رسائی کے لنکس

توہینِ مذہب کا جھوٹا الزام لگانے والے کے لیے سخت سزا کی سفارش


گزشتہ برس نوجوان مشال خان کو توہین مذہب کے الزام میں مشتعل ہجوم نے قتل کر دیا تھا تاہم بعد ازاں یہ الزام غلط ثابت ہوا تھا۔

جھوٹا الزام لگانے والے کے لیے پاکستانی قانون میں چھ ماہ قید اور ایک ہزار روپے جرمانے کی سزا ہے۔

سینیٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق نے توہینِ مذہب کا جھوٹا الزام لگانے والوں کو بھی ایسی ہی سزا دینے کی سفارش کی ہے جیسی کہ اس الزام کے مرتکب افراد کے لیے قانون میں طے ہے۔

پاکستان میں توہینِ مذہب کی سزا موت ہے لیکن ایک عرصے سے اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے مناسب قانون سازی کے مطالبات کیے جاتے رہے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ بھی پارلیمان سے یہ کہہ چکی ہے کہ توہینِ مذہب کے قانون کا غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت سزا کے لیے قانون بنائے۔

منگل کو سینیٹ کی خصوصی کمیٹی برائے انسانی حقوق کی سربراہ سینیٹر نسرین جلیل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کمیٹی کی تیارہ کردہ سفارشات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اس سفارش کا مقصد توہینِ مذہب کے قانون میں تبدیلی ہرگز نہیں بلکہ اس کے طریقۂ کار کے بارے میں درستگی کا کہا گیا ہے۔

انھوں نے اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے ماضی میں پیش کردہ تجاویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کونسل نے بھی جھوٹا الزام لگانے والے کے لیے ایسی ہی سزا تجویز کی تھی جب کہ ایک دوسری تجویز میں کہا تھا کہ الزام لگانے والا اپنے مؤقف کا حلف اٹھائے اور دو گواہ بھی پیش کرے۔

لہذا نسرین جلیل کے بقول کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ الزام لگانے والے کو اپنے مؤقف کی صداقت کے لیے دو گواہ بھی پیش کرنے چاہئیں۔

کمیٹی کے اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر مفتی عبدالستار نے ان سفارشات کو توہینِ مذہب کے قانون کو سبوتاژ کرنے کی ایک کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ کیا ملک میں کوئی اور قانون نہیں ہے جس کا غلط استعمال نہیں ہو رہا؟

اس پر چیئرپرسن سینیٹر نسرین جلیل نے کہا کہ "مفتی عبدالستار اسے سرے سے ہاتھ لگانے کو تیار نہیں تھے۔ انھیں بہت سمجھایا کہ ہم قانون کو نہیں چھیڑ رہے، ہم طریقۂ کار کو درست کرنا چاہ رہے ہیں تاکہ کسی پر جھوٹا الزام نہ لگایا جا سکے۔ اب ہوگا یہ کہ ہم رپورٹ سینیٹ کو بھیج دیں گے۔ مفتی عبدالستار اس بات پر متفق نہیں ہوئے جب کہ باقی ارکان نے اس پر اتفاق کیا۔"

جھوٹا الزام لگانے والے کے لیے پاکستانی قانون میں چھ ماہ قید اور ایک ہزار روپے جرمانے کی سزا ہے۔

ماضی میں کئی ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں درپردہ ذاتی عناد توہینِ مذہب کے الزام کی صورت میں سامنے آتا رہا لیکن اس بارے میں کسی بھی قانون سازی یا موجود قانون میں ترمیم کے مطالبے کو بااثر مذہبی حلقوں کی وجہ سے پورا نہیں کیا جا سکا۔

نسرین جلیل کا کہنا تھا کہ جب لوگ اس بارے میں مکالمہ کریں گے تو کھلے ذہن کے ساتھ ایک دوسرے کی بات سننے سے معاملات بہتری کی طرف جائیں گے۔ بصورت دیگر ان کے بقول بند ذہن کے ساتھ کسی ایک موقف پر ڈٹے رہنے سے مسائل ہی پیدا ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG