:57 0:00

اُن کے بقول اسٹیبلشمنٹ کے کردار کے خاتمے کی جدوجہد اب عملی تحریک کی صورت اختیار کر چکی ہے اور سیاسی قیادت کی یہ عوامی تحریک جتنا بھی وقت لے لیکن یہ کامیاب ضرور ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کے کردار کے خاتمے سے مراد اداروں کو ختم کرنا نہیں بلکہ اُنہیں دستور کے دائرے میں لانا ہے کہ وہ ریاستی نظام میں مداخلت سے باز رہیں۔

'میثاقِ پاکستان' پر عمل درآمد کے حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ عوام کی طاقت سے اس پر عمل درآمد ہو گا۔

کامران مرتضیٰ نے بتایا کہ میثاق میں سیاسی جماعتوں کے درمیان یہ عہد شامل ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ صرف دستور میں دی گئی اجازت کے تحت ہی رابطہ رکھیں گے اور کسی ایسے عمل میں شریک نہیں ہوں گے جو دستور سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔

میثاقِ پاکستان کے نکات

1۔ وفاقی ، اسلامی ، جمہوری، پارلیمانی آئین پاکستان کی بالادستی اور عمل داری یقینی بنانا

2۔ پارلیمنٹ کی خود مختاری

3۔ سیاست سے اسٹیبلشمنٹ اور انٹیلی جنس اداروں کے کردار کا خاتمہ

4۔ آزاد عدلیہ کا قیام

5۔ آزادانہ، غیرجانبدارانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے اصلاحات اور انعقاد

6۔ عوام کے بنیادی انسانی اور جمہوری حقوق کا تحفظ

7۔ صوبوں کے حقوق اور اٹھارویں ترمیم کا تحفظ

8۔ مقامی حکومتوں کا مؤثر نظام

9۔ اظہار رائے اور میڈیا کی آزادی کا دفاع

10۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ (نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد)

11۔ مہنگائی بے روزگاری، غربت کے خاتمے کے لیے ہنگامی معاشی پلان

12۔ آئین کی اسلامی شقوں کا تحفظ اور عمل درآمد

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG