رسائی کے لنکس

قیامِ امن کے لیے بالآخر افغانوں کو ہی بیٹھ کر بات کرنا ہو گی: پاکستان


افغانستان کی اعلیٰ امن کونسل کے اجلاس کا ایک منظر (فائل فوٹو)

وزیرِ اعظم عباسی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے "بالآخر افغانوں کو ہی بیٹھ کر بات کرنا ہو گی۔"

پاکستان کے وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے افغانستان کے مسئلے کے کسی فوجی حل پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام فریقین کے امن مذاکرات میں شریک ہونے سے ہی اس ضمن میں پیش رفت ہو سکتی ہے۔

بین الاقوامی نشریاتی ادارے 'بلومبرگ' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایک بار پھر وزیرِ اعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کی پالیسی پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد طالبان سے مذاکرات میں مدد دینے کے لیے تیار رہا ہے۔

وزیرِ اعظم عباسی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے "بالآخر افغانوں کو ہی بیٹھ کر بات کرنا ہو گی۔"

حالیہ دنوں میں کابل میں پے در پے دہشت گرد حملوں کے بعد صدر ٹرمپ کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ طالبان سے بات نہیں کی جائے گی۔ جب کہ افغان صدر اشرف غنی کے ایک ترجمان نے ان حملوں کے تناظر میں کہا تھا کہ عسکریت پسندوں نے "سرخ لکیر" عبور کر لی ہے۔

پاکستان اپنے اس موقف پر زور دیتا آیا ہے کہ افغان تنازع کا حل سیاسی مذاکرات سے ہی ممکن ہے اور اس مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں۔

وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ افغانستان میں قیامِ امن افغانوں کی اپنی کوشش سے ہی آئے گا۔
وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ افغانستان میں قیامِ امن افغانوں کی اپنی کوشش سے ہی آئے گا۔

امریکہ اور افغانستان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ افغان علاقوں میں سرگرم طالبان شدت پسندوں کے رہنما اور حقانی نیٹ ورک کے جنگجو پاکستان میں موجود ہیں جن کے خلاف پاکستان کارروائی نہیں کر رہا۔ لیکن اسلام آباد ان دعوؤں کو مسترد کرتا آیا ہے۔

اپنے انٹرویو میں وزیرِ اعظم عباسی کا کہنا تھا کہ ایسے کوئی شواہد نہیں کہ پاکستان ان عسکریت پسندوں کی پشت پناہی کر رہا ہے جو سرحد پار افغانستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔

انھوں نے گزشتہ نومبر میں طالبان اور حقانی نیٹ ورک سے مبینہ طور پر وابستہ 27 افراد کی افغانستان حوالگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ "معمول" کے مطابق قیدیوں کا تبادلہ تھا۔

"یہ افغان شہری تھے جنہیں پاکستان میں گرفتار کیا گیا۔ یہ ہمارے ہاں کسی دہشت گرد حملے میں ملوث نہیں تھے۔ بصورت دیگر ہم یہیں پر ان کے خلاف مقدمات چلاتے۔ لہذا ہم نے انھیں افغانوں کے حوالے کر دیا۔"

امریکی صدر ٹرمپ کے پاکستان سے متعلق سخت مؤقف کے باوجود پاکستانی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ بات چیت اور انٹیلی جینس تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔

ان کے بقول پاکستان کے لیے امریکی فوجی امداد پہلے ہی "بہت معمولی" تھی اور اتحادی اعانتی فنڈ کی مد میں پاکستان کو اب بھی اربوں ڈالر وصول کرنے ہیں۔

امریکہ نے دہشت گردوں کے خلاف مبینہ طور پر فیصلہ کن کارروائی نہ کرنے کی بنیاد پر گزشتہ سال کے اختتام پر پاکستان کی فوجی امداد معطل کر دی تھی جس کے بعد سے دونوں ملکوں کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG