رسائی کے لنکس

logo-print

'کسی کو غداری کا سرٹیفکیٹ دینے کا اختیار ہے نہ ضرورت'


وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی (فائل فوٹو)

قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عباسی نے دعویٰ کیا کہ نواز شریف کے بیان سے متعلق جو رائے قائم کی جا رہی ہے وہ ان کے بقول دراصل بھارتی ذرائع ابلاغ کی طرف سے اس بیان کی پیش کردہ تشریح ہے۔

پاکستان کے تین مرتبہ وزیرِ اعظم رہنے والے نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق بیان سے کھڑا ہونے والے تنازع کی گونج پارلیمان تک پہنچ گئی ہے جہاں منگل کو وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے ایک بار پھر اپنی جماعت کے قائد کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ غلط انداز میں پیش کیے جانے والے اس معاملے کو اب ختم ہونا چاہیے۔

قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عباسی نے دعویٰ کیا کہ نواز شریف کے بیان سے متعلق جو رائے قائم کی جا رہی ہے وہ ان کے بقول دراصل بھارتی ذرائع ابلاغ کی طرف سے اس بیان کی پیش کردہ تشریح ہے۔

"ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم بھارت کی تشریح لے کر چل رہے ہیں۔ کیا ہم خود کو بھارتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے دینا چاہتے ہیں؟۔۔۔ 12 مئی کو خبر شائع ہوئی۔ ہفتے کو کسی مقامی اخبار میں یہ معاملہ نہیں تھا۔ وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ کسی ایک فرد نے بھی خبر نہیں پڑھی ہوگی۔ اگر پڑھی ہوتی تو کبھی غداری اور اس قسم کی باتیں نہ کرتے۔"

وزیرِ اعظم عباسی نے کہا کہ جو باتیں حزبِ مخالف کے ارکان کر رہے ہیں "ایسی کوئی بات نہیں ہے" اور ان کے بقول نواز شریف نے یہ نہیں کہا کہ وہ لوگ جنہوں نے ممبئی میں حملہ کیا انھیں پاکستان سے دانستہ طور پر بھیجا گیا تھا۔

"جس نے اس ملک کو ناقابلِ تسخیر بنایا، آج یہاں غداری کی باتیں ہو رہی ہے۔ یہ قابلِ قبول نہیں ہے۔ کسی کو حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ دینے کا اختیار ہے نہ ضرورت۔"

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ روز وزیرِ اعظم کی زیرِ صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اخبار میں شائع ہونے والے نواز شریف کے بیان کو غلط اور گمراہ کن قرار دیا گیا تھا۔لیکن اس کے چند گھنٹے بعد ہی شاہد خاقان عباسی نے صحافیوں سے گفتگو میں اپنے قائد کا ایسے ہی الفاظ کے ساتھ دفاع کیا تھا جو انھوں نے منگل کو قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہے۔

منگل کو اپنے خطاب میں وزیرِ اعظم عباسی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک پر حملے کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کی پالیسی پر قائم ہے۔

ان کے بقول "یہ پالیسی جب نواز شریف وزیرِ اعظم تھے اس وقت بھی تھی اور آج بھی ہم اس پر قائم ہیں۔"

ادھر نواز شریف بدستور اپنے اس مؤقف پر قائم ہیں کہ انھوں نے 'ڈان' اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں جو بات کہی وہ غلط نہیں اور منگل کو انھوں نے قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے کو بھی مسترد کر دیا۔

سابق وزیرِ اعظم نے ایک روز قبل کہا تھا کہ اگر ان کی باتیں غلط سمجھی جا رہی ہیں تو اس کی جانچ کے لیے ایک کمیشن بنا کر تحقیق کر لیں اور بظاہر اسی مؤقف کی تائید وزیرِ اعظم عباسی قومی اسمبلی میں کرتے نظر آئے۔

انھوں نے کہا کہ اگر پارلیمان چاہے تو 'ٹرتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن کمیشن' بنائے، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔"

دوسری طرح حزبِ مخالف کی اراکین نے نواز شریف کے بیان کو ملک دشمن بیان قرار دیتے ہوئے ایوان میں بھی ان پر کڑی تنقید کی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG