رسائی کے لنکس

logo-print

اسلحے کی ضبطی کے بعد قبائل میں عدم تحفظ کے احساس میں اضافہ


فائل فوٹو

قبائلی رہنماؤں، تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں ک ذمہ داران کا کہنا ہے کہ تنازعات کے حل کے لیے ضروری ہے کہ سابق قبائلی علاقوں میں سرکاری اداروں کو فی الفور مضبوط بنایا جائے۔

شمالی وزیرستان سمیت سات سابق قبائلی ایجنسیوں میں عام لوگوں سے فوجی کاروائیوں کے دوران اسلحہ ضبط کرنے کے باعث ان علاقوں میں جہاں ایک جانب عدم تحفظ کا احساس بڑھا ہے، وہیں اسلحہ نہ ہونے کی وجہ سے روایتی دشمنیوں اور اختلافات میں ملوث خاندان اور گروہ اب جھگڑوں میں اسلحے کے بجائے ڈنڈوں، پتھروں اور چاقووں کا استعمال کر رہے ہیں۔

قبائلی رہنماؤں، تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں ک ذمہ داران کا کہنا ہے کہ تنازعات کے حل کے لیے ضروری ہے کہ سابق قبائلی علاقوں میں سرکاری اداروں کو فی الفور مضبوط بنایا جائے۔

قبائلی مشران کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں قیامِ امن کے لیے سکیورٹی اداروں کی کارکردگی کو بھی مؤثر بنانے کی ضرورت ہے جس سے نہ صرف ٹارگٹ کلنگ بلکہ دہشت گردی اور تشدد کے دیگر واقعات پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے جن میں حالیہ کچھ ماہ کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ایک روز قبل شمالی وزیرستان کے مرکزی قصبے میران شاہ سے ملحق گائوں شہزاد کوٹ میں دو متحارب گروہوں میں ہونے والے تصادم میں کم از کم 11 افراد زخمی ہوئے تھے۔

تصادم میں دونوں جانب سے چاقووں، ڈنڈوں اور پتھروں کا استعمال کیا گیا تھا۔ چند روز قبل بھی اسی قبائلی علاقے کے ایک اور گائوں ہمزونی میں متحارب فریقین کے درمیان ہونے والے تصادم میں 17 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

نہ صرف شمالی وزیرستان بلکہ تمام قبائلی علاقوں میں عدالتیں اور مناسب انتظامی عمل داری نہ ہونے کی وجہ سے زمین اور جائیداد سے متعلق تنازعات کی بہتات ہے۔

عرصۂ دراز سے جاری ان تنازعات کے نتیجے میں ہونے والے مسلح تصادم میں ہر سال درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہوتی رہی ہیں۔

لیکن گزشتہ کئی برسوں سے جاری فوجی کاروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے نہ صرف عام قبائلیوں سے ان کا اسلحہ لے لیا ہے بلکہ ریاستی عمل داری کے قائم ہونے کے بعد اسلحہ لے کر چلنے پھرنے اور اسلحے کی نمائش پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ ان علاقوں میں اس پابندی کے مثبت اور منفی، دونوں نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

انسانی حقوق کمیشن کے خیبر پختونخوا میں عہدیدار شیر محمد خان ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ مثبت اثرات تو خوش آئندہیں مگر منفی اثرات کے خاتمے کے لیے حکومت کو اقدامات کرنا چاہئیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں شیر محمد خان نے کہا کہ منفی عوامل باالخصوص ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی وارداتوں کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ حکومتی اداروں کو تمام تر قبائلی علاقوں میں مؤثر بنایا جائے۔

شمالی وزیرستان سے تعلق ر کھنے والے ایک سینئر صحافی نور بہرام وزیر نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلحہ لے کر چلنے پھرنے پر اور نمائش پر پابندی اور فوجی کاروائیوں کے دوران ہتھیار جمع کرنے سے قبائلی علاقوں میں خون ریز واقعات میں کافی کمی آئی ہے مگر اس سے مقامی قبائلیوں میں عدم تحفظ کا احساس بھی پیدا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ مقامی قبائلیوں کو اپنی جان و مال کی حفاظت کے لیے اسلحہ رکھنے کی اجازت دے۔

شمالی وزیرستان ہی سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی شاعر اور سیاسی کارکن حافظ شاہین اسلام نے کہا ہے کہ تنازعات کے حل کے لیے حکومت کو کردار ادا کرنا ہوگا،

انہوں نے اس سلسلے میں روایتی جرگوں کو فعال بنانے اور ان جرگوں کے ذریعے متحارب فریقین کے درمیان بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرانے پر زور دیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ دو مہینوں سے شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں تشدد اور دہشت گردی کے واقعات بالخصوص گھات لگا کر قتل کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

رواں ہفتے ہی شمالی وزیرستان کے مرکزی قصبے میران شاہ میں پاکستانی فوج کی تعمیر کردہ تجارتی مارکیٹ سے ایک دکاندار کو نامعلوم افراد نے اغوا کرنے کے بعد کچھ فاصلے پر لے جا کر گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG