رسائی کے لنکس

logo-print

جماعت الدعوة اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن پر پابندی


حافظ محمد سعید (فائل)

پاکستان نے جمعرات کے روز جماعت الدعوة اور اس سے منسلک تنظیم فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی۔ اس سے قبل حافظ سعید سے وابستہ ان دونوں تنظیموں کو گزشتہ سال 9 فروری کو انسداد دہشت گردی ترمیمی آرڈنینس 2018 کے تحت کالعدم قرار دیا گیا تھا۔

انسداد دہشت گردی ترمیمی آرڈنینس 2018 قومی اسمبلی سے منظور نہ ہو سکنے کے باعث غیر موثر ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے جماعت الدعوہ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن دوبارہ بحال ہو گئی تھیں۔ اس آرڈینینس کو اس وقت کے وزیر داخلہ احسن اقبال نے 12 اپریل کو قومی اسمبلی میں پیش کیا لیکن اسمبلی کی مدت مکمل ہونے تک اس پر قانون سازی کے لئے ووٹنگ نہیں ہو سکی تھی۔

جمعرات کو پاکستان کی وزارت داخلہ سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفکیشن میں جماعت الدعوة اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو دوبارہ کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق، جمعرات کو وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں قومی ایکشن پلان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور یہ فیصلہ لیا گیا کہ ممنوعہ تنظیموں کے خلاف اقدامات کو تیز کیا جائے گا۔

2008 میں بھارت کے تجارتی شہر ممبئی پر دہشت گرد حملوں کے الزام میں اقوام متحدہ نے لشکر طیبہ اور اس سے منسلک جماعت الدعوة پر پابندی لگا دی تھی۔

پاکستان نے بھی اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل درآمد کرتے ہوئے ان جماعتوں کی سرگرمیاں روک دی تھیں۔

ان دونوں تنظیموں پر پابندی ایسے وقت میں لگی ہے جب بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع پلوامہ میں دہشت گرد حملےکی ذمہ داری پاکستان میں سرگرم ایک جہادی گروپ جیش محمد نے قبول کی۔

پلوامہ حملے کے بعد سے پاکستان ایک بار پھر اپنی سرزمین پر کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں کے حوالے سے عالمی دباؤ میں ہے۔

جماعت الدعوة کے ترجمان یحییٰ مجاہد نے اس پابندی کو بیرونی دباﺅ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت ان پابندیوں کے خلاف عدالت سے رجوع کرے گی۔

ان کے مطابق، دونوں جماعتوں پر پہلے بھی بھارتی مطالبے پر پابندیاں لگائی گئیں لیکن پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے اپنے فیصلوں میں جماعة الدعوة اور فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن دونوں کو پرامن جماعتیں قرار دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG