رسائی کے لنکس

پی این ایس مہران کی اہمیت، سولہ گھنٹے کے دوران کب، کیا ہوا؟


پی این ایس مہران کی اہمیت، سولہ گھنٹے کے دوران کب، کیا ہوا؟

پی این ایس مہران کراچی کی سب سے مشہور اور بڑی سڑک "شاہراہ فیصل" پرقائد اعظم انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے صرف دس کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ یہ پاک بحریہ کا پہلا نیول ایئر اسٹیشن ہے۔ اس کا افتتاح 13 ستمبر 1975ء کو عمل میں آیا۔ ابتدامیں صرف آٹھ آفیسرز اور چار سیلرزاس کے باقاعدہ عملے میں شریک تھے۔ اس دور میں یہاں کسی قسم کاکوئی سازو سامان یا طیارے نہیں ہوتے تھے جیسے کے اب موجود ہوتے ہیں تاہم طیارے اور ساز سامان بعد میں نصب ہوا اور اس کی ابتدا برطانیہ سے خریدے گئے سی کنگ ہیلی کاپٹر سے ہوئی ۔

کراچی میں پاک بحریہ بیس، 'پی این ایس مہران' پر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن تقریباً سولہ گھنٹے تک جاری رہا۔ پاک بحریہ کے ترجمان عرفان الحق کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں آرمی اسپیشل سروسز گروپ، نیول کمانڈوز اور میرینز نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔

دہشت گردوں کی جانب سے حملہ اتوار اورپیر کی درمیانی شب رات کم وبیش دس بجے کیا گیا۔ بحریہ بیس میں داخلے کے وقت حملہ آوروں نے پہلے راکٹ فائر کیے۔ راکٹوں سے وہاں کھڑے ایک پی تھری سی اورین طیارے میں آگ لگ گئی۔

اگلے ایک گھنٹے میں دہشت گرد پی این ایس مہران کے حساس علاقے میں داخل ہو ئے۔ نصف شب یعنی رات بارہ بجے ایک جدید ترین پی تھری سی اورین طیارہ دہشت گردوں کا نشانہ بنا۔

ایک بجے دہشت گرد پی این ایس مہران کے احاطے میں واقع ایک عمارت پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ دو بجے تک فوج، رینجرز اور ایس ایس جی کمانڈوز نے بیس کا محاصرہ کرلیا۔ چار بجے تک راولپنڈی سے کراچی پہنچنے والے انتہائی تربیت یافتہ کمانڈوز نے پوزیشنیں سنبھالیں۔

صبح پونے پانچ بجے دہشت گردوں کے خلاف حتمی آپریشن شروع ہوا۔ آپریشن کے ابتدائی لمحوں میں پہ در پہ چھ دھماکے سنائی دیئے۔صبح سات بجے مزید کمک پی این ایس مہران پہنچی اور اس کے ساتھ ہی ہیلی کاپٹرز سے فضا ئی جائزہ شروع ہوا۔

پیر کی صبح آٹھ بجے کالعدم تحریک طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا۔ نو بجے بیس کے نزدیک سے ایک مشکوک شخص دوربین سمیت پکڑا گیا۔ دن گیارہ بجے آپریشن میں تیزی آگئی جس کے ساتھ ہی فائرنگ کا سلسلہ بھی پھر سے شروع ہوگیا۔ دہشت گرد ں سے ایک عمارت کا قبضہ چھڑا لیا گیا۔

ایک بجے کے بعد پی این ایس مہران بیس کا 80 فیصد حصہ کلیئر کرالیا گیا۔ تقریبا دو بجے آپریشن مکمل کئے جانے کا اعلان ہوا۔

حملے میں پاک بحریہ کا ایک افسر اور چھ اہلکار جبکہ رینجرز کا ایک سپاہی ہلاک ہوا۔ہلاک شدگان میں پاک بحریہ کے لیفٹیننٹ یاسر عباس، سیلرزخلیل الرحمن، جاوید اقبال، جاوید احمد، امجد، راشد اور رینجرز اہلکار خلیل شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG