رسائی کے لنکس

logo-print

لاپتا افراد کا معاملہ قانون کے مطابق حل کیا جائے: چیف جسٹس


(فائل)

پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ اگر لاپتا افراد کے معاملات سے نمٹنے میں مستقبلِ قریب میں مناسب پیش رفت نا ہوئی تو عدالت عظمیٰ اس معاملے پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی سمجھتے ہوئے یہ معاملہ آئین کے تحت دیے گئے اختیار کے تحت خود کارروائی کر سکتی ہے۔

چیف جسٹس نے یہ بات لاپتا افراد کے معاملے پر غور کرنے کے لیے ان کی صدارت میں عدالت عظمیٰ میں جمعرات کو ہونے والے ایک اجلاس کے دوران کہی، جس میں لاپتا افراد سے متعلق کمیشن کے سربراہ اور وزارت دفاع اور وزارت داخلہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔

سپریم کورٹ کے جاری کردہ بیان کے مطابق، چیف جسٹس نے کہا ہے کہ تمام متعلقہ اداروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی ساکھ کا خیال کرتے ہوئے ان کے بارے میں پائے جانے والے تاثر کو دور کریں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جن افراد کو حراست میں لیا جائے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں لاپتا ہونے والے افراد کے اہل خانہ اور بعض حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ مبینہ جبری گم شدگیوں کے واقعات میں ملک کے انٹیلی جنس ادارے ملوث ہیں۔ تاہم، سیکورٹی ادارے اس تاثر کو رد کرتے ہوئے کہتے آ رہے کہ وہ ان واقعات میں کسی طور ملوث نہیں ہے۔

انسانی حقوق کے موقر غیر سرکاری ادارے، ’ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان‘ کے سربراہ نے جمعے کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ لاپتا افراد کو بازیاب کرانا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے؛ تاہم، عدالت عظمیٰ کی طرف سے اس معاملے کا ٹوٹس لینا خوش آئند ہے۔

ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا کہ "عدالت یہ ہدایت کرسکتی ہے اگر لاپتا ہونے والے فرد کی ذمہ داری کسی حکومت کے ادارے پر عائد ہوتی ہے تو اسے عدالت میں پیش کرے جو قانون کے مطابق گرفتاری کے 24 گھنٹوں کے بعد عدالت میں پیش کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر اسے حراست میں رکھنا ضروری ہو تو وہ عدالت سے اس کی اجازت لیتے ہیں اور اسے حراست میں رکھنے کے لیے عدالت سے ریمانڈ کے بغیر (اس قانونی تقاضے کے) کسی کو غائب نہیں کیا جاسکتا ہے۔"

واضح رہے کہ حکومت نے 2011ء میں جاوید اقبال کی سربراہی میں لاپتا افراد کے معاملات کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دیا تھا اور کمیشن کی طرف سے عدالت عظمیٰ میں لاپتا افراد سے متعلق پیش کیے گئے عداد و شمار کے مطابق مارچ 2011 سے لے کر اب تک کمیشن کو 5290 لاپتا افراد کے بارے میں شکایات موصول ہوئی تھیں، جن میں سے 2636 افراد کے معاملات کو نمٹا دیا گیا ہے جبکہ دیگر 1828 افراد کے معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، جبکہ کے دیگر کا معاملہ جبری گم شدگی کا نہیں تھا۔

تاہم، جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز بلند کرنے والی ایک سرگرم کارکن آمنہ مسعود جنجوعہ کہتی ہیں کہ لاپتا افراد کے تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ، ان کے بقول، ’’کمیشن نے صرف ان لاپتا افراد کی تعداد بتائی ہے جن کی شکایات کمیشن کو موصول ہوئی۔‘‘

تاہم، ان کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ بھی ہزاروں افراد لاپتا ہے اور جن کی بازیابی کے لیے عدالت عظمیٰ اور دیگر عدالتوں میں درخواستیں دائر کی گئیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG