رسائی کے لنکس

عدلیہ کسی سے محاذ آرائی نہیں چاہتی: چیف جسٹس ثاقب نثار


چیف جسٹس ثاقب نثار (فائل)

انہوں نے کہا، "میں کسی سے لڑائی نہیں کررہا۔ ہم ان لوگوں کے لیے لڑ رہے ہیں جو اپنے حقوق سے محروم ہیں اور وہ ان کا مطالبہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں۔"

پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ عدلیہ کسی سے بھی محاذ آرائی نہیں چاہتی ہے بلکہ وہ عام آدمی کو اس کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

چیف جسٹس نے یہ بات جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ بار سے خطاب میں کہی۔

انہوں نے کہا، "میں کسی سے لڑائی نہیں کررہا۔ ہم ان لوگوں کے لیے لڑ رہے ہیں جو اپنے حقوق سے محروم ہیں اور وہ ان کا مطالبہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں۔"

چیف جسٹس کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ان کی طرف سے قبل ازیں اپنے آپ کو ایک فائٹر کہنے پر تنقید کی جارہی ہے۔

سپریم کورٹ کی طرف سے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے خلاف دیے گئے فیصلوں پر نواز شریف اور ان کی جماعت کے بعض رہنماؤں کی طرف سے ہونے والی سخت تنقید کی وجہ سے اس خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے کہ یہ صورتِ حال ملک کے کی عدلیہ اور پارلیمان کے درمیان محاذ آرائی کا باعث بنے گی۔

جمعرات کو اپنے خطاب میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ عدلیہ اور وکلا کو مل کر انصاف کی فراہمی کے لیے کوشش کرنی ہوگی اور انہیں کسی کے ساتھ محاذ آرائی نہیں کرنی ہے۔

"میں یہ وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ میں معاشرتی برائیوں کے خلاف لڑ رہا ہوں۔ میں کسی (شخص) سے نہیں لڑ رہا ہوں۔ میں نے قانون کے مطابق انصاف کرنے کا حلف اٹھا رکھا ہے۔"

انہوں نے کہا، "(آئین کا) آرٹیکل چار یہ ضروری قرار دیتا ہے کہ پاکستان کے ہر شہری کا یہ حق ہے کہ اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے۔"

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ان حقوق کو یقینی بنانا ان کی ذمہ داری میں شامل ہے اور وہ یہ کرکے کسی پر احسان نہیں کر رہے۔

انہوں نے کہا کہ عام آدمی صاف پانی، صاف ہوا، صاف ماحول، خالص خوراک، بیماری سے تحفظ، اسپتالوں سے مفت علاج اور سستے اور معیاری انصاف کا متمنی ہے۔

حالیہ مہینوں میں پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ نے سرکاری اداروں اور اسپتالوں کی خراب صورتِ حال سمیت عوامی دلچسپی اور فلاح کے کئِ معاملات پر ازخود نوٹس لیے ہیں۔

بعض حلقوں کی طرف سے ایسے اقدمات کو انتظامی امور میں مداخلت سے تعبیر کرتے ہوئے ان پر تنقدی کی جاتی رہی ہے جب کہ دوسری طرف بعض مبصرین نے ایسے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے انتظامی معاملات کو بہتر کرنے میں مدد ملے گی۔

اپنے خطاب میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا کہ معاشرے اور نظام سے بے انصافی کو ختم کرنے کا آغاز کر دیا ہے اور اس کے لیے ایک بنیاد قائم کردی گئی ہے۔ ان کے بقول اس جدو جہد کو ہم سب مل کر جاری رکھیں گے تاکہ لوگوں کو جلد اور اچھا انصاف مل سکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG