رسائی کے لنکس

ڈاکٹر روتھ فاؤ کے نام پر یادگاری سکوں کے اجرا کا فیصلہ


وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ڈاکٹر رتھ فاؤ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے 50 روپے کے 50 ہزار یادگاری سکے جاری کرنے کی منظوری دی گئی۔

پاکستان میں لگ بھگ چھ دہائیوں تک جذام یعنی ’کوڑھ‘ کے مرض کے خاتمے کے لیے کام کرنے والی جرمن ڈاکٹر روتھ فاؤ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے 50 روپے کے سکے جاری کرنے کی منظوری دی ہے۔

ڈاکٹر روتھ فاؤ رواں سال اگست میں کراچی میں 87 سال کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔

بدھ کو وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ڈاکٹر روتھ فاؤ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے 50 روپے کے 50 ہزار یادگاری سکے جاری کرنے کی منظوری دی گئی۔

جرمن ڈاکٹر روتھ فاؤ نے جذام سے متاثرہ مریضوں کے لیے اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی اور اُنھوں نے اس مرض سے متاثر افراد کے علاج اور دیکھ بھال کے لیے ساٹھ سال قبل کراچی میں ’میری ایڈ لیڈ سوسائٹی‘ قائم کی تھی۔

اپنا آبائی ملک چھوڑ کر پاکستان کو اپنا مستقل مسکن بنانے اور یہاں زندگی بھر کوڑھ کے مریضوں کے علاج و دیکھ بھال پر اُنھیں ’’پاکستانی مدر ٹریسا‘‘ بھی کہا جاتا تھا۔

ڈاکٹر روتھ فاؤ کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں ہلالِ امتیاز اور ستارۂ قائداعظم جیسے نمایاں سول ایوارڈز سے نوازا تھا۔

جب کہ اُن کی تدفین بھی سرکاری اعزاز کے ساتھ کراچی میں کی گئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG