رسائی کے لنکس

logo-print

رحیم یار خان: تیزگام میں گیس سیلنڈر پھٹنے سے آتش زدگی، 73 افراد ہلاک


تیز گام ایکسپریس کراچی سے لاہور جارہی تھی جس کی اکانومی کلاس کی ایک بوگی میں سیلنڈر دھماکہ ہوا۔

رحیم یار خان کے علاقے لیاقت پور کے قریب تیز گام ایکسپریس میں گیس سیلنڈر پھٹنے سے آگ لگ گئی جس کے باعث 73 مسافر ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

متاثرہ ٹرین کراچی سے راولپنڈی جارہی تھی جس کی اکانومی کلاس کی ایک بوگی میں سیلنڈر کے دھماکے سے آگ لگ گئی۔ آگ اس قدر شدید تھی کہ اس نے مزید دو بوگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ متاثرہ بوگیوں میں سے ایک بزنس کلاس کی بوگی بھی شامل ہے۔

اطلاعات کے مطابق جس بوگی میں سیلنڈر دھماکہ ہوا اس میں تبلیغی اجتماع میں شرکت کے لیے جانے والے مسافر سوار تھے۔

حادثے کے بعد مسافروں نے جان بچانے کے لیے بوگیوں سے باہر چھلانگیں لگائیں جب کہ 10 مسافروں کی لاشیں ٹریک سے ملی ہیں۔

تیزگام میں آتش زدگی کے فوراً بعد کے مناظر
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:42 0:00

لیاقت پور کے تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال کے مطابق حادثے میں 73 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک افراد میں سے 18 کی شناخت کرلی گئی ہے جب کہ 58 لاشیں ناقابلِ شناخت ہیں۔

حادثے کے زخمیوں کو بہاولپور اور رحیم یار خان کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے جب کہ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے حادثے کو خالصتاً انسانی غلطی قرار دیا اور کہا کہ متاثرہ بوگیوں میں سوار افراد نے چلتی ٹرین میں ناشتہ بنانے کی کوشش کی تھی جس کے دوران سلنڈر پھٹنے کی وجہ سے حادثہ رونما ہوا۔

ٹرین میں آگ سیلنڈر پھٹنے سے لگی: شیخ رشید
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:56 0:00

ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے زیادہ تر مسافروں کا تعلق حیدر آباد اور میر پور خاص سے ہے۔ مسافروں سے متعلق مزید معلومات اکٹھی کی جارہی ہیں۔

حکام کی جانب سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

'متاثرہ بوگیوں میں 207 مسافر سوار تھے'

محکمہ ریلویز کے ڈویژنل کمرشل آفیسر جنید اسلم کے مطابق حادثے کا شکار اکانومی کلاس کی دو بوگیاں امیر حسین اینڈ جماعت کے نام سے بُک کی گئی تھیں۔ ایک بوگی میں 77 اور دوسری میں 76 مسافر سوار تھے۔

جنید اسلم کے مطابق اکانومی کلاس کی دو بوگیوں میں مسافر زیادہ تر حیدرآباد سے سوار ہوئے تھے جب کہ متاثرہ تیسری بزنس کلاس کی بوگی میں 54 مسافر سوار تھے۔

ڈی پی او رحیم یار خان امیر تیمور خان کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والوں میں سے 13 سے 14 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

'مسافروں نے چلتی گاڑی سے چھلانگیں لگائیں'

ریلوے حکام کے مطابق چلتی ٹرین سے ریلوے ٹریک کے قریب پتھروں پر کودنے کی وجہ سے زیادہ مسافر زخمی ہوئے۔ جن میں تین سے چار خواتین بھی شامل ہیں۔

ریسکیو حکام کے مطابق آگ ٹرین کی بوگی نمبر تین میں موجود سلنڈر پھٹنے سے لگی۔ جس نے تیزی سے مزید بوگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

اطلاعات کے مطابق متاثرہ بوگی میں سوار مسافر لاہور کے علاقے رائیونڈ میں ہونے والے تبلیغی اجتماع میں شرکت کے لیے جارہے تھے اور یہ بوگی خصوصی طور پر بک کرائی گئی تھی۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا اظہار افسوس

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی رحیم یار خان کے ٹرین حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

سیکریٹری جنرل کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے حادثے کا شکار ہونے والے افراد کے لواحقین سے بھی افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی امید ظاہر کی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG