رسائی کے لنکس

'تقریر پر کوئی پابندی نہیں، فیصلے پر غلط رپورٹنگ کی گئی'


فائل فوٹو

عدالت عظمیٰ نے عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں غلط خبریں نشر کیے جانے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

منگل کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر لیے گئے از خود نوٹس کی سماعت کی۔ فیصلے میں عدالت عالیہ نے عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے کا معاملہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے سپرد کرتے ہوئے اس پر ادارے سے 15 روز میں جواب طلب کیا۔

عدالت عالیہ میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کی صاحبزادی مریم نواز سمیت حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے متعدد راہنماؤں کے خلاف عدلیہ مخالف بیانات کے الزامات عائد کرتے ہوئے متفرق درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔

لیکن لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ذرائع ابلاغ میں یہ خبر چلی کہ عدالت نے نواز شریف اور مریم نواز کی تقاریر پر پابندی عائد کر دی ہے۔

منگل کو سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ خبر نشر کی گئی کہ ہائی کورٹ نے تقریر پر پابندی عائد کر دی، آئین کے شق 19 اور 68 میں لکھا ہے کہ یہ پابندی کب عائد کی گئی۔ ان کے بقول عدالت عالیہ نے پیمرا کو ان شقوں کے تحت کام کرنے کا حکم دیا تھا۔

آئین کی یہ شقیں شہریوں کو اظہار رائے کی آزادی کا حق دیتی ہیں لیکن ریاستی اداروں اور ریاست کے خلاف بیان کی اجازت نہیں۔ جب کہ پارلیمان میں اعلیٰ عدلیہ کے جج کے بارے میں بحث کرنے سے بھی منع کرتی ہیں۔

بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالت کا حکم کچھ اور تھا جب کہ ملک میں ڈھنڈورا کسی اور چیز کا پیٹا گیا، یہ کسی نے باقاعدہ جعلی خبر چلوائی اور عدلیہ پر حملہ کیا گیا۔

اس پر چیف جسٹس نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ بنیادی حقوق سے متصادم نہیں اور از خود نوٹس نمٹا دیا۔

واضح رہے کہ وزارت عظمٰی کے منصب سے نا اہلی کے بعد سے نواز شریف اور ان کی جماعت کے اکثر راہنما عدالتی فیصلوں پر سخت تنقید کرتے چلے آ رہے ہیں اور گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد بظاہر عدلیہ اور حکمران جماعت میں تناؤ بڑھنے کا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور بعض حلقوں کی طرف سے اسے اظہار رائے پر قدغن بھی قرار دیا جا رہا تھا۔

خود نواز شریف نے منگل کو اسلام آباد میں احتساب عدالت میں پیشی کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں بظاہر اسی فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ غیر مہذب پابندیاں نہیں لگائی جا سکتیں اور ان کے بقول لوگوں کی زبان بندی کی گئی اور ان کی بھی زبان بندی کی گئی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عوام کی بات نہ سنی گئی تو وہ بڑے پیمانے پر انتشار دیکھ رہے ہیں۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے بھی اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اظہار رائے پر پابندی نہیں ہونی چاہیے تاہم ان کے بقول اس بارے میں آئین میں واضح ہدایت موجود ہیں کہ ریاستی اداروں کے خلاف یہ آزادی استعمال نہیں کی جانی چاہیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG