رسائی کے لنکس

logo-print

500 ڈالر سے زائد رقم کی خرید و فروخت کے لیے شناختی کارڈ لازمی


فائل

پاکستان کے مرکزی بینک نے ملک میں منی ایکسچینج کمپنیوں کے ذریعے 500 ڈالر سے زائد مالیت کی بین الاقوامی کرنسی کی خرید و فروخت کرنے والوں کے لیے شناختی کارڈ کی کاپی جمع کروانا لازمی قرار دے دیا ہے۔

اس سے قبل ڈھائی ہزار ڈالر تک کی بین الاقوامی رقوم کی خرید و فروخت کے لیے یہ شرط لاگو تھی۔ لیکن، پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی 'گرے لسٹ' میں شامل کیے جانے کے معاملے کی وجہ سے پاکستان اپنے ہاں متعدد اقدام کر رہا ہے اور یہ بھی ان میں سے ایک ہے۔

دہشت گردی کے لیے مالی وسائل اور رقوم کی غیر قانونی منتقلی پر نظر رکھنے والی 'فنانشل ایکشن ٹاسک فورس' (ایف اے ٹی ایف) کا اجلاس آئندہ ماہ ہونے والا ہے جس میں پاکستان کا ان ملکوں کی فہرست میں شامل کرنے یا نہ کرنے کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا جو اس ضمن میں قابل ذکر اقدام نہیں کر رہے۔

’پاکستان فوریکس ایسوسی ایشن‘ کے صدر ملک بوستان کہتے ہیں کہ سٹیٹ بینک کے یہ فیصلہ اسی تناظر میں کیا ہے۔ لیکن، اس سے منی ایکسچینج کی باضابطہ کمپنیوں کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں اور انھوں نے مرکزی بینک سے اس پر نظر ثانی کی درخواست بھی کی ہے۔

بدھ کو ’وائس آف امریکہ‘ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ سٹیٹ بینک کے فیصلے پر اس بنا پر اعتراض نہیں کرتے، کیونکہ یہ ملک کے مفاد میں ہے۔ لیکن اس کاروبار سے وابستہ لوگوں کے تحفظات کو بھی دور کرنے کے لیے اقدام ضروری ہیں۔

ملک بوستان کے الفاظ میں، "آج ہماری میٹنگ ہوئی تھی ہم نے درخواست کی کہ اس چیز کو بھی دیکھیں کہ غیر لائسنس یافتہ لوگ بھی بڑی تعداد میں یہ (منی ایکسچینج کا) کام کر رہے ایسا نہ ہو پھر لوگ ان کی طرف رخ کریں اور ہمارا جو آفیشل چینل ہے اس کی حوصلہ شکنی ہو۔"

اُنھوں نے بتایا کہ اس پر حکام کا کہنا تھا کہ فی الوقت اس درخواست پر عمل کرنا ممکن نہیں اور اس اقدام کا مقصد یہی ہے کہ رقوم کی لین دین کا ریکارڈ رکھا جا سکے اور اگر کہیں کوئی غلط ٹرانزیکشن ہوتی ہے تو اس کا پتا لگایا جا سکے۔

پاکستان 2015ء میں تین سال تک ’ایف اے ٹی ایف‘ کی گرے لسٹ میں رہنے کے بعد اس سے خارج ہوا تھا اور اس دوران بھی سٹیٹ بینک نے بین القوامی رقوم کی حد دس ہزار ڈالر سے کم کر کے پانچ ہزار اور پھر ڈھائی ہزار ڈالر تک مقرر کی تھی۔ اتنی رقم کے برابر کرنسی کی خریدوفروخت کے لیے اپنا شناختی کارڈ دینا ضروری ہوتا تھا۔

ملک بوستان نے بتایا کہ کرنسی کی خریدو فروخت کے لیے آنے والا شخص اپنا اصل شناختی کارڈ دکھائے گا اور اس کی نقل جمع کروائے گا اور رقم کے ذرائع اور مقصد سے بھی آگاہ کرے گا جسے باضابطہ طور پر کمپیوٹر میں درج کر کے محفوظ کر لیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG