رسائی کے لنکس

logo-print

چیمپئنز ٹرافی: پاکستانی ٹیم آسٹریلیا سے بھی ہار گئی


فائل فوٹو

چیمپئنز ٹرافی کے پہلے ہی دن بھارت نے پاکستان کو صفر کے مقابلے میں چار گول سے شکست دی تھی جب کہ آسٹریلیا کے ہاتھوں دوسرے میچ میں ایک کے مقابلے میں دو گولز سے شکست پاکستانی ٹیم کا مقدر بنی۔

پاکستان ہاکی ٹیم کی قسمت کے ستارے تاحال گردش میں ہیں اور چیمپئنز ٹرافی میں بھارت سے پہلے میچ میں بدترین شکست کے بعد قومی ٹیم دوسرے میچ میں بھی آسٹریلیا سے مات کھا گئی ہے۔

ہالینڈ کے شہر بریڈا میں جاری چیمپئنز ٹرافی کے پہلے ہی دن بھارت نے پاکستان کو صفر کے مقابلے میں چار گول سے شکست دی تھی جب کہ آسٹریلیا کے ہاتھوں دوسرے میچ میں ایک کے مقابلے میں دو گولز سے شکست پاکستانی ٹیم کا مقدر بنی۔

آسٹریلیا کے خلاف میچ کے نویں منٹ میں اعجاز احمد نے گول کر کے پاکستان کو سبقت دلائی لیکن تین منٹ بعد ہی مخالف ٹیم کے ٹرینٹ مٹن نے گول کرکے اس سبقت کو ختم کردیا۔

دوسرا اور فیصلہ کن گول کھیل کے 56 ویں منٹ میں گوروز بلیک نے کیا۔ ہاکی سے دلچسپی رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں میں ہم آہنگی کی کمی تھی جو پورے میچ میں چھائی رہی۔

ادھر پاکستان کے روایتی حریف، بھارت کی قسمت کے ستارے عروج پر ہیں۔ وہ اپنے دونوں ابتدائی میچز جیت گیا ہے۔ پہلا میچ پاکستان جب کہ دوسرا میچ ارجنٹائن سے تھا جو اس نےایک گول کے مقابلے میں دو گولز سے جیت لیا۔

یہ دونوں میچ جیت کر پوائنٹس ٹیبل پر بھارت کو پہلی پوزیشن حاصل ہوگئی ہے۔

چیمپئنز ٹرافی میں کھیلے گئے ایک اور میچ میں ہالینڈ نے بیلجیم کو 1-6 کے بڑے مارجن سے شکست دی۔

پاکستان کیوں ہارا؟
بھارت اور آسٹریلیا سے شکست کا بنیادی سبب پاکستانی ٹیم کی مایوس کن پرفارمنس ہے۔ سابق قومی کپتان اور اولمپیئن سمیع اللہ کا کہنا ہے کہ "گول کیپر کو واپس بلانےکا فیصلہ سمجھ نہیں آیا۔ افتتاحی مقابلے میں ایسا فیصلہ کرنا دانش مندی نہیں تھی۔"

ایک اور سابق قومی کپتان، چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ حنیف خان نے کہا ہے کہ ایونٹ میں بھارت جیسی کم تر درجہ رکھنے والی ٹیم کے ہاتھوں شکست سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستانی ہاکی ٹیم اگلے مقابلوں میں کیا گل کھلائے گی۔

سابق قومی سلیکٹر اولمپیئن وسیم فیروز نے کہا ہے کہ ٹرافی کے افتتاحی میچ میں ہی قومی ٹیم کی شکست عبرت ناک ہے۔

ادھر ہاکی کے شائقین اور اس کھیل پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک گول کی سبقت اتارنے کے لیے پاکستان کی جانب سے گول کیپر کو واپس بلالینا انوکھا اور حیران کن تجربہ تھا۔ اس غلطی کو بھارت کبھی ضائع نہیں کرسکتا تھا لہذا اس نے یہی کیا اور آ خری چھ منٹ میں تین گول داغ دیے۔

گول کیپر کو واپس بلالینے سے فاروڈ لائن میں تو ایک کھلاڑی کا اضافہ ہوا لیکن اس کا خمیازہ میچ کی شکست کی صورت میں نکلا۔ یہ نام نہاد حکمتِ عملی پاکستان کو خاصی مہنگی پڑی۔

آخری چیمپئنز ٹرافی
یہ آخری چیمپیئنز ٹرافی ہے ۔سن 2019 سے اس کی جگہ ہاکی پرو لیگ (ایچ پی ایل) کی شروعات ہو گی۔

بھارت اب تک کوئی چیمپئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ نہیں جیت سکا ہے جب کہ پاکستان 1978، 1980 اور 1994 میں چیمپئنز ٹرافی کا فاتح رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG