رسائی کے لنکس

ساںحہ تیزگام: درجنوں افراد کو اپنے پیاروں کی تلاش


میر پور خاخ کے کئی رہائشی اپنے ان پیاروں کو تلاش کر رہے ہیں جن کی تیزگام حادثے کے بعد سے کچھ خبر نہیں۔

سندھ کے شہر میرپور خاص کے رہائشی 34 سالہ سہیل احمد کے بہنوئی عابد انیس اور ان کے قریبی رشتہ دار فرقان احمد رحیم یار خان میں تیزگام ایکسپریس کو پیش آنے والے حادثے کے بعد سے لاپتا ہیں۔ وہ اپنے ہی محلے کے دیگر چار افراد کے ہمراہ سالانہ تبلیغی اجتماع میں شرکت کے لیے بدھ کی شام گھر سے روانہ ہوئے تھے۔

سہیل نے نم آنکھوں کے ساتھ بتایا کہ ان کے بہنوئی کی اپنے اہل خانہ سے آخری مرتبہ بات جمعرات کی صبح پانچ بجے ہوئی تھی، جس کے بعد حادثہ ہو گیا اور اب ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو پا رہا۔

سہیل کے قریبی عزیز اپنے پیاروں کی تلاش میں رحیم یارخان جا چکے ہیں لیکن ان کے مطابق بہاولپور، ملتان اور رحیم یار خان کے مختلف اسپتالوں میں کئی چکر لگانے کے باوجود بھی ان کا کچھ پتا نہیں چل رہا۔ جس کی وجہ سے اہل خانہ کے خدشات بڑھتے چلے جارہے ہیں۔

نہ صرف سہیل بلکہ حادثے کا شکار ہونے والی تیز گام ایکسپریس میں سفر کرنے والے میرپور خاص کے تین درجن سے زائد رہائشیوں کے اہل خانہ بھی اپنے پیاروں کے بارے میں پریشانی کا شکار ہیں۔

حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی مغفرت کے لیے فاتحہ پڑھی جا رہی ہے۔
حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی مغفرت کے لیے فاتحہ پڑھی جا رہی ہے۔

ڈپٹی کمشنر میرپور خاص عطاء اللہ شاہ بخاری نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اب تک تیز گام میں سفر کرنے والے 45 افراد کے اہل خانہ نے بتایا ہے کہ انہیں اپنے پیاروں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو رہا، لیکن انتظامیہ کے مطابق ابھی یہ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ زندہ ہیں یا پھر اس حادثے میں جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر کے مطابق ان افراد کے قریبی رشتہ داروں میں سے ایک شخص کو صوبائی حکومت کے خرچے پر ہفتے کو رحیم یارخان بھیجا جائے گا تاکہ ان افراد کا ڈی این اے سیمپل حاصل کر کے نعشوں کی شناخت کا عمل شروع کیا جا سکے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق میرپور خاص کے تبلیغی مرکز سے 74 افراد پر مشتمل قافلہ رائے ونڈ روانہ ہوا تھا۔ جن میں سے بعض مسافروں کے پاس تیزگام ایکسپریس اور بعض کے پاس ملت ایکسپریس کے ٹکٹ تھے۔

ادھر شناخت کے قابل کچھ افراد کی میتیں ان کے عزیز و اقارب کے سپرد کر دی گئی ہیں، جن میں سے سے چھ کا تعلق میرپور خاص اور دو کا عمرکوٹ سے بتایا جاتا ہے۔ یہ میتیں میرپور خاص کے مختلف علاقوں میں پہنچائی گئیں جہاں نماز جنازہ میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

حادثے کا شکار ہونے والوں کی نماز جنازہ ادا کی جا رہی ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والوں کی نماز جنازہ ادا کی جا رہی ہے۔

میرپور خاص کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن کے رہائشی فرقان احمد کے بھائی اور بھتیجا بھی اس حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ فرقان احمد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ عینی شاہدین کے مطابق ان کے بھائی وہاب احمد کو جب یہ پتا چلا کہ ریل گاڑی میں آگ لگ گئی ہے تو وہ اپنے بھتیجے کو جگانے کے لیے اس بوگی کی جانب بھاگے جو پہلے ہی شعلوں کی لپیٹ میں تھی۔ آگ کی شدت کے باعث وہ آگے نہ جا سکے اور انہوں نے چلتی ٹرین سے چھلانگ لگا دی جس سے وہ ہلاک ہو گئے۔

میرپور خاص کے علاقے غریب آباد میں واقع مکرانی مسجد سے بھی ایک درجن سے زائد افراد تبلیغی اجتماع میں شرکت کے لیے حیدرآباد سے اسی بدقسمت مسافر ٹرین میں سوار ہوئے تھے۔ چار بچوں کے باپ اور اسٹیٹ ایجنسی کا کام کرنے والے محمد نواز بھی اسی قافلے کا حصہ تھے۔ محمد نواز کے بھانجے شہریار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان کی خیریت دریافت کرنے کے لئے جب فون کیا گیا تو ریسکیو اہل کاروں نے بتایا کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے نہیں۔ جس کے بعد گھر میں کہرام مچ گیا۔

اس خوفناک حادثے میں ہلاکتوں، زخمی ہونے پر میرپور خاص میں سوگ کی فضا ہے۔ جب کہ درجنوں افراد کی خیریت کے بارے میں کسی طرح کی معلومات نہ ہونے کے باعث ان کے اہل خانہ میں بے چینی اور تفکرات پائے جاتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG