رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی فضائیہ میں رافیل طیاروں کی شمولیت پر پاکستان کا 'اظہارِ تشویش'


فائل فوٹو

پاکستان نے بھارت کی فضائیہ میں رواں ہفتے فرانس کے تیارہ کردہ پانچ رافیل طیاروں کی شمولیت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ اس اقدام کی وجہ سے خطے میں اسلحہ کی نئی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔

بھارت کو رواں ہفتے ہی فرانس سے پانچ رافیل طیارے ملے ہیں۔ یہ ان 36 طیاروں کی پہلی کھیپ ہے جن کی خریداری کا معاہدہ بھارت نے 2016 میں فرانس سے کیا تھا۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے جمعرات کو معمول کی پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ بعض دفاعی ماہرین یہ کہتے ہیں کہ رافیل طیاروں میں جوہری ہتھیار لے جانے کا نظام نصب کیا جا سکتا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ بات باعثِ تشویش ہے کہ بھارت اپنی حقیقی ضروریات سے ماورا اپنی دفاعی استعداد کار کو بڑھا رہا ہے جس کی وجہ سے خطے میں اسلحے کی نئی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی ترجمان کے اس بیان پر تاحال بھارت کے کسی عہدیدار کا کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔

قبل ازیں رافیل طیارے بھارت پہنچنے پر بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے ایک ٹوئٹ میں کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ اگر کسی کو ہماری نئی صلاحیت کے بارے میں کوئی پریشانی ہے یا وہ تنقید کر رہے ہیں تو یہ وہ ہیں جو ہماری علاقائی سالمیت کو خطرے سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔

بھارتی فوج کے سابق افسر اور دفاعی امور کے تجزیہ کار پروین ساہنی اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ بھارت کو ان طیاروں میں جوہری ہتھیار لے جانے کا نظام نصب کرنے کی ضرورت ہو گی۔

ان کے بقول جوہری ہتھیار لے جانے کے لیے جدید نظام کی ضرورت پڑتی ہے جو بھارت اور پاکستان دونوں ممالک کے پاس پہلے ہی موجود ہے۔ ایسے میں ان کے بقول بھارت ان طیاروں کو جوہری ہتھیار لے جانے کے لیے کیوں استعمال کرے گا۔

فرانس کے تیار کردہ پانچوں طیارے بھارت کو ایک ایسے وقت میں ملے ہیں جب حال ہی میں لداخ کی متنازع سرحدی علاقے میں بھارت اور چین کے درمیان جھڑپ ہو چکی ہے۔ اس سرحدی جھڑپ کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔

دوسری طرف گزشتہ چند سال سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات بھی کشیدہ ہیں۔

تجزیہ کار پروین ساہنی کا کہنا ہے کہ بھارت اپنی فضائیہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک عرصے سے کوشاں ہے جب کہ فرانس سے 36 رافیل طیارے خریدنے کا معاہدہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ان کے بقول خطے میں ہونے والی حالیہ تبدیلیوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ رافیل طیاروں کو لداخ کے معاملے کے ساتھ جوڑنا درست نہیں ہے۔

ان کے مطابق بھارت ایک عرصے سے فضائیہ کے زیرِ استعمال پرانے طیاروں کو تبدیل کرنے کا خواہاں ہے۔ فرانس سے جدید طیارے حاصل کرنے کا مقصد بھی یہی ہے۔

پرین ساہنی کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی فضائیہ کی استعدادِ کار میں مسلسل اضافہ کرتا آ رہا ہے۔ چین کے اشتراک سے تیار کردہ ’جے ایف 17 تھنڈر‘ لڑاکا طیارے بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG