رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کی فضائی حدود جزوی طور پر کھولنے کا اعلان


پاکستان نے بھارت کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث گزشتہ دو روز سے بند اپنی فضائی حدود کو جزوی طور پر کھول دیا ہے۔

پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے جمعے کو جاری کیے جانے والے حکم نامے کے مطابق کراچی، اسلام آباد، کوئٹہ اور پشاور کے ہوائی اڈوں سے فضائی آپریشن جمعے کی شام چھ بجے سے جزوی طور پر بحال کیا جارہا ہے۔

تاہم ملک کی فضائی حدود بین الاقوامی پروازوں کے لیے چار مارچ تک بند رہے گی۔

پاکستان نے بدھ کو بھارت کے دو جنگی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا جس کے بعد کشیدگی کے پیشِ نظر پاکستان کی حکومت نے اپنی فضائی حدود تمام کمرشل پروازوں کے لیے پہلے جزوی اور پھر مکمل طور پر بند کردی تھی۔

فضائی حدود کی بندش کے بعد ملک کے تمام بڑے ایئرپورٹس پر قومی اور بین الاقوامی پروازوں کی آمد و رفت کا سلسلہ معطل ہو گیا تھا۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے جمعے کو جاری کیے جانے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ لاہور اور فیصل آباد کے ایئرپورٹس بدستور بند رہیں گے جس کی وجہ ان دونوں شہروں کا مشرقی سرحد کے قریب ہونا ہے۔

حکام کے مطابق حالات بہتر ہونے پر فضائی حدود مکمل طور پر پیر تک بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سول ایوی ایشن حکام کے مطابق فضائی آپریشن بند ہونے سے اب تک ملک میں 200 سے زائد پروازیں منسوخ ہوچکی ہیں جس سے ہزاروں مسافر متاثر ہوئے ہیں۔

دو روز سے پاکستان کی فضائی حدود ہر قسم کے کمرشل طیاروں کے لیے بند ہونے کے باعث سیکڑوں بین الاقوامی پروازوں کو بھی اپنا روٹ تبدیل کرنا پڑا ہے۔ جس سے ہزاوروں مسافر متاثر ہوئے ہیں۔

وائس امریکہ سے بات کرتے ہوئے کرچی سے مسقط جانے کے خواہش مند ایک مسافر احمد حسن کا کہنا ہے کہ انہیں کاروباری مقصد کے لئے مسقط اور پھر وہاں سے دبئی جانا تھا لیکن اچانک فضائی حدود کی بندش سے انہیں شدید مشکل اور نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

عمرے کی ادائیگی پر جانے کے خواہش مند ایک اور مسافر ملتان سے کراچی پہنچے جہاں سے انہیں بدھ جمعرات کی رات کو جدہ روانہ ہوتا تھا۔ لیکن وہ دو روز سے اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ حالات کی بہتری کی صورت میں اب وہ جلد سعودی عرب روانہ ہوسکیں گے۔

ادھر ایوی ایشن انڈسٹری سے منسلک بڑی ٹریول ایجنسی کے مالک نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ دو روز میں پروازوں کی جزوی بندش سے اندرون و بیرون ملک سفر کرنے والے کم از کم 25 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں یومیہ تقریبا 7 ہزار مسافر مختلف پروازوں کے ذریعے پاکستان آتے ہیں، جبکہ بیرون ملک جانے والوں کی تعداد یومیہ 9 سے دس ہزار ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے اندر بھی طیاروں کے ذریعے 10 ہزار کے لگ بھگ مسافر سفر کرتے ہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق ایوی ایشن انڈسٹری اور اس سے منسلک صنعتوں کو دو روز میں لگ بھگ 25 کروڑ روپے یومیہ کا نقصان ہوا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ ملکی تحفظ کے لئے وہ یہ نقصان برداشت کرنے کو تیار ہیں۔ کئی ٹریول ایجنسیوں کے مالکان اس بندش سے ہونے والے نقصان پر پریشانی میں مبتلا ہیں۔

شہری ہوا بازی کے ماہرین کے مطابق فضائی حدود کی حالیہ بندش ملکی تاریخ میں گزشتہ دو دہائیوں میں سب سے طویل دورانیئے کی بندش ہے۔ اس سے قبل پاکستان اور بھارت کے درمیان کارگل جنگ کے موقع پر بھی تقریبا ایک ہفتے تک فضائی حدود بند رکھی گئیں تھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG