رسائی کے لنکس

پی این ایس مہران بیس حملہ: سندھ حکومت نےتحقیقانی ٹیم تشکیل دے دی


پی این ایس مہران بیس حملہ: سندھ حکومت نےتحقیقانی ٹیم تشکیل دے دی

وزارتِ داخلہ کے حکم کے مطابق، صوبائی حکومت نے ایک مشترکہ تفتیشی ٹیم تشکیل دی ہے جو آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی بی، سندھ پولیس اور رینجرز کے اہل کاروں پر مشتمل ہوگی، اور جو معاملے کے ہر پہلو کو دیکھ کر اپنی رپورٹ دے گی

اتوار کو حکومتِ سندھ نے فوج اور پولیس اہل کاروں پر مشتمل ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے جو پی این ایس مہران بحری اڈے پر حملے کی چھان بین کرے گی۔ یہ بات سندھ کے اطلاعات کے وزیر شرجیل میمن نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتائی۔

شرجیل میمن نے بتایا کہ بحریہ اور دیگر متعلقہ انٹیلی جنس ادارے پہلے ہی اِس معاملے کی چھان بین کر رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ وزارتِ داخلہ کےحکم کے مطابق، صوبائی حکومت نے ایک مشترکہ تفتیشی ٹیم تشکیل دی ہے جو آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی بی، سندھ پولیس اور رینجرز کےاہل کاروں پر مشتمل ہوگی، اور جو معاملے کے ہر پہلو کو دیکھ کر اپنی رپورٹ دے گی۔

ایک سوال کے جواب میں سیاسی تجزیہ کار خوشید عباسی نے بتایا کہ ابھی تک ’کوئی واضح بات‘ سامنے نہیں آئی، آیا پی این ایس مہران کے حملے میں کسی بیرونی ملک کا ہاتھ تھا۔ لیکن، اُن کا کہنا تھا کہ ’تصویریں ا یسی تھیں، نام ایسے تھے‘، کہ شبہ ہوتا تھا۔

لیکن، ساتھ ہی اُنھوں نے کہا کہ ’کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی‘، جب تک کہ انکوائری رپورٹ سامنے نہیں آجاتی۔

پی این ایس مہران حملہ 22مئی کو ہوا اور حملہ آوروں کےخلاف کیا گیا آپریشن 16گھنٹے تک جاری رہا۔

تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG