رسائی کے لنکس

logo-print

سپریم کورٹ: ’تین دہشت گردوں‘ کی سزائے موت پر عمل درآمد روکنے کا حکم


جسٹس عظمٰت سعید کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے سزائے موت پانے والے تین قیدیوں کی اپیلوں کی سماعت کرتے ہوئے پیر کو ان کی سزاؤں پر عمل درآمد معطل کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دی۔

پاکستان کی عدالتِ عظمٰی نے فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے تین مشتبہ دہشت گردوں کی سزاؤں پر عمل درآمد روک دیا ہے۔

جسٹس عظمٰت سعید کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے سزائے موت پانے والے تین قیدیوں شفاقت، شبیر شاہ اور محمد لیاقت کی اپیلوں کی سماعت کرتے ہوئے پیر کو ان کی سزاؤں پر عمل درآمد معطل کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دی۔

محمد لیاقت کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ایک صحافی پر حملے میں ملوث تھا جب کہ شبیر شاہ اور شفاقت نے لاہور میں ایک وکیل ارشاد علوی کو قتل کیا تھا۔

ان تینوں کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمات چلائے گئے تھے جس نے اُنھیں موت کی سزا سنائی تھی۔

ملک میں دہشت گردی کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کے لیے جنوری 2015ء میں آئین میں ترمیم کر کے خصوصی فوجی عدالتیں ابتدا میں دو سال کے لیے بنائی گئی تھیں۔

ان عدالتوں کی مدت 2017ء میں ختم ہونے کے بعد ان میں مزید دو سال کی توسیع کر دی گئی تھی۔ اب تک فوجی عدالتوں سے درجنوں مشتبہ دہشت گردوں کو سزائیں سنائی جا چکی ہیں جن میں سے بیشتر کی سزاؤں پر عمل درآمد بھی کیا جا چکا ہے۔

تاہم فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے بعض قیدیوں نے ملک کی اعلیٰ عدلیہ میں اپیلیں بھی دائر کیں جس پر عدالتیں متعلقہ حکام سے وضاحتیں بھی طلب کرتی رہی ہیں۔

انسانی حقوق کی مقامی و بین الاقوامی تنظیمیں پاکستان میں قائم خصوصی فوجی عدالتوں کی کارروائی میں شفافیت سے متعلق تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مخالفت کرتی آئی ہیں۔

حقوق انسانی اور سول سوسائٹی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ملک کے مروجہ عدالتی نظام سے ہی انصاف ملنا چاہیے کیونکہ اُن کے بقول فوجی عدالتوں کی کارروائی کھلی عدالت میں نہ ہونے کی وجہ سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔

تاہم حکومت اور فوج دونوں ہی ایسے تحفظات کو یہ کہہ کر مسترد کرتے ہیں کہ فوجی عدالتوں میں مقدمات کی سماعت کے دوران ملزمان کو نہ صرف وکیل کی سہولت فراہم کی جاتی ہے بلکہ سزا پانے والوں کو اپیل کا حق بھی حاصل ہوتا ہے۔

ملک میں وکلا اور قانونی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مروجہ عدالتوں میں اصلاحات کرنے اور اُنھیں موثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ اُن میں دیگر مقدمات کی طرح دہشت گردی میں ملوث افراد کے خلاف بھی مقدمات چلائے جا سکیں۔

XS
SM
MD
LG