رسائی کے لنکس

عدلیہ اور سیاستدان دونوں تحمل سے کام لیں: تجزیہ کار


سپریم کورٹ آف پاکستان (فائل فوٹو)
سپریم کورٹ آف پاکستان (فائل فوٹو)

حکمران جماعت مسلم لیگ ن کی طرف سے اپنی قیادت کے خلاف عدالتی فیصلوں اور عدالتی کارروائیوں پر تنقید کا سلسلہ تو جاری ہی ہے لیکن غیر معمولی طور پر عدالت عظمیٰ کی طرف سے بھی آئے روز ایسے ریمارکس سامنے آ رہے ہیں جن میں جمہوریت کی پاسداری کے عزم کو دہرایا جا رہا ہے۔

منگل کو ہی عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایک از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ "خدا کی قسم میرا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں" اور وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ عوام کو دو وقت کی روٹی اور پینے کا صاف پانی ملے۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی سیاسی کیس کو ہاتھ نہیں لگانا چاہتے لیکن باامر مجبوری ایسے مقدمات بھی سننا پڑتے ہیں۔

گزشتہ جولائی میں پاناما پیپرز کے معاملے پر فیصلہ سناتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے نواز شریف کو وزارت اعظمیٰ کے لیے نا اہل قرار دیا دے تھا جس کے بعد سے نواز شریف سمیت ان کی جماعت کے راہنما عدالتی فیصلے کو مستقل تنقید کا نشانہ بناتے آ رہے تھے۔

اس تنقید میں گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ کی طرف سے نواز شریف کو مسلم لیگ ن کی صدارت سے نااہل قرار دیے جانے والے فیصلے کے بعد مزید شدت دیکھی گئی ہے۔

خاص طور پر نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز اپنی جماعت کے کارکنوں کے ہر اجتماع میں تواتر سے یہ موقف اپنائے ہوئے ہیں کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والوں کو ان کے بقول نا اہل قرار دینے کا حق بھی صرف عوام کے پاس ہی ہے اور وہ ووٹ کے تقدس کو بحال کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی طرف سے بھی حالیہ مہینوں میں ایسے ریمارکس سامنے آ چکے ہیں جس میں انھوں کسی دباؤ یا سیاسی مقصد کے لیے فیصلے کرنے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے پارلیمان کی بالادستی اور جمہوریت کے فروغ میں عدلیہ کے مثبت کردار کا عزم ظاہر کیا۔

مبصرین ایسی ساری صورتحال کو ملک کے لیے موزوں قرار نہیں دیتے اور جہاں یہ آزاد خیال حلقے مسلم لیگ ن کو اداروں کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش سے تعبیر کرتے ہیں تو وہیں بعض تجزیہ کاروں کے خیال میں عدلیہ کو بھی تدبر سے کام لینا چاہیے۔

سینیئر تجزیہ کار عارف نظامی نے منگل کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ یہ صورتحال اس لیے بھی مختلف ہے کیونکہ عدلیہ کی طرف سے ریمارکس میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

"دونوں کو تحمل اور برداشت پیدا کرنی چاہیے خاص طور پر عدلیہ کو کیونکہ سیاستدان تو کرتے رہتے ہیں لیکن عدلیہ کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ریمارکس اور وضاحتوں کی بجائے اپنے فیصلوں سے بولنا چاہیے۔"

حکمران جماعت کے راہنماؤں کا موقف ہے کہ وہ عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور کسی بھی طور اداروں کا ٹکراؤ نہیں چاہتے لیکن ان کے بقول عدالتی فیصلوں پر تنقید ایک حق ہے جسے وہ استعمال کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG