رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ٹیلی فون پر ہونے والے رابطے کے بارے میں پاکستان کی طرف کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

وزارت خارجہ کی ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں جمعرات کو جب ترجمان محمد فیصل سے اس بارے میں سوال پوچھا گیا تو اُنھوں نے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر سے رابطہ کرنے کا کہا۔ لیکن، تاحال فوج کے ترجمان کی طرف سے بھی کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

اسلام آباد میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹیڈیز کے شعبہ امریکہ کے ڈائریکٹر نجم رفیق نے ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان یہ رابطہ بہت اہم ہے۔

بقول اُن کے، ’’یہ بہت ہی خوش آئند بات ہے کیوں کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات التوا کا شکار تھے، میں سمجھتا ہوں یہ دونوں ممالک کے درمیان روابط کی جانب اہم قدم ہے۔‘‘

مائیک پومپیو اور جنرل باجوہ کے درمیان ٹیلی فون پر ہونے والے رابطے کے بارے میں امریکہ کی وزارت خارجہ کی ترجمان کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ بات چیت میں دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کے علاوہ افغانستان میں سیاسی مفاہمت اور جنوبی ایشیا میں تمام دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی پر بات چیت کی گئی۔

نجم رفیق کہتے ہیں کہ رابطے ہی ’’پاکستان اور امریکہ میں غلط فہمیاں دور کرنے میں مثبت ثابت ہو سکتے ہیں۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے بھی پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعاون بہت اہمیت کا حامل ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔ گزشتہ ماہ کے اواخر میں وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے کانگریس کا بتایا تھا کہ پاکستان میں سفارت خانے اور قونصل خانوں میں تعینات امریکی افسران سے پاکستان کی حکومت کا سلوک اچھا نہیں ہے۔

اس کے جواب میں پاکستان کی طرف سے کہا گیا تھا کہ سفارت کاروں سے مبینہ ناروا سلوک کے بارے میں امریکہ کی طرف سے وزارتِ خارجہ سے کوئی باضابطہ شکایت نہیں کی ہے۔

واضح رہے کہ رواں ماہ 11 مئی کو پاکستان اور امریکہ نے ایک دوسرے کے ممالک میں تعینات سفارت کاروں کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے پابندیوں کے نفاذ پر عمل درآمد شروع کر دیا تھا۔

نئی پابندیوں کے تحت اب پاکستان میں تعینات امریکی سفارتی عملے کو جہاں وہ تعینات ہیں اس سے 25 میل یا لگ بھگ 40 کلومیٹر سے باہر جانے کے لیے متعلقہ حکام سے اجازت لینا ہوگی۔

اسی طرح کی پابندی امریکہ میں تعینات پاکستانی سفارت کاروں پر بھی ہے۔

واشنگٹن کو اسلام آباد سے یہ شکایت بھی رہی ہے کہ اب بھی پاکستان اپنی سرزمین پر مبینہ طور پر موجود دہشت گردوں خاص طور پر افغان طالبان کے حقانی نیٹ ورک کے خلاف بھرپور کارروائی نہیں کر رہا ہے۔

لیکن، رواں ہفتے ہی پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک مرتبہ پھر حکومت کا موقف دہراتے ہوئے کہا تھا کہ حقانی نیٹ ورک سمیت تمام دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی گئی، اور اُن کے بقول، اب کسی بھی شدت پسند تنظیم کا ملک میں کوئی منظم ڈھانچہ نہیں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG